Code : 706 67 Hit

پاکستان اور آل سعود کے تعلقات پاکستانی آئین کی خلاف ورزی(ایک تجزیہ)

سعودی عرب عالم اسلام میں امریکی و اسرائیلی مفاد کی خاطر تفرقہ ڈال رہا ہے، یمن میں جنگ لڑ رہا ہے، شام میں بھی پراکسی جنگ لڑ رہا ہے، عراق میں بھی مداخلت کرتا رہا ہے۔ اسرائیل سے لبنانی علاقے آزاد کرنیوالی حزب اللہ کے خلاف اقدامات کر رہا ہے، حماس کو بھی دہشتگرد قرار دیتا ہے، اس لئے پاکستان کے آئین کا آرٹیکل چالیس نافذ کرتے ہوئے سعودی حکومت کے بارے میں پالیسی کو تبدیل کیا جائے۔

ولایت پورٹل:آج جو بیس بلین ڈالر کی سرمایہ کاری کے ایم او یوز پر ناچ رہے ہیں، کل پھر اسی طرح روئیں گے، جسطرح افغان جہاد پر آج تک رو رہے ہیں۔ قصہ مختصر یہ کہ پاکستان کی خارجہ پالیسی بھی اسکے آئین ہی کے تابع ہونی چاہیئے۔ سعودی عرب سمیت ہر ملک سے تعلقات پر پاکستان کے آئین کے آرٹیکل چالیس کو نافذ کیا جانا چاہیئے۔ چونکہ سعودی عرب عالم اسلام میں امریکی و اسرائیلی مفاد کی خاطر تفرقہ ڈال رہا ہے، یمن میں جنگ لڑ رہا ہے، شام میں بھی پراکسی جنگ لڑ رہا ہے، عراق میں بھی مداخلت کرتا رہا ہے۔ اسرائیل سے لبنانی علاقے آزاد کرنیوالی حزب اللہ کے خلاف اقدامات کر رہا ہے، حماس کو بھی دہشتگرد قرار دیتا ہے، اس لئے پاکستان کے آئین کا آرٹیکل چالیس نافذ کرتے ہوئے سعودی حکومت کے بارے میں پالیسی کو تبدیل کیا جائے۔
ایک ایسے وقت کہ جب بادشاہت السعودیہ العربیہ کے وزیر مملکت برائے امور خارجہ عادل ال جبیر اسلامی جمہوریہ پاکستان کے دارالحکومت اسلام آباد میں ہمارے پیارے مادر وطن کے وزیر خارجہ شاہ محمود قریشی کے ساتھ بیٹھ کر ہمارے پڑوسی دوست اور برادر اسلامی ملک ایران پر جھوٹے الزامات لگا کر جا چکے ہیں، تب ضرورت جس نکتے کو سمجھنے کی ہے، وہ ہے پاکستان کا قومی مفاد۔ خود اس
اصطلاح یعنی قومی مفاد کی اپنی ایک داستان ہے کہ کس طرح یہ دنیا میں رائج کی گئی۔ جو افراد بین الاقوامی تعلقات کی شدھ بدھ رکھتے ہیں، وہ یہ بھی ضرور جانتے ہیں کہ ڈپلومیسی یعنی موجودہ عالمی نظام میں سفارتکاری کس طرح کی جاتی ہے اور سفارتی حکام کس طرح گیم تھیوری کے ذریعے رائے قائم کرکے سفارشات مرتب کرتے ہیں یا کسی معاملے پر موقف اختیار کرتے ہیں۔ یہ سبھی پہلو اہمیت کے حامل ہوتے ہیں، لیکن کسی بھی ملک کی پالیسی کی بنیاد اس ملک کا اپنا دستور (آئین) ہی ہوتا ہے۔ یقیناً خارجہ پالیسی میں انٹرنیشنل لاء کو ملحوظ خاطر رکھنا بھی لازم ہے، لیکن ملکی و بین الاقوامی سیاست کی ابجد سطح تک کی بھی معلومات جس کے پاس ہے یا جو بین الاقوامی سیاسی داؤ پیچ کی تاریخ سے واقف ہے، وہ اچھی طرح جانتا ہے کہ انٹرنیشنل لاء بھی اگر ملکوں کے قومی مفاد کا خیال نہ رکھے تو ملک بھی غیر اعلانیہ اپنے قومی مفاد کو قربان نہیں کیا کرتے۔ اصولی طور قومی مفاد بھی آئین ہی کے تابع ہوتا ہے، خواہ وہ انٹرنیشنل لاء کے تابع ہو یا نہ ہو۔
