Code : 2269 85 Hit

یمن جنگ سے نکلنا چاہتے ہیں لیکن راستہ نہیں مل رہا

یورپ کے ایک سفارتکار نے کہا محمد بن سلمان یمن جنگ سے نکلنا چاہتے ہیں لیکن اس کے لیے یے وہ ایک باعزت راستہ تلاش کر رہے ہیں۔

ولایت پورٹل: برطانیہ کی رائٹر نیوز ایجنسی کی رپورٹ کے مطابق سعودی عرب یمن کی تنظیم انصار اللہ کی طرف سے دی جانے والے جنگ بندی کی پیشکش کے بارے میں غور کر رہا ہے اگر یہ جنگ بندی ہو جاتی ہے تو اس سے اقوام اقوام کی جنگ کے خاتمہ کے سلسلے میں کی جانے والی کوششوں میں تیزی آئے گی، ر ائٹر نیوز ایجنسی نے اپنی رپورٹ میں لکھا ہے کہ یمن کی تنظیم انصار اللہ دو ہفتے پہلے سعودی اتحاد کو تجویز دی تھی کہ اگر وہ یمن پر حملے روک دیں  تو یہ تنظیم بھی سعودی عرب پر ڈرون اور میزائل حملے روک دے گئی، سعودی عرب نے فوری طور پر اس تجویز کو ماننے یا رد کرنے کے سلسلہ میں کسی  طرح کا اظہار خیال نہیں کیا لیکن  اس کے کچھ دن بعد سعودی عرب کے تین ڈپلومیٹک ذرائع اور دودوسرے ذرائع نے رائٹر کو بتایا کہ ریاض نے  اس تجویز کو استقبال کیا ہے اور کشیدگی کو کم کرنے کے لیے سنجیدگی کے ساتھ جنگ بندی کے طریقہ ٔ کار پر غور کیا جا رہا ہے، بعض ذرائع نے دعویٰ کیا ہے کہ انصار اللہ کےزیر کنٹرول علاقوں پر سعودی عرب کے ہوائی حملوں میں کمی آئی ہے  جس سےیہ امید کی جاسکتی ہے کہ جنگ بندی ہوسکتی ہے،سعودی  عرب کے نائب ولی عہد محمد بن سلمان نے میں ٹوئٹر اکاؤنٹ پر لکھا کہ وہ حوثیوں کی اس تجویز کو اچھا قدم سمجھتے ہیں، حوثیوں  کے ایک اعلی فوجی ذرائع نے کہا ہے کہ سعودی عرب نے اس تنظیم کے سیاسی رہنما مہدی المشاط کے ساتھ رابطہ  کے لیے ایک چینل بنایا ہے  لیکن ابھی تک کامیابی حاصل نہیں ہوئی ،ذرائع ابلاغ کا کہنا ہے کہ جنگ بندی کچھ علاقوں میں ہوگی جبکہ مکمل جنگ بندی کا آپشن بھی ہمارے سامنے ہے، ادہر انصاراللہ کے قائم مقام کا کہنا ہے کہ جب تک مکمل طور پر جنگ بندی کا معاہدہ نہیں ہوتا ہم اس کو  قبول نہیں کریں گے، انصاراللہ کے مواصلاتی وزیر نے کہا کہ ایسے معاہدے کی ضرورت ہےجس میں ہوائی حملے مکمل طور پر بند ہو ں اور یمن کا محاصرہ ختم کیا جائے ،ادھر یورپ کے ایک سفارتکار نے کہا محمد بن سلمان یمن جنگ سے  نکلنا چاہتے ہیں لیکن اس کے لیے یے وہ ایک باعزت راستہ تلاش کر رہے ہیں،ایک اور ذرائع کا کہنا ہے کہ چونکہ سعودی عرب کے پاس قابل ذکر زمینی اور بری فوج نہیں ہے لہذا اگر ہوائی حملے  بند کرنے کا معاہدہ ہوگیا  تو عملی طور پر جنگ ختم ہوجائے گی ،ادھر انصاراللہ نے دھمکی دی ہے کہ اگر ان کی جنگ بندی  سلسلے میں ان کی تجویز نہیں مانی جاتی تو وہ اپنے حملوں میں مزید شدت اختیار  کریں گے

0
شیئر کیجئے:
फॉलो अस
नवीनतम