Code : 1448 46 Hit

مسجد کوفہ کے منبر سے روزہ داروں کے نام علی(ع) کا خطاب

قرآن مجید میں غور و خوض کا مقصد یہ ہے کہ انسان اس کے احکام کو سمجھے اور ان پر عمل کرے ورنہ خالی غور وخوض کا کوئی مقصدنہیں ہوتاہے۔امام فرماتے ہیں:’’ من استظهر القرآن و حفظه و احلّ حلاله و حرم حرامه ادخله الله به الجنّة و شفعه فی عشرة من اهلبیته کلهم قد وجب له النار‘‘۔جو بھی قرآن سے مدد حاصل کرے،اسے حفظ کرے ،اس کے حلال کو حلال سمجھے اور اس کے حرام کو حرام جانے خدا اسے جنت میں داخل کرے گا اور اس کے ذریعہ اس کے افراد خانہ میں دس ایسے افراد کی شفاعت کرے گا جو جہنم کے مستحق تھے۔

ولایت پورٹل: قارئین کرام آج ۲۱ رمضان المبارک ہے یہ رات بڑی فضیلت کی رات ہے چونکہ اس رات شمار شب قدر میں ہوتا ہے نیز اس رات کی دوسری ایک بڑی خصوصیت یہ ہے کہ اس کے دن امیرالمؤمنین(ع) اپنے رب حقیقی کی بارگاہ میں پہونچے۔
قارئین اسی مناسبت سے ہم امیرالمؤمنین(ع) کے اس خطبہ کے چند فراز کو آپ حضرات کی خدمت میں پیش کرنے کی سعادت حاصل کررہے ہیں جو آپ نے مسجد کوفہ کے منبر سے روزہ داروں اور ضیافت الہی کے دسترخوان کرم پر بیٹھے اللہ کے مہمانوں سے خطاب فرمایا تھا۔چنانچہ آپ نے فرمایا تھا:’’أيها الصائم إن طردت عن باب مليكك فأي باب تقصد وان حرمك ربك فمن ذا الذي يرزقك وان أهانك فمن ذا الذي يكرمك وإن أذلك فمن ذا الذي يعزك وإن خذلك فمن ذا الذي ينصرك وإن لم يقبلك في زمرة عبيده فإلى من ترجع بعبوديتك وإن لم يقلك عثرتك عمن ترجو لغفران ذنوبك وان طالبك بحقه فماذا يكون حجتك‘‘۔
ترجمہ:اے روزہ دار!اگر تمہیں  مالک کی بارگاہ سے نکال دیا گیا تو پھر کس کا دروازہ کھٹکھٹاؤ گے؟ اور اگر تمہارے  رب نے تمہیں محروم کردیا تو پھر تمہیں کون رزق عطا کرے گا؟اگر اس نے تمہیں خوار کردیا تو پھر کون تمہیں   کرامت عطا کرےگا؟اور اگر اس نے تمہیں ذلیل کردیا تو پھر کون تمہیں عزت دےگا؟اگر اس نے تمہیں تنہا چھوڑ دیا تو کون تمہاری  نصرت کرے گا ؟ اگر اس نے تمہیں اپنے بندوں  کی صف میں شامل نہ کیا تو پھر تم بندگی کے لئے کس کی طرف رجوع کروگے؟اگر اس نے تمہاری لغزشوں سے چشم پوشی نہیں کی تو پھر تم کس سے مغفرت کی امید رکھو گے؟اور اگر اس نے تم سے اپنے حق  کا مطالبہ کرلیا تو اس کے سامنے  کیا حجت اور دلیل پیش  کرو گے؟
مولائے کائنات کے اس فرمان میں چند باتیں قابل  توجہ ہیں:
۱۔ماہ رمضان وہ خاص مہینہ ہے جس میں  انسان کو خدا کی جانب سے کھولے گئے رحمت کے دروازوں سے داخل ہو کر اپنے لئے شرف،عزت،کرامت،رزق،نصرت،تاج بندگی،مغفرت حاصل کرنا ہے اور اس کے لئے پوری کوشش کرنا ہے اور اگر انسان بالکل کوشش نہ کرے تو وہ ان چیزوں سے محروم بھی ہوسکتا ہے۔