پاکستان بھی ایک نظریئے کا نام ہے، یعنی ایک نظریاتی مملکت (نیشن اسٹیٹ یا ریاست) ہے۔ یہ ملک اپنا ایک آئین رکھتا ہے، جس میں نہ صرف شہریوں کے بنیادی حقوق کو تسلیم کیا گیا ہے بلکہ خارجہ پالیسی کا بنیادی اصول بھی بیان کیا گیا ہے۔ شہریوں کے جہاں دیگر حقوق ہیں، انہی میں اظہار رائے کی آزادی بھی ہے، جو کہ آئین کے آرٹیکل انیس (19) میں واضح طور بیان کی گئی ہے۔ آئین پاکستان میں خارجہ پالیسی کے حوالے سے آرٹیکل چالیس (40) موجود ہے۔ ریاست پاکستان کے سعودی عرب اور ایران سمیت دنیا کے کسی بھی ملک کے ساتھ تعلقات کو آئین کی شق چالیس کے تابع رہنا چاہئے، اگر یہ تعلقات پاکستان کے آئین کی خلاف ورزی پر مبنی ہوں تو اسے آئین کے تابع بنایا جانا چاہیئے۔ آئین کا آرٹیکل چالیس کہتا ہے:
Strengthening bonds with Muslim world and promoting international peace. The State shall endeavour to preserve and strengthen fraternal relations among Muslim countries based on Islamic unity, support the common interests of the peoples of Asia, Africa and Latin America, promote international peace and security, foster goodwill and friendly relations among all nations and encourage the settlement of international disputes by peaceful means.

کتاب بعنوان’’ آئین پاکستان‘‘ میں ڈاکٹر صفدر محمود نے اس شق کا اردو ترجمہ یوں کیا ہے: "حکومت مسلمان ممالک سے اسلامی اخوت کی بنیاد پر تعلقات کو مضبوط تر بنانے کی کوشش کرے گی۔ ایشیاء، افریقہ اور لاطینی امریکا کے عوام کے مشترکہ مفادات کی حمایت کرے گی۔ عالمی امن کے قیام کی جدوجہد کرے گی۔ اقوام عالم میں دوستی کی فضا پیدا کرے گی اور بین الاقوامی مسائل کے پرامن حل کے اصول کی حمایت کرے گی۔" ایک طرف پاکستان کا آئین ہے اور دوسری طرف سعودی عرب اور ایران۔ سعودی عرب وہ ملک ہے، جس نے بعض مسلمان ممالک کی افواج پر مشتمل فوجی اتحاد بناکر یمن پر یلغار کر رکھی ہے، یمن کی جغرافیائی حدود کی خلاف ورزی کرتے ہوئے اس پر جارحیت کا ارتکاب کر رہا ہے۔ یمن خود ایک آزاد عرب مسلمان ملک ہے، جہاں اندرونی سیاسی بحران کو پرامن مکالمے و مذاکرات و سفارتکاری کے ذریعے بھی حل کیا جاسکتا تھا، لیکن ایسا نہیں ہوا۔ یمن کا مسئلہ آج کا نہیں ہے۔ جب حجاز مقدس پر جدید سعودی سلطنت کے بانی شاہ عبدالعزیز آل سعود حملہ آور ہوئے اور جس طرح مکہ مدینہ پر قبضہ کیا تو ساتھ ہی بعض ایسے علاقوں پر بھی قبضہ کیا، جو یمن کا حصہ ہوا کرتے تھے۔ مشرق وسطیٰ سے متعلق مورخین سے رجوع کرکے معلوم کرلیں کہ اس حوالے سے حقیقت کیا ہے۔ پھر یہ کہ جب جمال عبدالناصر مصر کے حکمران تھے، تب بھی یمن میں سعودی مداخلت کی گئی تھی۔ یمن اور سعودی کشیدگی کی اپنی تاریخ ہے اور یہ انقلاب اسلامی ایران سے بہت پہلے سے اپنا وجود رکھتی ہے۔ آج کی صورتحال پر ایران کے وزیر خارجہ نے چار نکاتی پرامن حل برائے یمن تجویز کیا ہے، اسکا مطالعہ کیجیے تو یمن میں سعودی عرب جو کچھ کر رہا ہے، وہ پاکستان کے آئین کے مطابق قابل قبول ہے یا ایران کے وزیر خارجہ جواد ظریف کا تجویز کردہ حل؟ فیصلہ خود کرلیں۔
