Code : 420 16 Hit

میثم کون تھے اور کیسے شہید ہوئے؟

میثم تمار کا روضہ مسجد کوفہ سے کئی سو میٹر کے فاصلے پر کوفہ و نجف کی عام شاہراہ پر زیارتگاہ خاص و عام ہے جس پر نیلے رنگ کا گنبد اور قبر پر ایک ضریح نصب ہے جو دنیا کو یہ پیغام دے رہا ہے کہ علی(ع) کے عشق میں انسان کو موت نہیں آتی بلکہ وہ ہمیشہ کے لئے زندہ ہوجاتا ہے۔

ولایت پورٹل: میثم تمار شہر کوفہ کے ایک کھجور بیچنے والے تھے۔آپ کا تعلق ان عجموں  سے تھا کہ جو عربوں کے درمیان رہتے تھے،جناب میثم تمار بھی دوسرے عجم لوگوں کی طرح اسلام کے بعد اسلام کو اچھی طرح سمجھنے اور خاندان رسول خدا(ص) کے عشق میں اپنا دیار چھوڑ کر عرب میں آکر آباد ہوگئے تھے۔
یہ اس زمانہ کی بات ہے جب میثم بنی اسد کی ایک عورت کے غلام تھے کہ بازار کوفہ میں علی(ع) سے ملاقات ہوگئی حضرت نے انہیں اس عورت سے خرید کر راہ خدا میں آزاد کردیا۔
میثم کا اصلی وطن
جناب میثم کے والد کا نام یحیٰ تھا اور جیسا کہ معتبر تاریخوں میں آیا ہے کہ اسلام لانے سے قبل میثم آذربائجان کے’’ران‘‘ نامی علاقہ میں رہتے تھے۔ان کے جائے ولادت کے بارے میں اختلاف ہے کچھ تاریخوں میں کرمان اور کچھ میں فارس(شیراز) جبکہ کچھ دیگر تاریخوں میں آذربائجان مرقوم ہے لیکن زیادہ قوی احتمال یہی ہے کہ میثم آذربائجان ہی کے رہنے والے تھے۔
میثم کی علی(ع) سے پہلی ملاقات
جب بازار کوفہ میں سب سے پہلی بار میثم کی ملاقات امیرالمؤمنین(ع) سے ہوئی تو آپ نے سوال کیا: تمہارا نام کیا ہے؟میثم نے جواب دیا: سالم
آپ نے فرمایا:لیکن مجھے تو اللہ کے رسول(ص) نے خبر دی تھی تمہارے باپ نے تمہارا نام میثم رکھا تھا۔میثم کو بہت تعجب ہوا کہ واقعاً اللہ کے رسول(ص) اور آپ کے جانشین برحق نے بالکل سچی خبر دی ہے کیوںکہ ان کا نام تھا ہی میثم،لیکن کوفہ تو کیا پورے علاقہ میں کسی کو بھی اس ماجرے کی کانوں کان خبر نہیں تھی۔ حضرت نے میثم سے فرمایا: آج سے تمہارا وہی قدیمی نام میثم ہے وہی نام جو تمہارے باپ نے تمہارا رکھا تھا۔ وہی نام جو اللہ کے رسول(ص) نے مجھے بتایا تھا۔
شہادت میثم اور علی(ع) کی پیشین گوئی
ایک دن صبح کا وقت تھا کہ میثم حسب معمول امیرالمؤمنین(ع) کی زیارت کے لئے شرفیاب ہوئے اور حضرت نے میثم کے سامنے ان کی شہادت کا تذکرہ چھیڑتے ہوئے فرمایا: اے میثم تم میرے بعد گرفتار کرلئے جاؤگے اور تمہیں سولی پر لٹکادیا جائے گا ، تیسرے دن تمہاری ناک سے خون بہنے لگے گا اور تمہاری داڑھی خون سے سرخ ہوجائے گی،تم ان دس لوگوں میں سے ایک ہونگے جنہیں عمرو بن حریث کے گھر کے دروازے کے سامنے فلاں درخت پر سولی سے لٹکایا جائے گا اور تمہارا پھندا ان سب میں چھوٹا ہوگا۔
پھر اس کے بعد حضرت نے میثم کو اس کھجور کے درخت کی بھی نشاندھی فرمائی جس پر میثم کو سولی دی گئی۔
میثم نے سوال کیا:یا امیرالمؤمنین(ع)! کیا واقعاً ایسا حادثہ رونما ہوگا؟
حضرت نے فرمایا: ہاں! رب کعبہ کی قسم یہ واقعہ ہوکر رہے گا چونکہ یہ راز مجھے اللہ کے رسول(ص) نے بتایا ہے۔
میثم نے جواب دیا: حقیقتاً اللہ کے رسول(ص) نے جو کچھ فرمایا ہے وہ ہوکر رہے گا اور مجھے آپ کے قول پر ایمان کامل ہے ۔چنانچہ اس کے بعد میثم جب بھی اس درخت کے پاس سے گذرتے تو اسے پانی دیتے اور وہاں نماز پڑھتے تھے۔
میثم کی شہادت 