۲۔دوسرا نکتہ یہ ہے کہ ممکن ہے  کوئی انسان یہ  سوچے کہ خدا نے اگر محروم کردیا تو کیاہواوہ  خود اپنے بل بوتے پر سب کچھ حاصل کرلے گا یا کسی ایسے کا سہارا لےلے  گا جو اسے یہ ساری چیزیں فراہم کرسکے۔ایسا سوچنا نادانی اور محض خام خیالی ہے۔کیونکہ ان ساری چیزوں کا اصلی  مالک خدا ہے ،کسی اور کا ان پر کوئی حق اور ملکیت نہیں ہے،سب کو وہی دینے والا ہے ،یہاں تک کہ ان کو  دینے والا بھی وہی ہے جن سے ملنے کی انسان کو امید ہو،وہ اگر نہ چاہے تو کسی کو یہ چیزیں نہیں مل سکتیں۔جیسے  عزت کے بارے میں خدا فرماتا ہے:’’ مَن کَانَ یُرِیدُ العِزَّة فَلِلّٰه العِزَّة جَمِیعاً ‘‘۔(فاطر:۱۰)جو بھی عزت چاہتا ہے جان لے کہ عزت ساری کی ساری خدا  کے اختیار میں ہے۔اس لئے انسان کسی کو عزت نہیں دے سکتا جب تک خدا نہ چاہے اور نہ ہی کسی سے عزت لے سکتا ہے جب تک  اللہ کا ارادہ نہ ہو۔
۳۔تیسرا نکتہ یہ ہے کہ خدا یوں ہی کسی کو اپنی رحمت،مغفرت،کرم،بخشش،رزق وغیرہ سے محروم نہیں کرتا بلکہ خدا نے تو رحمتوں کے دروازے کھول رکھے ہیں بالخصوص اس مبارک مہینے میں  اس نے رحمت کے وہ دروازے بھی کھول دئے ہیں جو عام دنوں میں بند رہتے ہیں،اس مہینے کو اس  نے مغفرت کا مہینہ قرار دیا ہے تاکہ جو چاہے معافی طلب کرے اور مغفرت پاکر جائے،رزق میں وسعت کے اسباب فراہم کئے ہیں تاکہ جس سے جتنا ہوسکے وہ مادی اور روحانی دونوں طرح کے رزق  حاصل کرکے لے جائے۔خدا تو ہمیشہ رحمت کرنا چاہتا ہے،مغفرت کرنا چاہتا ہے،عطا کرنا چاہتا ہے اب یہ انسان کے اختیار میں ہے کہ وہ ان مواقع سے فائدہ اٹھاتا ہے یا نہیں۔اس لئے ان ساری چیزوں میں جہاں خدا کا اختیار ہے وہی انسان کا ارادہ اور اس کی کوشش بھی  اہم کردار نبھاتی ہے۔اگر انسان کوشش کرے اور وہ اعمال انجام  دے جو رحمت کا باعث بنتے ہیں تو خدا کی رحمت واسعہ کے بادل خوب برسیں گے،اگر انسان توبہ و استغفار کرے تو خدا غفور و رحیم ہونے کی بنیاد پر  اسے معاف کردے گا ،اگر صدق دل سے خدا کو پکارے اور اپنی حاجتیں طلب  کرے تو خدا اسے بےحساب عطا فرمائے گا،اگر خدا کی بندگی کا طوق پہن لے اور غیر اللہ  کی بندگی  کو چھوڑ دے تو خدا وہ  عزت و کرامت بخشے گا  کہ اگر ساری دنیا  بھی ایک ہوجائے  تو اس کی عزت پر کوئی حرف نہیں آسکتا:
                                      مدعی لاکھ برا چاہے تو کیا ہوتا ہے
                                     وہی ہوتا ہے جو منظور خدا ہوتا ہے
اس خطبہ  میں امام(ع) روزہ داروں سے مخاطب ہوکر مزید  فرماتے ہیں:
’’أيها الصائم تقرب إلى الله بتلاوة كتابه في ليلك ونهارك فان كتاب الله شافع مشفع يوم القيامة لأهل تلاوته فيعلون درجات الجنة بقرائة آياته‘‘۔
اے روزہ دار! رات دن کلام اللہ (قرآن مجید) کی تلاوت کے ذریعہ خدا کا تقرب اختیار کرو  کہ یہ کتاب خدا ایسی شفاعت کرنے والی ہے کہ جس کی شفاعت اس کی تلاوت کرنے والوں کے لئے  قیامت کے دن قبول کی جائے گی اور اس کی آیات کی تلاوت کرنے والوں کے درجات جنت میں بہت بلند ہوں گے۔
