Code : 806 38 Hit

معاشرے کی سب سے بڑی مشکل غربت یا بے دینی؟؟؟

پس آج کی ماڈرن دنیا جس چیز کو معاشرہ کی بدحالی کا ذمہ دار قرار دیتی ہے اسے صرف فقر،غربت اور ناداری میں خلاصہ نہیں کیا جاسکتا بلکہ ہماری نظر میں غربت سے بھی بڑی ناداری کسی معاشرے کا ایمان سے خالی اور سماج کا دینی اقدار سے غافل ہونا ہے ۔اگر معاشرہ میں دین، معنویت اور ایمان آجائے تو مذکورہ تمام مشکلات ختم ہوسکتی ہیں پس ماڈرن دنیا کی تمام مشکلات اور گرفتاری کا حل خدا کے خوف کا ختم ہوجانا اور معنویت سے دوری ہے۔

ولایت پورٹل: قارئین کرام! آج ہمارے ماڈرن معاشرے میں بہت سی مشکلات پائی جاتی ہیں۔ہر روز سماج میں اخلاقی اقدار کا رنگ پھیکا پڑتا نظر آرہا ہے جیسا کہ آج  چوری ڈکیتی،بڑھتی اور پھیلتی ہوئی برائیاں،اخلاقی فساد وغیرہ ایسی چیزیں ہیں جن سے آج شریف لوگوں کو بڑی تکلیف ہوتی ہے۔اب سوال یہ ہے کہ ان برائیوں اور اخلاقی فساد کو دور کرنے اور معاشرے سے ان کی جڑوں کا کاٹنے کے لئے ہمیں صرف ان برائیوں پر توجہ سے زیادہ ان اسباب اور علل کی طرف توجہات مبذول کرنے کی ضرورت ہے جن کے سبب کسی معاشرے میں یہ آفتیں پنپتی ہیں۔اب ظاہر ہے معاشرتی علوم میں ان برائیوں اور فساد کو ختم کرنے اور ان کی جڑوں کو کاٹنے کے سلسلہ میں دو اہم نظرئے پائے جاتے ہیں:
۱۔مادی نظریہ: اس نظریہ کا ماحصل یہ ہے کہ کسی بھی معاشرے میں پھیلتی برائیوں اور اخلاقی، اجتماعی اور ثقافتی قباحتوں کے پنپنے کی اصل وجہ معاشرہ میں غربت،فقر اور ناداری ہے۔لہذا اگر کسی سماج سے غربت کا خاتمہ ہوجائے تو وہاں سے خود بخود یہ برائیاں ختم ہوجاتی ہیں۔چنانچہ چوری و ڈکیتی وہاں ہوتی ہے جہاں لوگوں کے پاس پیسہ نہ ہو،جسم فروشی کو غربت کی وجہ سے فروغ ملتا ہے۔اخلاقی برائیاں فقر و ناداری کی وجہ سے پیدا ہوتی ہیں۔
۲۔الہی نظریہ:اس نظریہ اور فلسفلہ رکھنے والوں کا کہنا ہے کہ معاشرہ میں محض مال و دولت کے فقدان سے برائیاں نہیں پھیلتیں بلکہ ہم نے اکثر ایسے معاشرے اور سماج بھی دیکھے ہیں اور ان کی مثالیں تاریخ میں محفوظ ہیں کہ جہاں مال و دولت کی فراوانی نہیں تھی لیکن پھر بھی وہاں کے لوگ بڑے سلیقہ و اخلاق کے مالک،اقدار کے محب اور اچھائیوں کے دلدادہ تھے۔ اگرچہ ہماری تمنا یہ ہے کہ کسی بھی معاشرے کے لوگ فقر و ناداری سے نہ جھوجیں۔اور واقعاً غربت ایک مسئلہ ہے لیکن اسے ام المسائل اور اقتصادی مشکلات کی کنجی قرار نہیں دیا جاسکتا۔اور اگر آپ کے بقول مالداری و دولتمندی سے لوگ برائیوں سے بچنے لگتے ہیں اور ان میں اخلاقی برائیاں ختم ہوجاتی ہے تو آپ کی تسلی کے لئے ہم ذیل میں چند سوال پیش کررہے ہیں اگر آپ حق بجانب ہیں تو ان کا جواب عنایت فرمائیے:
۱۔ایک مالدار اور لمبی لمبی فیس لینے والا ڈاکٹر کہ جس کے پاس دولت کا انبار لگا ہوا ہے تو اس کی نظر میں صرف اپنی فیس ہی کیوں اہم ہوتی ہے؟ اس کی نظر میں کسی مرتے ہوئے انسان کی جان کی کوئی قیمت کیوں نہیں ہوتی؟
