Code : 504 12 Hit

مہمان افضل کہ میزبان؟؟؟

اے ابو محمد! جس وقت تمہارے پاس مہمان آتے ہیں تو وہ اپنے ہمراہ اللہ کی بارگاہ سے کثیر روزی و رزق لیکر تمہارے گھر میں داخل ہوتے ہیں اور جب تمہارے گھر سے جانے لگتے ہیں تو تمہاری مغفرت کا سامان چھوڑ جاتے ہیں۔

ولایت پورٹل: قارئین کرام! مہمان کا وجود میزبان کے لئے باعث خیر و برکت ہوتا ہے جس گھر میں مہمان کھانا کھاتے ہیں اس میں اللہ کی خاص رحمت کا نزول ہوتا ہے لہذا روایات کی روشنی میں کبھی مہمانوں کے احترام و اکرام میں کمی نہیں کرنی چاہیئے۔
کوئی شخص یہ گمان نہ کرے کہ چونکہ مہمان ہمارے گھر آیا ہے اور ہم نے اسے کھانا کھلایا ہے، اس کا احترام کیا ہے اسے جگہ دی ہے،خود پریشان ہوئے ہیں لیکن اس کے سکون کا اہتمام کیا ہے پس با فضیلت تو ہم ہیں مہمان نہیں!
چنانچہ روایت میں ملتا ہے کہ امام جعفر صادق علیہ السلام کا ایک خاص صحابی جناب ابو محمد وابشی خدمت مولا میں حاضر ہوا اور عرض کی:’’مولا! میں جب بھی صبح کو ناشتہ کرتا ہوں اور شام میں کھانا تناول کرتا ہوں ہمیشہ آپ کے شیعوں میں سے کچھ لوگوں کو اپنے دسترخوان پر مہمان بنا کر کھانا کھلاتا ہوں اس طرح میرا ہر دن مہمان نوازی میں بسر ہوتا ہے۔
یہ سن کر امام صادق علیہ السلام نے ارشاد فرمایا: اے ابو محمد!اگرچہ تم ایک گرانقدر کام کرتے ہو لیکن تمہارے مہمان،ہر حال میں تم سے زیادہ افضل و برتر ہیں۔
ابو محمد نے بڑے تعجب سے عرض کیا: مولا! یہ کیسے ممکن ہے جبکہ میں انہیں اپنے کھانے میں سے کھلاتا ہوں اور ان پر اپنا مال خرچ کرتا ہوں۔
امام جعفر صادق علیہ اسلام نے ارشاد فرمایا: اے ابو محمد! جس وقت تمہارے پاس مہمان آتے ہیں تو وہ اپنے ہمراہ  اللہ کی بارگاہ سے کثیر روزی و رزق لیکر تمہارے گھر میں داخل ہوتے ہیں اور جب تمہارے گھر سے جانے لگتے ہیں تو تمہاری مغفرت کا سامان چھوڑ جاتے ہیں۔(اصول كافى، جلد۳ ،صفحه ۲۸۹)

 


0
شیئر کیجئے:
फॉलो अस
नवीनतम