Code : 496 35 Hit

مشترکہ زندگی کے 8 بڑے دشمن

ازدواجی زندگی کا ایک بڑا دشمن ایک دوسرے کی نسبت شک کرنا ہے چونکہ یہ مشترکہ عہد ہے جو باہمی اعتماد کے سہارے قائم و برقرار رہتا ہے اور حد سے زیادہ شک اور بد گمانی رشتوں میں درار ڈال دیتا ہے اور زندگی میں زہر ہلاہل کا کام کرتا ہے اور اس کے سبب آپ بادل نخواستہ اپنے شریک زندگی کو اپنے سے دور کرنے میں تعاون کررہے ہیں۔پس احتیاط کیجئے کہ کہیں آپ اپنے ہی ہاتھوں سے مشترکہ زندگی کے اس خوبصورت محل کو زمیں بوس نہ کردیں۔

ولایت پورٹل: قارئین کرام! ہر شادی شدہ جوڑے کی یہ خواہش ہوتی ہے کہ اس کی زندگی بڑے سکون اور آرام سے گذارے لیکن یہ آرام و سکون، صرف خواب و خیال سے حاصل نہیں ہوتا بلکہ اس کے لئے عملی میدان میں قدم رکھنا ہوتا ہے اور اس راہ میں بڑے پھونک پھونک کر چلنا پڑتا ہے۔خیالوں اور لمبی لمبی آرزوؤں سے وقتی خوشی تو مل سکتی ہے دائمی نہیں،چونکہ حقیقت کا تعلق،خیال، خواب اور تمناؤں سے نہیں ہوتا بلکہ اس کے کچھ کرنا پڑتا ہے۔
پس اگر آپ اپنے اس ارادے میں مستحکم ہیں اور اپنی ازدواجی زندگی کو بہتر بنانا چاہتے ہیں تو اس راہ میں جو بہترین اقدام کرنے چاہیئے ان میں سے ایک یہ ہے کہ سب سے پہلے یہ پتہ لگایا جائے کہ آج ہمارے معاشرے میں ایک ہی چھت کے نیچے رہنے والے دو لوگوں کے درمیان کچھ چھوٹے چھوٹے پردے ہیں جنہیں ہٹانے کی ضرورت ہے اور ہم تو انہیں مشترکہ زندگی کے دشمنوں کے نام سے یاد کرتے ہیں لہذا ہم چاہتے ہیں کہ ان  8 دشمنوں کے بارے میں آپ سے بھی بات کریں البتہ ہم انہیں صرف 8 میں محدود نہیں کررہے ہیں ہوسکتا ہے اس مقالہ کو پڑھ کر آپ کے ذہن میں کچھ دیگر چیزیں آئیں جنہیں آپ اضافہ کرسکتے ہیں:
1۔ٹی وی
ٹی وی گھریلو محبت و عشق کا قاتل ہے،اور اس بات میں آپ بالکل بھی شک نہ کیجئے بلکہ ہم تو یہ تأکید کریں گے کہ جب آپ پورے دن باہر سے کام کرکے اپنے بیوی بچوں کے ساتھ دسترخوان پر بیٹھے کھانا تناول کررہے ہوں تو ٹی وی کو مت کھولئے،چونکہ ہر رات کھانا کھاتے وقت آپ کی توجہ صرف ٹی وی کی طرف ہوتی ہے آپ کی بیوی آپ کا انتظار کررہی تھی لہذا اسے کچھ وقت دیجئے۔اب آپ اتنے تھک گئے ہیں اب آرام سے سونا چاہیں گے اب کم سے کم پورے دن کے بعد اپنے بیوی بچوں کی خبر تو  لیجئے اور اگر میری مانیئے تو ٹی وی گھریلو زندگی اور محبت کے آشیانے میں فساد کی جڑ ہے۔
2۔گھر میں خالی پڑے رہنا
شادی شدہ زندگی کی ایک بڑی مصیبت گھر میں پڑے رہنا بھی ہے اگرچہ ممکن ہے آپ  ٹی وی کے شوقین ہوں اور اپنی پسند کا سیریل یا کوئی میچ وغیرہ دیکھتے ہوں اور اس وجہ سے باہر نہ جاتے ہوں لہذا آپ اپنے گھر والوں کے لئے سالم تفریحی پروگرام ہفتگی یا ماہانہ ضرور رکھیئے اور اس کے لئے ضروری نہیں ہے کہ آپ ریسٹورینٹ ہی جائیں بلکہ آپ اپنے گھر میں اچھا سا کھانا بنا کر ساتھ لے جائیں کہیں پارک وغیرہ میں بچوں کے ساتھ کھا سکتے ہیں۔یا اس سے بھی بہتر صلہ رحمی کیجئے ، اپنے ان عزیزوں کے یہاں ایک چکر لگا آئیں جن کے حال و احوال جانے آپ کو ایک عرصہ ہوگیا ہے۔اور اب یہ یاد رکھئیے کہ آپ کا ٹی وی یہی آپ کی شریک زندگی(بیوی) ہے۔
3۔خاموشی
اللہ نے انسان کو زبان دی ہے جہاں اس کے بہت سے فوائد ہیں وہیں اس کے کچھ نقصانات بھی ہیں۔جس طرح کچھ جگہوں پر خاموشی اچھی چیز شمار ہوتی ہے ویسے ہی کچھ مواقع پر خاموشی ایک مذموم امر سمجھی جاتی ہے انہی مواقع میں سے ایک مشترکہ زندگی بھی ہے جہاں گفتگو نہ کرنا ایک عیب تصور کیا جاتا ہے اور ظاہر ہے یہ خاصیت اکثر اس وقت پیدا ہوتی ہے جب میاں بیوی میں سے کسی کے پاس وقت کی قلت ہو یا ایک دوسرے کی نسبت کم توجہ ہوں۔بیوی اور شوہر کے درمیان گفتگو کا دروازہ بہر حال کھلا ہونا چاہیئے ایک دوسرے کی بات کو سمجھنا چاہیئے البتہ بہت سے شوہر و بیوی ایسی بے تکی باتیں کرتے کہ اگر وہ خاموش رہتے تو زیادہ بہتر تھا۔بس اصل مقصد یہ ہے کہ زندگی کی خاموشی کو ضرور توڑیئے اب یہ خود میاں بیوی کی تدبیر اور صواب دید پر منحصر ہے کہ وہ کیسے اس سکوت کو توڑتے ہیں۔