ایران اور سعودی عرب کے درمیان فرق یہ ہے کہ اسلامی انقلاب کے بعد کے ایران نے کبھی پاکستان پر دباؤ نہیں ڈالا کہ فلاں ملک کے خلاف ہمارے لئے فوجی بھیجو، مدد کرو جبکہ سعودی عرب نے جمال عبدالناصر کے حامی یمنیوں کو سزا دینے کے لئے اس وقت بھی پاکستان کو گھسیٹا تھا۔ دوسرا فرق یہ ہے کہ سعودی عرب کا اپنا کوئی مفاد ہوتا نہیں ہے بلکہ وہ امریکا کے سامراجی مفادات پر خادم حرمین شریفین کا مقدس ٹھپہ لگاتا آیا ہے۔ انقلاب ایران نے کبھی کسی سامراجی مفاد کو اپنے مفاد کا نقاب نہیں ڈالا ہے۔ حرکت انصار اللہ المعروف حوثی تحریک اپنے ملک کے اندر شراکت اقتدار کے عادلانہ فارمولا کی قائل ہے اور اسکے ساتھ یمن کے سنی عرب بھی کھڑے ہیں جبکہ خود حوثی ایران کے ہم مسلک نہیں ہیں بلکہ زیدیہ مسلک سے تعلق رکھتے ہیں۔ یمن کے سابق حکمران فوجی جرنیل علی عبداللہ صالح بھی زیدیہ مسلک کے پیروکار تھے، لیکن ایک طویل عرصے تک سعودی عرب نے ان کی سرپرستی کی۔ اس لئے یمن کے ایشو پر مسلکی لیبل لگانا بھی عدل و عقل کے خلاف ہے۔ یمن کے ساتھ آج سعودیہ وہی کر رہا ہے، جو اس سے قبل مختلف ممالک میں کرچکا ہے اور خاص طور پر افغانستان میں سوویت یونین کے خلاف امریکی و مغربی بلاک کی جنگ کو بھی سعودی عرب نے ہی جہاد کا مقدس لیبل چسپاں کیا تھا۔ نائن الیون بھی سعودی عرب کی اس پالیسی کا نتیجہ تھا اور نائن الیون کے بعد بھی سعودی عرب امریکا کے ساتھ چپکا رہا اور نائن الیون کے بعد بھی امریکا نے سعودی عرب کے ذریعے پاکستان کے حکمرانوں کو استعمال کیا۔ ان دنوں شہزادہ بندر بن سلطان یہ کام کیا کرتے تھے، اب بندر کے چچازاد محمد بن سلمان کر رہے ہیں۔
عادل الجبیر نے اسلام آباد میں بیٹھ کر ایران پر جھوٹے الزامات لگا کر دنیا کو یہ پیغام دیا کہ پاکستان انکا ملازم ہے، نہ کہ ایک آزاد مملکت۔ عادل الجبیر سعودی وزیر خارجہ ہوا کرتے تھے، لیکن جب جمال خاشقچی کے قتل کے بعد وہ سعودی عرب کا دفاع کرنے میں ناکام رہے تو انہیں مکمل وزیر سے ماتحت وزیر یعنی وزیر مملکت بنا دیا گیا اور ابراہیم العساف کو سعودی عرب کا قائم مقام وزیر خارجہ بنا دیا گیا۔ اس طرح ال جبیر خود اپنی نوکری پکی کرنے کے چکر میں ہیں۔ پاکستان کے آئین کے تحت پاکستان کے قانون ساز ادارے نے متفقہ قرارداد منظور کرکے کسی بھی دوسرے ملک پر جنگ میں شرکت کو مسترد کر دیا تھا۔ چونکہ سعودی عرب میں تو منتخب جمہوری حکومت اور جمہوری ادارے ہوتے ہی نہیں، اس لئے انہیں یہ معلوم ہی نہیں کہ پاکستانی قوم نے کیا فیصلہ سنایا تھا۔ سفارتی اخلاقیات کے تحت دیکھا جائے، تب بھی سعودی وزیر خارجہ کا بیان سفارتی آداب کے منافی تھا۔ انکی یمن پر جنگ بھی نہ صرف پاکستانی آئین، اسلامی شریعت، بلکہ انٹرنیشنل لاء کے تحت بھی غیر قانونی ہے۔ ایک غیر شرعی و غیر قانونی جنگ لڑنے والی مملکت کے نمائندے پر لازم تھا کہ وہ پاکستان کی سرزمین کو ایران کے خلاف استعمال نہ کرتا۔ ایمل کاسی کیس میں پاکستانیوں کو امریکی عدالت میں گالی دی گئی، یمن میں سعودی و اماراتی جنگ میں شرکت نہ کرنے پر پاکستان کو متحدہ عرب امارات کے وزیر مملکت انور قرقاش نے بھی دھمکیاں دیں، پوری ملت کی تضحیک کی۔
سعودی ولی عہد سلطنت ایم بی ایس کے دورے سے پہلے حکومت پاکستان کی وزارت داخلہ نے ایک حکمنامہ جاری کیا، جو نہ صرف آئین کے آرٹیکل انیس کی خلاف ورزی پر مشتمل تھا بلکہ نظریہ پاکستان اور پورے آئین پاکستان کی روح کے ہی برخلاف متعصبانہ و فرقہ پرستانہ تھا۔ اس میں ایم بی ایس پر تنقید کرنے والوں یا اسکے خلاف سوشل میڈیا پر رائے دینے والوں یا مظاہرے اور ریلیاں کرنے والوں کا پاکستان کا باغی قرار دیا گیا۔ سعودی عرب کے حوالے سے کسی کو یہ شک نہیں رہنا چاہیئے کہ اس نے ہمیشہ امریکی سامراج کے مفادات کا تحفظ کیا ہے۔ جس کو شک ہے، وہ امریکی حکام کے بیان کردہ یا تحریر کردہ موقف کا مطالعہ کرلے۔ چونکہ ایران یا اس کے حامی امریکی سامراجی بیانیے کے مخالف ہیں، انکی سامراجی سازشوں پر تنقید کرتے ہیں، چونکہ وہ اسرائیل کو جعلی ریاست کہتے ہیں، اس لئے امریکا و اسرائیل ایران کے مخالف ہیں اور امریکی اور اسرائیلی بیانیہ پر سعودی بادشاہت نے خادم حرمین شریفین کا ٹھپہ لگا کر پاکستان سمیت پوری دنیا میں پھیلا دیا ہے۔ جب ریاست پاکستان کا بیانیہ یہ ہے کہ ہم نے امریکا کی جنگ لڑی، نقصان اٹھایا تو اسکا مطلب یہ ہے کہ ریاست پاکستان نے سعودی عرب کی جنگ لڑی اور ستر ہزار پاکستانیوں کے لاشے گرے، سوا سو بلین ڈالر کا مالی نقصان ہوا۔ بیس بلین ڈالر مالیت کی سرمایہ کاری کے صرف ایم او یوز یعنی مفاہمت کی یادداشتوں پر دستخط سے سعودی وزیر مملکت نے ایران کے خلاف پاکستان کی سرزمین استعمال کرلی، جب پیسے آئیں گے تو کیا ہوگا۔؟
عبدالمالک ریگی کا پورا نیٹ ورک پاکستان میں تھا، اس کے پاس پاکستانی شناختی دستاویزات تھیں اور ملا منصور بھی ایران میں پاکستانی شناخت پر ہی جایا کرتا تھا۔ ایران میں پاکستان کا کوئی سفارتکار یا فوجی اہلکار شہید نہیں کیا گیا، لیکن پاکستان میں ایرانی سفارتکار صادق گنجی، محمد علی رحیمی، ایرانی انجینیئر، فوجی کیڈٹس شہید کئے گئے۔ پاکستان کے آئین کے تحت دیکھیں تو جن مفادات کو پاکستان کا قومی مفاد قرار دیا جاتا رہا ہے، وہ وقت گذرنے کے بعد امریکی اسرائیلی مفاد ثابت ہوچکے ہیں، ایسے مفادات جس میں سعودی عرب سہولت کار ریاست ہوتی ہے۔ وزارت داخلہ کے نوٹیفکیشن سے عادل ال جبیر کی ہرزہ سرائی تک جو معاملہ ہے، اس کا ایک سرا آئین شکن سابق آرمی چیف اور صدر جنرل پرویز مشرف کے اس اعتراف میں ہے کہ انہیں سعودی بادشاہ عبداللہ نے لندن اور دبئی میں اپارٹمنٹس خریدنے کے لئے کئی ملین ڈالرز دیئے تو ایک سرا سابق آرمی چیف راحیل شریف کی صورت میں ہے کہ وہ پاکستان کے قانون کی مخالفت کرتے ہوئے خود جاکر سعودی عرب کے ملازم بن گئے اور پھر ان کے پروٹوکول افسر بن کر پاکستان آئے اور محمد بن سلمان کے دورے کے انتظامات کئے۔
