Code : 501 26 Hit

نو مولود کے کان میں اذان و اقامت کا فلسفہ

مسلمان والدین اسلام اور پیغمبر اکرم(ص) کی سنت حسنہ کو برپا کرنے میں کوتاہی نہیں کرتے۔چنانچہ ایک حدیث میں رسول خدا(ص) سے نقل ہوا ہے کہ:’’اپنے پیدا ہونے والے بچے کے دائیں کان میں اذان اور بائیں کان میں اقامت کہو چونکہ یہ کام اسے شیطان کے شر اور وسوسوں سے محفوظ رکھے گا‘‘۔

ولایت پورٹل: قارئین کرام! جب کوئی بچہ اس دنیا میں پیدا ہوتا ہے تو ہم مسلمانوں کا ہمیشہ سے یہ دستور و طریقہ رہا ہے کہ اس کے کان میں داہنے کان میں اذان اور بائیں کان میں اقامت پڑھتے ہیں چونکہ اس اسلامی شعار میں اللہ تعالٰی کی عظمت و بزرگی کی گواہی،پیغمبر اکرم(ص) کی رسالت کا اقرار اور علی علیہ السلام کے بلا فصل خلیفہ ہونے کی شہادت موجود ہوتی ہے چونکہ کسی بھی انسان کے دائرہ اسلام یا دائرہ تشیع میں داخل ہونے کی سب سے پہلی شرط یہی ہے کہ وہ اپنی زبان سے خدا کی وحدانیت، رسول اللہ(ص) کی رسالت اور علی مرتضٰی(ع) کی ولایت کی گواہی دے ۔
اگرچہ یہ بچہ ہے اسے ان مفاہیم سے کوئی آشنائی نہیں ہوتی لیکن ان مقدس اذکار کی یاد آوری در حقیقت اس کی روح ایمانی میں ارتقا کا سبب بنتی ہے اور اس کی تأثیر اس کے جسمانی اور دماغی حالات پر بھی پڑتی ہے۔
یہی وجہ ہے کہ مسلمان والدین اسلام اور پیغمبر اکرم(ص) کی سنت حسنہ کو برپا کرنے میں کوتاہی نہیں کرتے۔چنانچہ ایک حدیث میں رسول خدا(ص) سے نقل ہوا ہے کہ:’’اپنے پیدا ہونے والے بچے کے دائیں کان میں اذان اور بائیں کان میں اقامت کہو چونکہ یہ کام اسے  شیطان کے شر اور وسوسوں سے محفوظ رکھے گا‘‘۔
جس طرح زندہ مسلمان کا احترام واجب ہے اسی طرح مسلمان میت کے احترام پر بھی اسلام نے بڑی تأکید کی ہے لہذا شریعت نے مسلمان میت کے سلسلہ میں بہت سے احکام بیان کئے ہیں جیسا کہ غسل دینا،کفن پہنانا،اس پر نماز پڑھنا اور دفن کرنا وغیرہ،یہ سب چیزیں اس کے اکرام و احترام کی علامتیں ہیں۔
میت پر نماز پڑھنے کے فلسفہ اور حکمت کے سلسلہ میں امام رضا علیہ السلام سے منقول ہے کہ:’’اگر کوئی تم سے یہ دریافت کرے کہ تم لوگ اپنے مردوں پر نماز کیوں پڑھتے ہو تو اس سے یہ کہا جائے کہ ہم میت پر اس وجہ سے نماز پڑھتےہیں کہ اللہ کی بارگاہ میں میت کے شفیع بنیں اور اللہ سے اس کے لئے مغفرت طلب کریں،چونکہ میت کو سب سے زیادہ ضرورت اسی وقت ہوتی ہے کہ جب وہ اس دنیا سے جارہا ہوتا ہے اور اس کا رابطہ اس دنیا سے کٹ چکا ہوتا ہے لہذا اس کے لئے مغفرت طلب کرنی چاہیئے۔
چنانچہ وہ شخص جو اس دنیا سے گیا ہے اس کے لئے مغفرت طلب کرنا ہی نماز میت پڑھنے کا فلسفہ ہے اور یہی وجہ ہے کہ میت پر نماز پڑھنے والے تیسری تکبیر کے بعد عام مؤمنین اور مؤمنات کے دعا کرتے ہیں اور چوتھی تکبیر کے بعد خاص طور پر میت کے حق میں دعا کرتے ہیں۔(عيون اخبار الرضا(ع)،ج 2،ص 113)



0
شیئر کیجئے:
फॉलो अस
नवीनतम