Code : 1142 62 Hit

کسی گرے ہوئے کو ٹھوکر نہ مارو

لیکن دوسری طرف خود امام سجاد(ع) نے تمام خاندان علی(ع) کو پیغام دیا: کہ ہم آل رسول(ص) ہیں ہم علی(ع) کی اولاد ہیں ہماری روایت یہ نہیں ہے کہ کسی گرے ہوئے کے ٹھوکر ماریں۔اور دشمن کے کمزور و ناتواں ہوجانے کے بعد اس سے انتقام لیں۔بلکہ اس کے برخلاف ہماری روایت و اخلاق یہ ہے کہ گرے پڑوں کی مدد کریں اور ان کی فریاد کو پہونچیں۔

ولایت پورٹل: عبد الملک بن مروان کا زمانہ خلافت تھا اور اس کی طرف سے ہشام بن اسماعیل مدینہ کا گورنر تھا۔وہ اتنا ظالم اور شقی تھا کہ اس نے اہل مدینہ کو بہت ستایا اور خاص طور پر آل علی(ع) اور ان میں بھی خاص طور پر حضرت امام سجاد علیہ السلام کی توہین کرنے اور آپ کو اذیت پہونچانے میں کسی طرح کی کسر نہیں چھوڑی۔
چنانچہ عبدالملک کے بعد ولید شام میں حاکم ہوا اور اس نے سب سے پہلا کام یہ کیا کہ ہشام کو اس کے عہدے سے معزول کرکے اپنے جوان چچازاد بھائی عمر بن عبدالعزیز کو مدینہ کا گونر منتخب کردیا۔جیسے ہی تقرری کا خط لیکر عمر بن عبدالعزیز مدینہ پہونچا اس نے مدینہ کے لوگوں کے زخموں پر مرحم رکھنے اور انہیں شام کی خلافت کے تئیں وفادار رہنے کے لئے یہ حکم دیا کہ ہشام بن اسماعیل کو مروان بن حکم کے گھر کے سامنے کھڑا کردیا جائے اور اعلان عام کیا کہ جس کسی کو بھی ہشام نے اذیت پہونچائی یا ظلم کیا وہ آئے اور اس سے اپنا حساب برابر کرلے۔چنانچہ لوگ جوق در جوق آنے لگے اور ہشام کو اس کے کالے کرتوتوں کے باعث برا بھلا کہنے لگے۔
اگرچہ ہشام نے مدینہ کے اکثر لوگوں کو اپنے دور اقتدار میں ستایا تھا لیکن اس نے سب سے زیادہ امام سجاد(ع) اور خاندان علی(ع) کو اذیتیں پہونچائی تھیں چنانچہ وہ یہ سوچ رہا تھا کہ ابھی تک تو یہ وہ لوگ آرہے تھے جنہیں میں نے زیادہ نہیں ستایا لیکن میں نے علی ابن الحسین(ع) کے ساتھ تو کون سا ایسا ظلم تھا جو روا نہ رکھاہو لہذا اب اللہ ہی خیر کرے اگر کہیں سید سجاد(ع) آگئے تو ان کا انتقام تو مجھے قتل کرنے کے علاوہ اور کچھ نہیں ہوسکتا۔
لیکن دوسری طرف خود امام سجاد(ع) نے تمام خاندان علی(ع) کو پیغام دیا: کہ ہم آل رسول(ص) ہیں ہم علی(ع) کی اولاد ہیں ہماری روایت یہ نہیں ہے کہ کسی گرے ہوئے کے ٹھوکر ماریں۔اور دشمن کے کمزور و ناتواں ہوجانے کے بعد اس سے انتقام لیں۔بلکہ اس کے برخلاف ہماری روایت و اخلاق یہ ہے کہ گرے پڑوں کی مدد کریں اور ان کی فریاد کو پہونچیں۔
چنانچہ جب امام سجاد(ع) خاندان علی(ع) کے لوگوں کے ہمراہ ہشام بن اسماعیل کی طرف آرہے تھے ہشام کے چہرے کا رنگ اڑنے لگا اس طرح کہ کاٹو تو اس میں جیسے خون ہی نہ ہو اور جیسے جیسے علی(ع) کے خاندان کے لوگ اس کی طرف بڑھ رہے تھے اسے اپنی موت نزدیک آتی دکھائی دے رہی تھی لیکن اس کے گمان کے برخلاف۔جب امام سجاد(ع) اس کے قریب پہونچے تو آپ نے اسلامی آداب کی رعایت کرتے ہوئے اسے بلند آواز سے سلام کیااور اس کے ساتھ مصافحہ کیا اور اس کے ساتھ اظہار ہمدردی کرتے ہوئے کہا:’’کہ اگر میں تمہاری کوئی مدد کرسکتا ہوں تو میں حاضر ہوں‘‘۔
چنانچہ جب امام علیہ السلام کا یہ عمل ہشام نے دیکھا اس سے رہا نہ گیا اور وہ پیروں پر گر گیا سید سجاد(ع) مجھے معاف کردیجئے کہ میں نے آپ کو سب سے زیادہ ستایا ہے اور جب امام علی بن الحسین(ع) کا یہ حال مدینہ والوں نے دیکھا تو انہوں نے بھی اسے برا بھلا کہنے سے ہاتھ کھینچ لیا۔
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
منبع:
شہید مطہری، داستان راستان، ج1، ص290-289 ۔




0
شیئر کیجئے:
फॉलो अस
नवीनतम