Code : 1694 2 Hit

مغربی ممالک نے کیوں داعش کو پروان چڑھایا؛ایک سنی عالم کی زبانی

پچھلے کچھ برسوں میں سامراجی طاقتیں جیسا کہ امریکہ داعش کی مکمل مالی امداد کرکے مسلمانوں کے درمیان پھوٹ ڈالنے کی کوشش کررہی ہے۔ اور بالیقین یہ بھی ثابت ہے کہ اسلامی دنیا کا آپسی اتحاد اور اتفاق ہی اس طرح کی سازشوں سے مقابلہ اور ان کو ناکام بنانے میں مددگار رہا ہے ۔مسلمانوں کو آپس میں لڑوانا ہی دشمن کی ہمیشہ سے کوشش رہی ہے اور یہی مسلم ممالک کے لئے آج سب سے بڑا خطرہ بنا ہوا ہے۔

ولایت پورٹل: قارئین کرام! یہ ایک سنی عالم دین کا انٹرویو ہے جو ایران کے صوبہ مشہد کے ایک گاؤں میں حضرت بلال نامی مسجد کے امام جماعت ہیں، جن کا نام مولوی محمد رضا رحمتی ہیں۔یہ عالم دین شہر زاہدن کے رہنے والے ہیں جو گذشتہ برس سے اس مسجد میں تبلیغ میں مصروف ہیں۔ ایک بڑے مدرسہ سے تعلیم حاصل کرنے کے بعد گذشتہ برس ان سے انٹریو لیا گیا جنہوں نے بڑی بے باکی سے داعش اور دیگر دہشتگرد کالعدم تنظیموں کے متعلق اپنا نظریہ  بڑی صراحت کے ساتھ پیش کیا چنانچہ ہم ان سے پوچھے گئے سوالات اور ان کے جوابات کو آپ کی خدمت میں پیش کررہے ہیں۔
سوال: مولوی صاحب آپ کا بہت بہت شکریہ کہ آپ اس انٹریو کے لئے تشریف لائے جیسا کہ آپ جانتے ہیں اس وقت کئی اسلامی ممالک داعش جیسی کالعدم دہشتگرد تنظیم کی پیدا کردہ مشکلات کا شکار ہیں اور ان کے سبب کئی ممالک کھنڈرات میں تبدیل ہوچکے ہوگئے ہیں اور وہاں کے لوگوں کی زندگیاں بڑی متأثر ہوچکی ہیں آپ اس بارے میں کیا کہیں گے۔
جواب: جیسا کہ آپ نے اشارہ کیا کہ آج کئی اسلامی ممالک داعش جیسی کالعدم تکفیری تنظیم کی پھیلائی ہوئی دہشت کے سبب سخت حالات کا سامنا کررہے ہیں اور ان کے سبب چھیڑی گئی جنگ کے سبب ان ممالک میں مسلمانوں کی زندگیاں ہرج و مرج کا شکار ہورہی ہیں۔اور انہیں ہر لمحہ اپنی جان و مال کا خطرہ لاحق رہتا ہے بہت سے علاقے  تباہ ہوچکے ہیں اور وہاں کے عوام  بنیادی ضرورتوں سے محروم ہوچکے ہیں لہذا ان سخت حالات میں تمام اسلامی ممالک کو ایک دوسرے کے ساتھ مل بیٹھ کر جلدی ہی کوئی راستہ نکال کر اپنے دینی بھائیوں کی مدد کرتے ہوئے ان کو اس پریشانی سے باہر نکالنا چاہیئے۔
سوال: ان پریشانیوں اور سخت حالات کے پیچھے آپ کن عناصر کو دخیل مانتے ہیں؟
جواب: پچھلے کچھ برسوں میں سامراجی طاقتیں جیسا کہ امریکہ داعش کی مکمل مالی امداد کرکے مسلمانوں کے درمیان پھوٹ ڈالنے کی کوشش کررہی ہے۔ اور بالیقین یہ بھی ثابت ہے کہ اسلامی دنیا کا آپسی اتحاد اور اتفاق ہی اس طرح کی سازشوں سے مقابلہ اور ان کو ناکام بنانے میں مددگار رہا ہے ۔مسلمانوں کو آپس میں لڑوانا ہی دشمن کی ہمیشہ سے  کوشش رہی ہے اور یہی مسلم ممالک کے لئے آج سب سے بڑا خطرہ بنا ہوا ہے۔
سوال:کچھ شدت پسند عناصر اہل سنت کے نام پر خود انہیں کی کتابوں سے اسلام دشمنی کو عام کررہے ہیں جس سے عام لوگوں کے اذہان میں اسلام اور مسلمانوں کے لئے نفرتیں پیدا ہوتی جارہی ہیں اس کے متعلق آپ کا کیا کہنا ہے؟
