Code : 446 168 Hit

نہج البلاغہ میں عورت کی مذمت کیوں؟

خلاصہ کلام یہ کہ اس طرح کی روایات صرف علی علیہ السلام سے ہی نقل نہیں ہوئی ہیں بلکہ ایسے بہت سے مضمون خود سرکار رسالتمآب(ص) کے کلام میں بھی پائے جاتے ہیں ۔لیکن یقیناً ان روایات سے مراد یہ نہیں ہے ساری دنیا کی اور ہر زمان و مکان کی رہنے والی خواتین ناقص العقل اور تدبر و تفکر کا جوہر ان میں کمزور و ضعیف ہوتا ہے۔ بلکہ حضرت نے اس خطبہ میں عورت کی طبیعی اور فطری چیزوں کی طرف اشارہ کیا ہے جو اس کی حقیقت کو بیان کرتی ہے لیکن اس کا مطلب یہ ہرگز نہیں ہے کہ عورت کمال تک نہیں پہونچ سکتی۔بلکہ جس طرح کمال کا راستہ مرد کے لئے کھلا ہے ویسے ہی عورت کے لئے بھی کھلا ہے،جس طرح مرد قرب الہی کے عظیم مراتب پر فائز ہوسکتا ہے ویسے ہی عورت بھی ہوسکتی ہے۔

ولایت پورٹل: قارئین کرام! ابھی کئی دن پہلے میری نظروں سے ایک پوسٹ گذری جس میں امیرالمؤمنین حضرت علی(ع) کے خطبہ نمبر 80 کے یہ ابتدائی فراز:’’مَعَاشِرَ النَّاسِ إِنَّ النِّسَاءَ نَوَاقِصُ الْإِیمَانِ نَوَاقِصُ الْحُظُوظِ نَوَاقِصُ الْعُقُولِ‘‘۔دیئے ہوئے تھے اور اس سے یہ نتیجہ نکالا گیا تھا کہ معاذ اللہ! حضرت علی(ع) نے خواتین کو ناقص العقل بتایا ہے لہذا کوئی عورت چاہے جتنے بڑے منصب پر فائز ہوجائے،چاہے جتنی ترقی کرلے وہ کبھی کمال تک نہیں پہونچ سکتی؟
قارئین کرام! سب سے پہلے تو ہم انہیں یہ یاد دلادیں کہ جہاں حضرت نے خواتین کے ناقص العقل ہونے اور ناقص الایمان ہونے کی بات کہی ہے وہیں ان سب کی وجوہات بھی بیان فرمائی ہے آئیے ایک نظر ڈالتے ہیں اس خطبہ کے ان فراز پر جہاں آپ نے ام نقائص اور عیوب کے اسباب اور علت کو بیان فرمایا ہے:’’مَعَاشِرَ النَّاسِ إِنَّ النِّسَاءَ نَوَاقِصُ الْإِیمَانِ نَوَاقِصُ الْحُظُوظِ نَوَاقِصُ الْعُقُولِ فَأَمَّا نُقْصَانُ إِیمَانِهِنَّ فَقُعُودُهُنَّ عَنِ الصَّلَاةِ وَ الصِّیَامِ فِی أَیَّامِ حَیْضِهِنَّ وَ أَمَّا نُقْصَانُ عُقُولِهِنَّ فَشَهَادَةُ امْرَأَتَیْنِ كَشَهَادَةِ الرَّجُلِ الْوَاحِدِ وَ أَمَّا نُقْصَانُ حُظُوظِهِنَّ فَمَوَارِیثُهُنَّ عَلَى الْأَنْصَافِ مِنْ مَوَارِیثِ الرِّجَالِ‘‘۔
اے لوگو! یاد رکھو کہ عورتیں ایمان کے اعتبار سے،میراث میں حصہ کے اعتبار سے اور عقل کے اعتبار سے ناقص ہوتی ہیں۔ایمان کے اعتبار سے ناقص ہونے کا مطلب یہ ہے کہ وہ ایام حیض میں نماز روزہ سے بیٹھ جاتی ہیں، اور عقلوں کے اعتبار سے ناقص ہونے کا مطلب یہ ہے کہ ان میں دو عورتوں کی گواہی ایک مرد کے برابر ہوتی ہے ،حصہ کی کمی یہ ہے کہ انھیں میراث میں حصہ مردوں کے آدھے حصہ کے برابر ملتا ہے۔