4۔زیادہ وقت گھر کے باہر گذارنا
آپ اگر کہیں کام کرتے ہیں تو ایسا نہ ہو کہ آپ اس وقت کام سے لوٹیں کہ جب آپ کی بیوی اور بچے سو جائیں لہذا کوشش کیجیئے شام ہوتے ہی گھر پہونچ جائیں تاکہ آپ کا کچھ وقت ان کے ساتھ بھی گذرے۔ اگرچہ آپ کا کام و کاروبار سب کچھ، اپنے اہل و عیال کی خوشحالی کی لئے ہے لیکن صرف پیسہ ہی زندگی کا حصہ  نہیں ہے اس زندگی کو وقت بھی دیجئے۔
5۔ایک دوسرے کی نسبت بے توجہی
مشترکہ زندگی کا ایک بڑا دشمن میاں بیوی کا ایک دوسرے کی نسبت عدم توجہی کو بتلایا گیا ہے اور یہاں پر بے توجہی سے ہماری مراد کوئی گلدستہ خرید کر تحفہ میں دینا نہیں ہے بلکہ آپ لوگوں کا اس طرح ایک دوسرے کے تئیں سلوک و برتاؤ ہونا چاہیئے کہ جس سے آپ کا شریک حیات آپ کے وجود کو لمس کرے،مثال کے طور پر جب آپ کی بیوی نے کوئی نیا کپڑا خریدا یا جوتا خریدا ہو تو آپ اس کی تعریف کیجئے چونکہ ایک دوسرے کی نسبت تکریم و تجلیل اور تعریف کرنا زندگی میں مزید رس گھول دیتا ہے۔
6۔شک اور بدگمانی
ازدواجی زندگی کا ایک بڑا دشمن ایک دوسرے کی نسبت شک کرنا ہے چونکہ یہ مشترکہ عہد ہے جو باہمی اعتماد کے سہارے قائم و برقرار رہتا ہے اور حد سے زیادہ شک اور بد گمانی رشتوں میں درار ڈال دیتا ہے اور زندگی میں زہر ہلاہل کا کام کرتا ہے اور اس کے سبب آپ بادل نخواستہ اپنے شریک زندگی کو اپنے سے دور کرنے میں تعاون کررہے ہیں۔پس احتیاط کیجئے کہ کہیں آپ اپنے ہی ہاتھوں سے مشترکہ زندگی کے اس خوبصورت محل کو زمیں بوس نہ کردیں۔
7-سسرال
اگرچہ ماہرین نفسیات کا ماننا یہ ہے کہ سسرال والے سب کے ایک جیسے نہیں ہوتے لیکن پھر بھی کبھی کبھی کچھ مشکلات سسرال کی طرف سے بے جا مداخلتوں کے سبب وجود میں آتی ہیں پس کوشش کیجئے کہ آپ کا رابطہ اپنے سسرال کے لوگوں سے اچھا ہو لیکن یہ یاد رہے جب یہ رابطہ اچھا ہو تو کبھی اپنے شریک زندگی سے اس کے گھر والوں کی نسبت کسی ایسی چیز کی خواہش کا اظہار نہ کیجئے کہ جو ان کے لئے قابل تحمل نہ ہو۔
8۔بغیر پروگرام کے زندگی
گھر بسا لینے کا مطلب یہ نہیں ہوتا کہ اس زندگی کو جیسے گذرے گذار لیں اور ہم اپنے مستقبل کے حوالہ سے کوئی فکر نہ کریں بلکہ میاں و بیوی کی ایک سنگین ذمہ داری یہ ہے کہ وہ اپنی مستقبل کی زندگی کے لئے معین نقشہ بنائیں۔ اور اس کام کے لئے آپ مل جُل کر  آگے بڑھیں اور اپنے آئندہ کو بہتر بنانے کے لئے کوشش کریں۔اور اس کے لئے ہر فیملی کو دو طرح کے پروگرام اور مقاصد طئے کرنے کی ضرورت ہے کچھ مختصر المدت پروگرام اور کچھ طویل المدت پروگرام! مثال کے طور پر آپ اپنے ایک سال کے لئے علیحدہ طور پر پروگرامنگ کیجئے کہ ہمیں اس سال یہ یہ کام انجام دینا ہیں۔اسی طرح طویل المدت پروگرام بھی آپ کی زندگی کا جزء ہونا چاہیئے جیسا کہ ہمیں دس سال کے بعد ایک گھر خریدنا ہے یا اپنا کاروبار کرنا ہے وغیرہ وغیرہ۔
جب زندگی میں مقاصد ہونگے تو اس کا مزہ ہی کچھ اور ہوگا البتہ یہ تو ہم نے مادی اور اقتصادی مثالیں دیں ہیں دینی اور تعلیمی طور پر ہم اپنے گھر والوں کے لئے اسی طرح پروگرام بنا سکتے ہیں اور ہمیں بنانا بھی چاہیئے۔


0
شیئر کیجئے:
फॉलो अस
नवीनतम