اب امیرالمؤمنین(ع) کی اس پیشین گوئی کو ۲۰ برس گذر چکے تھے اس مدت میں امام علی(ع) شہید ہوچکے تھے اور امام حسن علیہ السلام بھی زہر دغا سے شہید کئے جاچکے تھے اور امام حسین علیہ السلام کی امامت کا زمانہ تھا۔جب عبیداللہ بن زیاد کوفہ کا حاکم بنا اس نے سب سے پہلا فرمان ہی یہی صادر کیا کہ جو لوگ امام حسین(ع) سے رابطہ میں ہیں انہیں فوراً گرفتار کرلیا جائے۔
اس فرمان کے صادر ہوتے ہی میثم کو گرفتار کرکے عبید اللہ بن زیاد کے سامنے پیش کردیا گیا۔ عبیداللہ نے میثم کی طرف بڑی حقارت سے دیکھ کر کہا کہ کیا یہ ایرانی غلام بھی اتنا گستاخ ہوگیا ہے کہ حسین سے اس کے رابطے ہیں اور عرب کے ساسی مسائل میں دخالت کرتا ہے۔
شاید کوفہ میں اس وقت کوئی ایسا نہیں تھا جو میثم کو اس عنوان سے نہ پہچانتا ہو کہ یہ علی علیہ السلام کے مخلصین میں سے ہیں یہی وجہ تھی کہ والی کوفہ نے جناب میثم کی شان میں گستاخی کی اور آپ کو نہایت ہی اذیتیں دیں اور کہا:تم علی(ع) سے برات کا اظہار کرو اور علی(ع) کی شان میں نعوذ باللہ گستاخی کرو۔ ورنہ میں تمہیں سولی پر لٹکواکر ہاتھ پیر کٹوا دوں گا۔عبیداللہ سے یہ سننا تھا کہ میثم کی آنکھوں سے اشک جاری ہوگئے ابن زیاد نے رونے کا سبب دریافت کیا ۔
جواب دیا: ابن زیاد میں تیرے قول یا عمل کے سبب گریہ نہیں کررہا ہوں میں تو اس شک کے سبب رو رہا ہوں جو اس دن میرے دل میں عارض ہوا تھا جب میرے مولا  مجھے یہ سب کچھ بتا رہے تھے جو تو کرنے والا ہے۔
ابن زیاد نے سوال کیا:ایسا تیرے مولا نے کیا کہا تھا؟
میثم نے پورا شہادت نامہ سنا دیا۔ابن زیاد نے کہا میں صرف تیرے ہاتھ پیر کاٹوں گا اور تیری زبان کو چھوڑ دوں گا تاکہ(نعوذ باللہ) تیرے حق میں علی(ع) کا کہنا جھوٹا ثابت ہوجائے۔
چنانچہ میثم کو اسی درخت سے باندھ کر ہاتھ پیر کاٹ دیئے گئے اس حال میں بھی میثم کی زبان پر علی(ع) کا ذکر تھا لوگوں سے کہا اے لوگوں جسے علی کی بات سننا ہے وہ میرے قریب آجائے لوگ جمع ہوگئے میثم نے فضائل علی(ع) کے دریا بہا دیئے ابھی کچھ دیر ہی ہوئی تھی کہ عمرو بن حریث نے ابن زیاد کو کہلوایا کہ اگر میثم کی زبان ایسے ہی چلتی رہی تو گمان غالب یہ ہے کہ کوفہ کا اختیار تیرے ہاتھ سے جاتا رہے گا ابن زیاد نے حکم دیا کہ اس کی زبان بھی کاٹ دے اور اس طرح میثم درجہ شہادت پر فائز ہوگئے۔
میثم کی تدفین
شہادت کے بعد کئی دنوں تک میثم تمار کی لاش سولی پر ہی لٹکی رہی اور ابن زیادہ نے اس وجہ سے کسی کو بھی میثم کے دفن کرنے کی اجازت نہیں دی تاکہ یہ منظر لوگوں کے دل و دماغ میں بیٹھ جائے کہ علی اور آل علی(ع) کی پیروی کرنے والوں کا یہی انجام ہوگا۔
چنانچہ یہ منظر اتنا سخت تھا کہ اگرچہ کوفہ کے لوگوں سے اس کا برداشت کرنا مشکل تھا لیکن کیا کیا جائے جب لوگوں کے دل و ضمیر ہی مرچکے ہوں۔ لیکن 7 جوان جو میثم کے ساتھ کھجور فروخت کرنے کا کام کرتے تھے ان سے یہ منظر برداشت نہ ہوا انہوں نے یہ عہد کیا کہ وہ کسی صورت میثم کی لاش کو دفن کریں گے چنانچہ اپنے بنائے ہوئے نقشے پر عمل کرتے ہوئے انہوں نے میثم کو کھولا اور کچھ دور کے فاصلہ پر ایک سوکھے تالاب میں لاکر سپرد خاک کردیا۔
میثم تمار کا روضہ مسجد کوفہ سے کئی سو میٹر کے فاصلے پر کوفہ و نجف کی عام شاہراہ پر زیارتگاہ خاص و عام ہے جس پر نیلے رنگ کا گنبد اور قبر پر ایک ضریح نصب ہے جو دنیا کو یہ پیغام دے رہا ہے کہ علی(ع) کے عشق میں انسان کو موت نہیں آتی بلکہ وہ ہمیشہ کے لئے زندہ ہوجاتا ہے۔

0
شیئر کیجئے:
फॉलो अस
नवीनतम