قارئین کرام! علم حدیث کا عام اصول یہ ہے کہ کسی بھی حدیث کو دقیق طور پر سمجھنے کے لئے حدیث کے مقدمات،مؤخرات،سیاق و سباق،پیش منظر اور پس منظر نیز حالات اور تقاضوں کو سمجھنا پڑتا ہے اور ساتھ میں یہ بھی دیکھنا ہوتا ہے کہ حدیث کا خطاب کس شخص کے متعلق ہے؟
مذکورہ بالا جملات میں اگرچہ حضرت نے بطور عام ، ایک عورت کی طبیعت اور خلقت کی حقیقت کو بیان فرمایا ہے جبکہ مصداق خارجی ایک ایسی عورت ہے جس نے اپنے عمل سے پوری صنف کی توہین کی ہے،اصل ماجرا یہ ہے کہ زوجہ رسول اکرم(ص) جناب عائشہ نے علی علیہ السلام کے مقابل جنگ کا اعلان کیا ۔یہ وہ حقیقت ہے کہ خود اہل سنت علماء بھی معترف ہیں کہ جنگ جمل کو وجود میں لانی والی یہی محترمہ تھیں،چنانچہ ابن ابی الحدید معتزلی کہ جو اہل سنت کے ایک نامور عالم ہیں اور جنہوں نے نہج البلاغہ پر شرح بھی لکھی ہے انہوں بڑی صراحت کے ساتھ یہ اقرار کیا ہے کہ: عائشہ نے علی کے خلاف جنگ جمل لڑکر بہت بڑی غلطی کی ہے ۔بہر حال جنگ جمل میں خود جناب عائشہ طلحہ و زبیر کے ساتھ مل کر ایک اونٹ پر سوار ہوئیں اور بصرہ آگئیں اس جنگ کے نتیجہ میں بہت سا خون بہا،اور آخرکار انہیں اور ان کے حلیفوں کو عبرتناک شکست کا سامنا کرنا پڑا۔حضرت علی علیہ السلام نے اس موقع پر یہ کلام ارشاد فرمایا۔
جس طرح اس جنگ’’جمل‘‘ کے اختتام پر آپ نے ایک خطبہ ارشاد فرمایا جو نہج البلاغہ میں’’ فى ذم اهل البصرة بعد وقعة الجمل‘‘ عنوان سے موجود ہے۔یعنی’’جنگ جمل کے بعد اہل بصرہ کی مذمت میں آپ(ع) کا خطبہ‘‘جس میں یہ جملہ بھی وارد ہوا ہے:’’ كنتم جند المراة و اتباع البهيمة‘‘۔اے اہل بصرہ! تم ایک عورت کے سپاہی تھے۔اور تم ایک حیوان’’اونٹ‘‘ کے پیچھے پیچھے چل رہے تھے۔(وہ اونٹ کہ جس پر عائشہ سوار تھیں) تم سے آگے آگے اونٹ تھا اور تم بھی بغیر سوچے سمجھے اس کے پیچھے پیچھے جارہے  تھے،جب اونٹ چلتا تھا تم چل پڑتے تھے اور جب وہ رکتا تھا تم بھی رک جاتے تھے۔
