Code : 476 19 Hit

مولانا اولاد حسین امروہوی

مولانا اولاد حسین صاحب وطن میں تعلیم حاصل کرنے کے بعد لکھنؤ گئے اور مشاہیرعلماء سے معقولات و منقولات کی تکمیل کرکے وطن آئے ، فقہ میں شہرت اور علم الفرائض و میراث میں مہارت وشہرت پائی، آپ کے نفیس کُتب خانہ میں فقہ کی بہت عمدہ کتابیں موجود ہیں۔

ولایت پورٹل: مولانا محمد حسن،امروہہ کے ایک صاحب ثروت بزرگ تھے وہ خود اور ان کے باپ داد، دینی علوم کے حامل تھے،مولانا محمد حسن کے یہاں سن ۱۲۶۸ ہجری میں ایک صاحب زادے کی ولادت ہوئی جس کا نام اولاد حسین رکھا گیا۔
وطن میں تعلیم حاصل کرنے کے بعد لکھنؤ گئے اور مشاہیرعلماء سے معقولات و منقولات کی تکمیل کرکے وطن آئے ، فقہ میں شہرت اور علم الفرائض و میراث میں مہارت وشہرت پائی، آپ کے نفیس کُتب خانہ میں فقہ کی بہت عمدہ کتابیں موجود ہیں۔
سلیم تخلص سے شعر کہتے تھے، لاجواب خوش نویس تھے، اشرف المساجد محلہ داؤد پوتہ امروہہ کی تمام دیواری تحریریں آپ کے قلم کا شہکار ہیں۔
وفات
مولانا اولاد حسین صاحب بہت مقدس، متورع اور بااخلاق تھے،زیارت عتبات عالیہ سے مشرف ہوئے تھے،اچھی خاصی عمر پاکر یکم شعبان ۱۳۳۸ ہجری روز چہار شنبہ امروہہ میں جاں بحق اور وہیں دفن ہوئے۔
قلمی خدمات
۱۔نیرنگ زمانہ
۲۔طرفۃ العین
۳۔دلائل حسینیہ
۴۔چراغ ایمان
۵۔انوار المؤمنین
۶۔معلم الاطفال
۷۔الاشاعۃ فی شرح نھج البلاغہ
۸۔نظم الفرائض
۹۔بدور الفرائض۔
۱۰۔عربی فارسی اردو اشعار کا مجموعہ
۱۱۔قطعات تاریخ

0
شیئر کیجئے:
फॉलो अस
नवीनतम