Code : 1155 26 Hit

وہابی بننے کی بنیادی شرط

اگر کوئی شخص محمد بن عبد الوہاب کی تحریک(وہابیت) سے جڑتا تھا اور اس نے ماضی میں حج بیت اللہ بھی کررکھا تھا تو محمد بن عبدالوہاب اس سے کہتا کہ: تم دوبارہ فریضہ حج انجام دو چونکہ تمہارا گذشتہ حج زمانہ کفر میں انجام پایا ہے۔نیز اگر کوئی شخص محمد بن عبدالوہاب کا پیروکار و مطیع بنتا تو وہ اس سے کہتا کہ تم دوباہ کلمہ شہادتین پڑھو اور نیز یہ اعتراف بھی کرو کہ تم پہلے کافر تھے اور تمہارے والدین بھی حالت کفر میں مرے ہیں۔ نیز یہ بھی گواہی دو کہ ماضی کے سارے علماء کافر تھے اور وہ حالت کفر میں دنیا سے گئے ہیں۔ اور اگر کوئی اس کے بتائے ہوئے طریقہ پر اپنے مسلمان ہونے کا اعلان کرتا تو وہ اسے زندہ چھوڑتا تھا ورنہ وہ اسے موقع پر ہی قتل کردیتا تھا۔نیز زینی دحلان وضاحت کرتے ہیں: محمد بن عبدالوہاب گذشتہ 6 صدیوں سے امت کو کافر مانتا تھا نیز اس کی نظر میں وہ شخص بھی کافر تھا جس نے اس کی اتباع نہیں کی چنانچہ وہ گذشتہ چھ سو برسوں کے دوران تمام مسلمانوں کو مشرک سمجھتا تھا کہ جن کے جان و مال اور عزت و ناموس مباح