خیر! یہ تو وہ پس منظر تھا جس میں حضرت نے خطبہ ارشاد فرمایا تھا لیکن اس خطبہ میں جو نکات قابل غور و ملاحظہ ہیں انہیں کسی صورت بھی خواتین سے مخصوص نہیں کیا جاسکتا چونکہ ناقص الایمان ہونے کے لئے عمل کا حوالہ دینا’’ فَأَمَّا نُقْصَانُ إِیمَانِهِنَّ فَقُعُودُهُنَّ عَنِ الصَّلَاةِ وَ الصِّیَامِ فِی أَیَّامِ حَیْضِهِنَّ‘‘ اس بات کی دلیل ہے کہ ایمان میں عمل کا بہت بڑا دخل ہے اور ظاہر ہے کہ اگر عورت کو حکم خدا کی بناء پر نماز چھوڑ دینے سے ناقص الایمان کہا جاسکتا ہے تو بے نمازی اور روزہ نہ رکھنے والے مرد کو تو مکمل طور پر بے ایمان ہی کہا جائے گا۔
عورت کے مزاج کا خاصہ یہ ہے کہ وہ واقعات کے بیان میں جزبات کو ضرور شامل کردیتی ہے اور یہی چیز گواہی میں نقص پیدا کردیتی ہے ورنہ وہ شعور و ادراک کے اعتبار سے ناقص نہیں ہوتی ہے، اس کا نقص عقل پر جذبات کے غلبہ سے ظاہر ہوتا ہے اور یہی وہ چیز ہے جو مرد کو بھی ناقص العقل بنا سکتی ہے۔ یا دوسرے الفاظ میں اگر مرد اپنے فسق کی بنا پر قابل شہادت نہ رہ جائے تو اس کا شمار بھی ناقص العقل افراد ہی میں ہوگا کہ فسق کی تعلیم جذبات و خواہشات نے دی ہے عقل نے نہیں۔
واضح رہے کہ یہ مسئلہ صرف بہن بھائی کی میراث تک محدود ہے کہ مرنے والی کی اولاد میں بھائی کا حصہ زیادہ ہوتا ہے اور بہن کا کم ورنہ دیگر مسائل میں ایسا کوئی قانون نہیں ہے اور بعض اوقات تو عورت کا حصہ مرد سے بھی زیادہ ہوسکتا ہے۔
خلاصہ کلام یہ کہ اس طرح کی روایات صرف علی علیہ السلام سے ہی نقل نہیں ہوئی ہیں بلکہ ایسے بہت سے مضمون خود سرکار رسالتمآب(ص) کے کلام میں بھی پائے جاتے ہیں ۔لیکن یقیناً ان روایات سے مراد یہ نہیں ہے ساری دنیا کی اور ہر زمان و مکان کی رہنے والی خواتین ناقص العقل اور تدبر و تفکر کا جوہر ان میں کمزور و ضعیف ہوتا ہے۔ بلکہ حضرت نے اس خطبہ میں عورت کی طبیعی اور فطری چیزوں کی طرف اشارہ کیا ہے جو اس کی حقیقت کو بیان کرتی ہے لیکن اس کا مطلب یہ ہرگز نہیں ہے کہ عورت کمال تک نہیں پہونچ سکتی۔بلکہ جس طرح کمال کا راستہ مرد کے لئے کھلا ہے ویسے ہی عورت کے لئے بھی کھلا ہے،جس طرح مرد قرب الہی کے عظیم مراتب پر فائز ہوسکتا ہے ویسے ہی عورت بھی ہوسکتی ہے۔
اور جالب نظر امر یہ ہے کہ خود سرکار رسول اکرم(ص) جنت کی طرف سب سے پہلے سبقت کرنے والوں کی میں بھی ایک عورت ہی کا تذکرہ کرتے ہیں اور اپنی بیٹی فاطمہ سلام اللہ علیہا کا تعارف کرواتے ہیں:’’یا سلمان انّ ابنتی لفی الخیل السوابق‘‘۔(بحارالانوار ج۸،ص۳۰۳ نقل از الدروع الواقیه، تالیف سید ابن طاووس حسنی)۔اے سلمان! میری بیٹی فاطمہ! جنت کی طرف سبقت کرنے والے گروہ میں ہے۔

0
شیئر کیجئے:
ہمیں فالو کریں
تازہ ترین