چنانچہ ایسے واقعات سے دنیا کی تاریخ بھری پڑی ہے کہ جب مریض کے پاس پوری فیس نہ ہونے کے سبب ڈاکٹر نے اس کا ویزیٹ نہیں کیا اور نتیجہ میں وہ دنیا سے چلا گیا۔غرض ہرسال نہ جانے کتنے مرد، کتنی عورتیں اور کتنے بچے کم پیسہ ہونے اور ڈاکٹروں کی منھ مانگی فیس ادا نہ کرکے موت کا نوالہ بن جاتے ہیں۔جبکہ اس ڈاکٹر کے پاس لاکھوں اور کروڑوں کی ملکیت اور پراپرٹی ہے تو مجھے بتائیے ہمارے ملک میں غریب کی موت پیسہ نہ ہونے سے آئی یا کرپٹ، بداخلاق اور ابن الوقت ڈاکٹر کی وجہ سے آئی؟؟؟
۲۔ہمارے ممالک میں مالداری کا دوسرا بڑا نمونہ انجنئیرز اور بلڈرس وغیرہ ہوتے ہیں کہ جن کے پاس دولت کی کمی نہیں ہوتی بلکہ ان کے پاس تو اربوں اور کھربوں کی دولت ہوتی ہے لیکن اس کے باوجود بھی جب وہ کسی کی کوٹھی اور گھر کا ٹھیکہ لیتے ہیں تو کبھی اس میں پورا اور طئے شدہ مٹیریل استمعال نہیں کرتے تو مجھے بتایئے کیا یہ غریب ہے؟ کیا اس کے پاس پیسہ نہیں ہے؟ اگر غربت مشکلات کی ماں ہے تو یہ کیوں پیسوں پر اپنی جان دینے لگا ہے؟
۳۔کسی ایک بڑے ادارے کا سربراہ کہ جو کسی سیول سروسز کے دفتر میں کام کرتا ہے جہاں ہر دن لوگوں کی صفیں لگتی ہیں اور باوجود یہ کہ وہ حکومت سے بھی قابل ملاحظہ تنخواہ حاصل کررہا ہے پھر بھی وہ عام لوگوں کے چھوٹے چھوٹے کاموں کے عوض بھی میز کے نیچے سے چائے پانی کے نام پر دن بھر میں ہزاروں روپیہ اکھٹا کرلیتا ہے اب آپ ہی بتائیے کہ کیا یہ غریب و نادار ہے؟ اگر نہیں تو پھر یہ کھلے عام ڈکیتی کیوں ڈال رہا ہے۔؟
۴۔آج بڑھتی ہوئے پیسہ کی بدولت سب سے بڑی جس مشکل چیز نے ہمارے معاشرے کو بھی آہستہ آہستہ اپنی چپیٹ میں لینا شروع کردیا ہے وہ ہے’’طلاق‘‘۔اگرچہ برصغیر میں فیصدی طور پر مسلمانوں میں طلاق کی شرح بہت کم تھی لیکن آج کل طلاقوں کی تعداد میں حیرت انگیز اضافہ دیکھنے میں آرہا ہے اور یہ اعداد و ارقام ماضی کی بنسبت کئی گنا بڑھ چکے ہیں اور ساتھ میں بات بھی ذہن نشین رہے کہ طلاقوں کا سب سے زیادہ چلن پیسہ والوں اور مرفہ حال لوگوں میں دیکھنے کو مل رہا ہے ۔اگر کسی غریب و نادار خاندان میں ایک طلاق ہوتی ہے تو امیروں میں کئی طلاقیں دیکھنے کو مل رہی ہیں؟ اگرچہ بسا اوقات طلاق مجبوری میں ہو بھی جاتی ہے لیکن سمجھئے وہ معاشرہ بڑی تیزی کے ساتھ بدبختی کی طرف گامزن ہے جس میں طلاق کا چلن عام ہوجائے۔اب آپ بتائیے  کہ کیا طلاق مجبوری میں دی جارہی ہے یا شوق میں؟
۵۔اس بازار میں جہاں بہت سی چیزیں بکتی ہیں وہیں کچھ مردہ ضمیروں نے عصمت و عفت کو بھی نیلام کرنے کا دھندا بنا رکھا ہے اگرچہ اس میں ایک طرف غریب ہوسکتا ہے لیکن جو خرید رہا وہ تو غریب نہیں ہے بلکہ وہ بہت مالدار ہے تو اگر مالداروں میں شرافت آجائے تو کبھی یہ نوبت ہی نہ آئے ۔
پس آج کی ماڈرن دنیا جس چیز کو معاشرہ کی بدحالی کا ذمہ دار قرار دیتی ہے اسے صرف فقر،غربت اور ناداری میں خلاصہ نہیں کیا جاسکتا بلکہ ہماری نظر میں غربت سے بھی بڑی ناداری کسی معاشرے کا ایمان سے خالی اور سماج کا دینی اقدار سے غافل ہونا ہے ۔اگر معاشرہ میں دین، معنویت اور ایمان آجائے تو مذکورہ تمام مشکلات ختم ہوسکتی ہیں پس ماڈرن دنیا کی تمام مشکلات اور گرفتاری کا حل خدا کے خوف کا ختم ہوجانا اور معنویت سے دوری ہے۔



0
شیئر کیجئے:
फॉलो अस
नवीनतम