نفس کو کیسے مہار کریں کہ وہ ہمیں گناہ پر نہ اکسائے

نفس کی حالت ایک الگ طرح سے ہے چنانچہ اسے ہمیشہ کسی نہ کسی کام میں لگا کر رکھنا چاہیئے یعنی ہمیشہ آپ اپنے پروگرام میں کوئی نہ کوئی کام ضرور رکھیں اور اسے اس میں مشغول رکھئے اور اسے اس کام کے کرنے پر مجبور کرتے رہئے اور اگر آپ نے ایسا نہ کیا تو وہ آپ کو ان چیزوں کی طرف لے جائے گا جسے وہ پسند کرتا ہے اور یہی وہ مقام ہے کہ جب انسان پر خیالات کے دروازے کھل جاتے ہیں۔ اب وہ سوتا ہے تو اس کے ذہن میں کچھ خیالات ہوتے ہیں۔ بازار میں ہے تو ذہن خیال بافی کررہا ہوتا ہے اور ایک مرحلہ وہ آتا ہے کہ وہ حقیقت سے دور ہوکر ایک خیالی دنیا بسا بیٹھتا ہے اور یہی خیال اسے ہزار طرح کے گناہ ،انحراف اور برائیوں میں ڈال دیتے ہیں ۔لیکن جب انسان کے پاس کام ہو تو وہ کام اسے مشغول رکھتا ہے خیالات کو اپنے تانے بانے بننے کا موقع ہی نہیں ملتا۔

ولایت پورٹل: اگر انسان اپنے خیالات کو اپنے اختیار و قابو میں نہ رکھے تو یہ ایک ایسی چیز ہے جو انسان کو فساد میں مبتلا کردیتی ہے اس کا مطلب یہ ہے کہ انسان کو اپنے خیالات پر خاص توجہ مرکوز کرنا چاہیئے۔ اگر انسان کے خیالات کی ڈور اس کے حال پر چھوڑ دی جائے اور مہار پر گرفت مضبوط نہ ہو تو یہ بہت سی اخلاقی برائیوں اور فسادات کا سبب قرار پاسکتی ہے۔
چنانچہ امیر المؤمنین علی ابن ابی طالب علیہ السلام ارشاد فرماتے ہیں:’’ النَّفْسُ انْ لَمْ تَشْغَلْهُ شَغَلَک‘‘۔اگر تم نے اپنے نفس کو کسی کام میں مشغول نہیں رکھا تو وہ تمیں اپنے آپ میں لگا لے گا۔
قارئین کرام! اس کائنات میں بہت سی ایسی چیزیں ہیں کہ اگر آپ انہیں ان کے حال پر چھوڑ دیں ان میں کوئی تبدیلی واقع نہیں ہوگی جیسا کہ پتھر اور دیگر جمادات،آپ انہیں کتنے ہی برس ایک جگہ پر چھوڑ دیں اس میں کوئی تبدیلی رونما ہونے والی نہیں ہے مثال کے طور پر آپ ایک انگوٹھی کو ہی لے لیجئے اگر آپ ایک انگوٹھی کو اپنی انگلی میں پہن لیجئے یا اٹھا کر ایک الگ جگہ کہیں لوک اپ میں رکھ دیجئے تو وہ آپ کو ویسی ہی ملے گی۔اس میں خاطر خواہ تبدیلی نہیں آئے گی۔لیکن انسان کے نفس کی حالت ایک الگ طرح سے ہے چنانچہ اسے ہمیشہ کسی نہ کسی کام میں لگا کر رکھنا چاہیئے یعنی ہمیشہ آپ اپنے پروگرام میں کوئی نہ کوئی کام  ضرور رکھیں اور اسے اس میں مشغول رکھئے اور اسے اس کام کے کرنے پر مجبور کرتے رہئے اور اگر آپ نے ایسا نہ کیا تو وہ آپ کو ان چیزوں کی طرف لے جائے گا جسے وہ پسند کرتا ہے اور یہی وہ مقام ہے کہ جب انسان پر خیالات کے دروازے کھل جاتے ہیں۔ اب وہ سوتا ہے تو اس کے ذہن میں کچھ خیالات ہوتے ہیں۔ بازار میں ہے تو ذہن خیال بافی کررہا ہوتا ہے اور ایک مرحلہ وہ آتا ہے کہ وہ حقیقت سے دور ہوکر ایک خیالی دنیا بسا بیٹھتا ہے اور یہی خیال اسے ہزار طرح کے گناہ ،انحراف اور برائیوں میں ڈال دیتے ہیں ۔لیکن جب انسان کے پاس کام ہو تو وہ کام اسے مشغول رکھتا ہے خیالات کو اپنے تانے بانے بننے کا موقع ہی نہیں ملتا۔
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
منبع:
تعلیم و تربیت در اسلام،شہید مطہری، ص278۔
 


0
شیئر کیجئے:
ہمیں فالو کریں
تازہ ترین