جواب: کوئی بھی عقل سلیم رکھنے والا آج ان متشدد اور فرقہ وارانہ نظریات و افکار کو قبول نہیں کرسکتا۔ یہ گروہ(وہابی) پیدا ہی اس لئے ہوئے ہیں تاکہ مسلمانوں کے درمیان اختلاف ڈال کر انہیں آپس میں لڑوا کر انہیں کمزور کرسکیں اور یہی آپسی اختلاف اور مسلمانوں کا آپس میں ایک دوسرے کا دشمن ہونا یہاں تک کہ خون بہاتے رہنا اسی نے مسلمانوں کو ترقی سے دور کررکھا ہے۔
اس شدت پسند ٹولے(وہابی) نے اسلام کی آڑ لے کر صرف اسلام کو بدنام کیا ہے اور اس کالعدم تنظیم کا اسلام سے کوئی لینا دینا نہیں ہے بلکہ ان کا انسانیت ہی سے کوئی رشتہ نہیں ہے اور ان(وہابیوں)کی سازشیں اب بے نقاب ہوچکی ہیں اور کوئی بھی اہل سنت داعشی جیسی خونخوار کو سنی ماننے کے لئے تیار نہیں ہے۔
سوال: آپ کی طرف سے سنی جوانوں کو داعشی مکر و فریب سے بچانے کے لئے کیا مشورہ دیں گے؟
جواب: جیسا کہ پچھلے سوال کے جواب میں اشارہ کیا کہ سامراجی طاقتیں ہر طرح سے اس شدت پسند تنظیم کی حمایت کررہی ہے  تاکہ اپنے نظریات کے ذریعہ جوانوں کے افکار کو اپنی طرف موڑا جاسکے۔لہذا ان حالات میں ہم سب کی ذمہ داری مزید بڑھ جاتی ہے اور ہمیں اپنے جوانوں سے اپنے روابط اور تعلقات کوبنائے رکھنا چاہیئے اور انہیں دشمن کی سازشوں اور ان سے ہونے والے عظیم نقصان سے آگاہ کرتے رہنا چاہیئے تاکہ ہمارے جوان ان کے ہاتھ کا کھلونہ نہ بننے پائیں، آج جو بھی سانحات واقع ہورہے ہیں ان سب کو اسلام سے جوڑ کر دنیا کے سامنے پیش کرنا یہ صرف اسلام کو بدنام کرنے کی سازش ہے تاکہ اسلامی فرقوں میں اختلاف ڈال کر انہیں آپس ہی میں لڑوا کر ختم کردیا جائے اور سامراجی طاقتیں اپنے مقاصد حاصل کرنے کے لئے داعش جیسے وہابی تنظیم  کی ہر طرح سے مالی امداد کرکے انہیں ہم سب کے خلاف استعمال کرکے انسانیت کو پیرو تلے روندنے کی پالیسی پر گامزن ہے۔
سوال: آج دنیا کے کچھ ممالک میں ایسا ماحول بنا دیا گیا ہے جس سے مسلمانوں کے اکثر مدعے تحت شعاع چلے گئے ہیں؟ اس بارے میں جناب کی رائے کیا ہے؟
جواب: ۵۰ برس سے زائد عرصہ بیت چکا ہے اور اس عرصہ میں مسلمانوں کے سامنے سب سے بڑی مشکل اسرائیل کا غاصب نظام  ہے جو اپنے آغاز سے ہی مسلمانوں کے لئے درد سر بنا ہوا ہے اور مسلمانوں کا پہلا مقصد قبلہ اول بیت المقدس کو تحفظ کرنا ہے اور اس مقصد کے حصول کی خاطر آج تک کافی خون بہہ چکا ہے اس لئے پوری دنیا کے مسلمانوں کو مظلوم فلسطینوں کی حمایت کرتے ہوئے بیت المقدس کی مکمل آزادی کے لئے کوششیں جاری رکھنا چاہیئے میری نظر میں سامراجی طاقتوں نے داعش جیسی خونخوار تنظیم کو اس وجہ سے وجود بخشا تاکہ مسلمان ان کے ڈھائے مظالم و ستم میں گرفتار ہوجائیں اور ان کی توجہ بہت المقدس سے مطلق طور پر ہٹ جائے۔ لیکن اب انشاء اللہ ان کے خواب شرمندہ تعبیر نہیں ہونگے،آج  مسلمان بیدار ہوچکے ہیں۔ہمارے جوان بیدار ہیں، ہماری قوم بیدار ہے۔
اور مسلمانوں میں اتحاد کی فضا قائم ہورہی اور اب ہم جلد ہی اس طرح کی مشکلات پر فائق آجائیں گے۔اور سامراج ماضی کی طرح اس بار بھی اپنی کرتوتوں پر پشیمان ہوگا۔ اور ہمارے جوان انہیں شکست فاش دیں گے۔


0
شیئر کیجئے:
फॉलो अस
नवीनतम