Code : 1136 21 Hit

یزید جیسا دشمن بھی غیرت عباس(ع) کا معترف

اسے ہی رسم وفا کہتے ہیں کہ جو علم امام حسین(ع) نے حضرت ابوالفضل العباس(ع) کے سپرد کیا تھا حضرت نے اس کی بکمال مشقت حفاظت و پاسداری کی اور شجاعت کا مظاہر کرتے ہوئے اپنی جان تو دیدی لیکن علم کو نہیں چھوڑا اور رہتی دنیا تک یہ روایت قائم کردی اور امت کو سبق دیدیا کہ دشمن کے مقابل محاذ پر علم اس کے ہاتھ میں دینا چاہیئے کہ جو ہاتھ تو کٹوادے لیکن پرچم اسلام کو جھکنے نہ دے۔

ولایت پورٹل: قارئین کرام! آج ہم 4 شعبان المعظم سن 1440 ہجری کے مبارک و مسعود دن سرکار وفا حضرت ابوالفضل العباس علیہ السلام کی ایک ایسی فضیلت کا تذکرہ کررہے ہیں کہ جس کا اعتراف خود یزید بن معاویہ نے اپنے بھرے ہوئے دربار میں کیا تھا۔کہ جہاں شام کے معدودے چند لوگوں کے علاوہ اکثریت آل محمد(ص) کو خارجیوں کے طور پر جانتے تھے۔چونکہ بدقسمتی سے اہل حرم سے پہلے کبھی شام میں کسی محمد(ص) کی آل پاک کا تعارف ہی نہیں کروایا تھا۔(الفضل ما شھد بہ الاعداء)
چنانچہ جب کربلا سے اہل حرم اور قافلہ حسینی(ع) کا لٹا ہوا سامان شام میں یزید بن معاویہ کے دربار میں پہونچا وہ سامان دیکھ رہا تھا اس کی نظر سامان میں موجود ایک بلند پرچم پر بھی پڑی کہ جو جگہ جگہ سے پھٹا ہوا اور چھلنی تھا لیکن اس کے دستہ پر کوئی خراش نہ تھی۔
یزید نے تعجب سے پوچھا:حسین(ع) کے لشکر کا علمبردار کون تھا؟
بتلایا گیا: حسین کا چھوٹا بھائی عباس!
یزید یہ سن کر تعجب کے عالم میں کئی مرتبہ اپنی جگہ سے اٹھا اور کئی مرتبہ بیٹھا اور کہا:
ذرا اس پرچم کو غور سے تو دیکھو کہ تیروں اور شمشیروں کے وار سے یہ اوپر سے نیچے تک سارا چھلنی ہے لیکن اس کے دستہ پر کوئی خراش نہیں ہے کہ جسے عباس نے اپنے ہاتھوں سے پکڑ رکھا تھا  اور علم کے دستہ کا سالم ہونا اس بات کی علامت ہے کہ علمدار نے تیروں اور تلواروں کے سارے حملے اپنے ہاتھوں پر برداشت کئے لیکن اپنے ہاتھوں سے علم نہیں چھوڑا ۔( دین و تمدن،حومانی لبنانی،جلد 1، صفحه 288)
ہاں قارئین! اسے ہی رسم وفا کہتے ہیں کہ جو علم امام حسین(ع) نے حضرت ابوالفضل العباس(ع) کے سپرد کیا تھا حضرت نے اس کی بکمال مشقت حفاظت و پاسداری کی اور شجاعت کا مظاہر کرتے ہوئے اپنی جان تو دیدی لیکن علم کو نہیں چھوڑا اور رہتی دنیا تک یہ روایت قائم کردی اور امت کو سبق دیدیا کہ دشمن کے مقابل محاذ پر علم اس کے ہاتھ میں دینا چاہیئے کہ جو ہاتھ تو کٹوادے لیکن پرچم اسلام کو جھکنے نہ دے۔


0
شیئر کیجئے:
फॉलो अस
नवीनतम