ولایت پورٹل: کسی بھی دین یا مذہب کو قبول کرنے اور اپنانے کے کچھ اصول اور خاص آداب و طریقے ہوتے ہیں اور جب تک انسان اس دین یا مذہب کے ان بنیادی شرائط و قوانین کو باضابطہ طور پر قبول نہیں کرتا اسے اس دین یا مذہب کا پیروکار شمار نہیں کیا جاتا۔مثال کے طور پر دین اسلام میں داخل ہونے اور اسے قبول کرنے کی سب سے بنیادی شرط یہ ہے کہ انسان اپنی زبان پر کلمہ شہادتین جاری کرے ۔یعنی اللہ تعالٰی کی وحدانیت اور پیغمبر اکرم(ص) کی رسالت اور آپ کے خاتم النبیین ہونے کو تسلیم کرے۔لہذا جو شخص کلمہ پڑھ لے (اگرچہ صرف ظاہری طور پر ہی سہی) تو اسلام کی رو سے  اس کی جان مال اور عزت و ناموس دیگر مسلمانوں کے یہاں محترم شمار ہوتے ہیں۔اور یہ وہ امتیاز ہے جس کا تذکرہ کُتب احادیث میں صراحت کے ساتھ مل جاتا ہے اور اس اصول کو تمام اسلامی مذاہب(فرقے) مسلّم اصول کے طور پر تسلیم کرتے ہیں۔ لہذا یہی وجہ ہے کہ تمام مسلمان آپس میں ایک دوسرے کو بھائی جانتے ہیں اور ایک دوسرے کی جان و مال،اور عزت و ناموس کا خیال رکھتے ہیں۔
یوں تو مسلمانوں کے سبھی فرقے اپنے حق پر ہونے کی بات کرتے ہیں لیکن اس بیچ جہاں سب سے زیادہ اپنے حقدار ہونے کا ڈھنڈورا پیٹا جاتا ہے وہ وہابی فرقہ ہے۔ اور صرف یہی نہیں کہ وہابی اپنے کو سچا اور پکا مسلمان جانتے ہیں بلکہ اپنے مقابل تمام مسلمانوں کو(چاہے سنی ہوں یا شیعہ) کافر جانتے ہیں۔
جس طرح ہر مذہب کے کچھ خاص اصول ہیں کہ ان کے بغیر کسی کو اس مذہب کا تابع نہیں کہا جاسکتا جیسا کہ شیعہ اثنا عشری مذہب(یعنی مذہب اہل بیت(ع) کے کچھ مخصوص عقائد و اصول ہیں جنہیں مانیں بغیر کوئی شیعہ، شیعہ ہی نہیں ہوسکتا مثال کے طور پر:
امامت: امامت شیعت کا وہ بنیادی عقیدہ ہے جس کے بغیر کسی کو شیعہ تصور ہی نہیں کیا جاسکتا جس کا ماحصل یہ ہے کہ: سرکار ختمی مرتبت(ص) نے اپنے بعد امت کی زعامت و ہدایت کے لئے اللہ کے حکم سے اپنے بارہ جانشین مقرر کئے تھے کہ جن میں پہلے حضرت علی(ع) اور آخری حضرت مہدی(عج) ہیں۔
عدل الہی:یہ عقیدہ بھی شیعت کا ایک اہم عقیدہ ہے اگرچہ اہل سنت کے کچھ دیگر مکاتب فکر بھی عدل الہی کو اپنے اصول مذہب کے طور پر قبول کرتے ہیں جیسا کہ معتزلہ۔لیکن ان کے یہاں تعریف اور حدود عدل میں شیعوں سے کافی اختلاف پایا جاتا ہے۔
بہر کیف یہ تو ایک عام بات ہے کہ کسی بھی مذہب میں داخل ہونے کے لئے اس کے بنیادی اصول پر عقیدہ کا استوار ہونا ضروری ہے لیکن آج کے مضمون میں ہم آپ کی خدمت میں یہ عرض کریں کہ وہابیت میں داخل ہونے کے لئے کن اصول کی پابندی اور کن عقائد پر عقیدہ ضروری ہوتا ہے؟ آئیے شروع کرتے ہیں وہ بات جس کا آپ کو انتظار ہے:
اپنے زمانے میں مکہ مکرمہ کے مفتی احمد زینی دحلان وہابیت میں داخل ہونے کے اصول کو بیان کرتے ہوئے رقمطراز ہیں:’’ كان محمّد بن عبد الوهّاب إذا اتّبعه أحد وكان قد حجّ حجّة الإسلام، یقول له: حجّ ثانیاً! فإنّ حجّتك الأولى فعلتها وأنت مشرك، فلا تقبل، ولا تسقط عنك الفرض. وإذا أراد أحد الدخول فى دینه، یقول له بعد الشهادتین: اشهد على نفسك إنّك كنت كافراً، وعلى والدیك أنّهما ماتا كافرین، وعلى فلان وفلان، ویسمّى جماعة من أكابر العلماء الماضین أنّهم كانوا كفّاراً، فإن شهد قبله، وإلّا قتله، وكان یصرّح بتكفیر الأمّة منذ ستّمائة سنة، ویكفّر من لا یتّبعه، ویسمّیهم المشركین، ویستحلّ دماءهم وأموالهم‘‘۔(۱)
اگر کوئی شخص محمد بن عبد الوہاب کی تحریک(وہابیت) سے جڑتا تھا اور اس نے ماضی میں حج بیت اللہ بھی کررکھا تھا تو محمد بن عبدالوہاب اس سے کہتا کہ: تم دوبارہ فریضہ حج انجام دو چونکہ تمہارا گذشتہ حج زمانہ کفر میں انجام پایا ہے۔نیز اگر کوئی شخص محمد بن عبدالوہاب کا پیروکار و مطیع بنتا تو وہ اس سے کہتا کہ تم دوباہ کلمہ شہادتین پڑھو اور نیز یہ اعتراف بھی کرو کہ تم پہلے کافر تھے اور تمہارے والدین بھی حالت کفر میں مرے ہیں۔ نیز یہ بھی گواہی دو کہ ماضی کے سارے علماء کافر تھے اور وہ حالت کفر میں دنیا سے گئے ہیں۔ اور اگر کوئی اس کے بتائے ہوئے طریقہ پر اپنے مسلمان ہونے کا اعلان کرتا تو وہ اسے زندہ چھوڑتا تھا ورنہ وہ اسے موقع پر ہی قتل کردیتا تھا۔نیز زینی دحلان وضاحت کرتے ہیں: محمد بن عبدالوہاب گذشتہ 6 صدیوں سے امت کو کافر مانتا تھا نیز اس کی نظر میں وہ شخص بھی کافر تھا جس نے اس  کی اتباع نہیں کی چنانچہ وہ گذشتہ چھ سو برسوں کے دوران تمام مسلمانوں کو مشرک سمجھتا تھا کہ جن کے جان و مال اور عزت و ناموس مباح تھے۔
قارئین آپ نے ملاحظہ کیا کہ یہ وہ حقیقت ہے جس سے کوئی وہابی انکار نہیں کرسکتا اور اگر کوئی انکار کرے تو کرے۔ تاریخ کے دامن میں یہ سب چیزیں محفوظ ہیں کہ محمد بن عبدالوہاب کے نزدیک ماضی کے سارے مسلمان(چاہے وہ کسی بھی مکتب فکر و فقہ سے منسلک ہوں)کافر،مشرک اور مھدور الدم تھے اور جو بھی وہابی مسلک کو قبول نہیں کرتا تھا اس کی نظر میں وہ بھی کافر،مشرک اور مھدور الدم تھا۔
اب سوال یہ ہے کہ ایک طرف تو مسلمانوں کی معتبر ترین کتابوں میں اس مضمون کی بے شمار روایات موجود ہیں کہ  جو شخص اللہ تعالٰی کی وحدانیت اور رسول اللہ(ص) کی رسالت و نبوت کا اقرار کرلے وہ مسلمان ہے اور اس کی جان و مال اور عزت و ناموس سب محفوظ ہیں۔ لیکن دوسری طرف وہابیت کا سربراہ اور مؤسس یہ کہتا ہے کہ تم سب کافر ہو۔ اور تمہاری جان و مال محترم نہیں ہے ۔اب کسی کی مانی جائے؟ اسلام کے قانون اور احادیث کا اتباع کیا جائے یا محمد بن عبدالوہاب کا؟
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
حوالہ:
1۔الدرر السنیّة: 1/ 46، الفجر الصادق لجمیل صدقى الزهاوى: 17، كشف الارتیاب: 135 نقلا عن خلاصة الكلام: 229- 330 لدحلان‏ ۔


0
شیئر کیجئے:
फॉलो अस
नवीनतम