سعودی ہو یا امریکی امداد، یہ قرضے ہیں، جو پاکستان کے عوام ہی کو اتارنے ہیں، پاکستان کی حکومت جتنا بھی قرضہ لے لے، اسکی ادائیگی پاکستان کے عوام کرتے ہیں، مختلف مد میں جو ٹیکسز وصول کئے جاتے ہیں، حکومت کی آمدنی عوام کے ادا کردہ ٹیکسز ہی ہیں۔ خواہ انکم ٹیکس ہو یا سیلز ٹیکس ہو، درآمدی ٹیکس ہو یا برآمدی۔ بیس بلین ڈالر خیرات میں نہیں مل رہے ہیں۔ سی پیک پر اس سے دو اڑھائی گنا زیادہ چین نے سرمایہ کاری کی ہے، لیکن چین نے اس طرح اسلام آباد میں بیٹھ کر امریکا کے خلاف بیان نہیں دیا ہے۔ آج جو بیس بلین ڈالر کی سرمایہ کاری کے ایم او یوزپر ناچ رہے ہیں، کل پھر اسی طرح روئیں گے، جس طرح افغان جہاد پر آج تک رو رہے ہیں۔ قصہ مختصر یہ کہ پاکستان کی خارجہ پالیسی بھی اس کے آئین ہی کے تابع ہونی چاہیے۔ سعودی عرب سمیت ہر ملک سے تعلقات پر پاکستان کے آئین کے آرٹیکل چالیس کو نافذ کیا جانا چاہیئے۔ چونکہ سعودی عرب عالم اسلام میں امریکی و اسرائیلی مفاد کی خاطر تفرقہ ڈال رہا ہے، یمن میں جنگ لڑ رہا ہے، شام میں بھی پراکسی جنگ لڑ رہا ہے، عراق میں بھی مداخلت کرتا رہا ہے۔ اسرائیل سے لبنانی علاقے آزاد کرنیوالی حزب اللہ کے خلاف اقدامات کر رہا ہے، حماس کو بھی دہشت گرد قرار دیتا ہے، اس لئے پاکستان کے آئین کا آرٹیکل چالیس نافذ کرتے ہوئے سعودی حکومت کے بارے میں پالیسی کو تبدیل کیا جائے، گیم تھیوری کے لحاظ سے دیکھیں تو امریکی سعودی عرب کے ذریعے پاکستان کے ساتھ پوکر کا کھیل کھیل رہے ہیں جبکہ پاکستانی حکام کو معلوم ہی نہیں کہ ان کے ہاتھوں میں کونسا کارڈ ہے، جبکہ علامہ اقبال نے فرزیں اور پیادہ سے متعلق بات کی تھی، یعنی اگر یہ بساط ہوتی، تب بھی شاطر کا ارادہ تو فرزیں سے بھی پوشیدہ ہی رہنا تھا، پاکستان کا کردار تو پیادہ ہونا تھا۔ بساط تو سامنے نظر آنے والی چیز ہے، جب پاکستان کے نظریاتی جد نے بساط میں پیادہ تو کیا فرزیں کو بھی خبردار کر دیا تھا تو پوکر گیم جس میں اگلے کارڈز کا معلوم ہی نہیں، اس کی بنیاد پر اگلے پر اعتماد کیسے کیا جاسکتا ہے؟ جس ملک سعودی عرب نے امریکی اسرائیلی مفاد کو اپنا مفاد قرار دے رکھا ہو اور جس نے پاکستان سے تعلقات کے لئے ایران کو قربان کرنے، ایران کے خلاف پاکستان کی سرزمین استعمال کرنے کی قیمت مقرر کر رکھی ہو، جب اس سعودی عرب نے مسلمانوں اور عربوں کے ہی اسلامی و قومی مفادات کو قربان کر دیا ہو تو ایسے مفاد کو پاکستان کا قومی مفاد صرف وہی کہہ سکتے ہیں، جنہیں لندن، دبئی میں گھر یا پھر کہیں شاہی ملازمت عطا کی گئی ہو۔
اسلام ٹائمز


0
شیئر کیجئے:
फॉलो अस
नवीनतम