مولائے کائنات کی حدیثوں،خطبوں،خطوط اور حکمت آموز کلمات میں قرآن کا تذکرہ بہت زیادہ ہوا ہے اور کیوں نہ ہوکہ یہ دونوں ثقلین ہیں جو کبھی ایک دوسرے سے الگ نہیں ہوسکتے ہیں۔یہ ایسے ساتھی ہیں جو ایک دوسرے کو اچھی طرح جانتے اور سمجھتے ہیں اس لئے دنیا کے لئے ایک دوسرے کا تعارف کرواتے ہیں۔قرآن اہلبیت(ع) کا تعارف کرواتا ہے،ان کے اوصاف بیان کرتا ہے اوران کی پیروی کی دعوت دیتا ہے اور اہلبیت(ع) قرآن کی عظمت بتاتے ہیں،اس کی اہمیت کو اجاگرکرتے  ہیں،اس کے اوصاف گنواتے ہیں،اس کی آیات کی تفسیر بیان کرتے ہیں،اسے تحریف سے بچاتے ہیں،اس کی تلاوت اور تدبر کا حکم دیتے ہیں  اور اس کے بتائے ہوئے دستورات پر عمل کی جانب رغبت دلاتے ہیں۔صرف نہج البلاغہ میں ۹۶ جگہ امام(ع) نے قرآن کی بات کی ہے۔یہاں ہم قرآن سے متعلق امام(ع) کے صرف چند جملوں اور نصیحتوں پر اکتفا کریں گے:
آپ فرماتے ہیں: ’’ و اقرؤا القرآن و استظهروه فانّ الله لا یعذّب قلبا  وعی  القرآن‘‘۔(بحار الانوار،ج۸۹،ص۱۹) قرآن پڑھو اور اس سے خدا کی مدد حاصل کرو یقینا ًخدا اس دل پر عذاب نازل نہیں کرے گا جس میں قرآن محفوظ ہو۔
ایک جگہ فرماتےہیں:’’ علیکم بتعلیم القرآن  و کثرة تلاوته و کثرة عجائبه تنالون به الدرجات فی  الجنة‘‘۔(کنزالعمال،متقی ہندی)تم پر لازم ہے کہ قرآن کی تعلیم حاصل کرو،کثرت سے اس کی تلاوت کرو،اس کے عجائبات  کو دیکھو،اس کے ذریعہ جنت میں تم بلند درجات پاؤ گے۔
یا فرماتے ہیں: ’’ و تعلمو القرآن  فانّه احسن الحديث و تفقهو فيه فانّه ربيع القلوب و استشفوا بنوره فانّه شفاء الصدور و احسنوا تلاوته فانّه احسن القصص‘‘۔(نہج البلاغہ،خطبہ۱۱۰) قرآن کی تعلیم حاصل کروکیونکہ یہ بہترین کلام ہے،اس میں غور و فکر کرو کیونکہ یہ دلوں کی بہار ہے،اس کے نور سے شفا حاصل کرو کیونکہ یہ سینوں کے لئے شفاہے اور اس کی اچھی طرح تلاوت کرو کیونکہ یہ بہترین اور عبرت آموز  بیان ہے۔
ایک جگہ روزانہ تلاوت قرآن کے ثواب کو بیان کرتے ہوئے فرماتے ہیں:’’جو بھی قرآن کریم کو دیکھ کر روزانہ سو آیات ترتیل ،خضوع اور اطمینان کے ساتھ تلاوت کرے خدا اسے اہل زمین کے نیک اعمال کے ثواب کے برابر ثواب عطا فرمائے گا  اور اگر اس کیفیت کے ساتھ  دوسو آیات پڑھے گا تو اس کا ثواب زمین اور آسمان دونوں میں بسنے والے افراد کے نیک اعمال کے برابر  ہوگا‘‘۔( بحار الانوار،ج۸۹،ص ۲۰)
لیکن صرف تلاوت کو امام(ع) کافی نہیں سمجھتے بلکہ اس کے ساتھ تدبر اور غور و خوض کو بھی ضروری مانتے ہیں جیسا کہ فرماتے ہیں:’’ اَلا لاَ خَير في تلاوة ليس فيها تدبّر ،اَلا لا خير في عِبادة ليس فيها تَفَقّه‘‘۔(بحار الانوار،ج۸۹،ص۲۱)اس تلاوت میں کوئی بھلائی نہیں ہے جس کے ساتھ تدبر نہ ہو اور اس  عبادت میں کوئی خیر نہیں ہے جو سمجھ کے نہ کی جائے۔
اور اس غور و خوض کا مقصد یہ ہے کہ انسان اس کے احکام کو سمجھے اور ان پر عمل کرے ورنہ خالی غور وخوض کا کوئی مقصدنہیں ہوتاہے۔امام فرماتے ہیں:’’ من استظهر  القرآن و حفظه و احلّ حلاله و حرم حرامه ادخله الله به الجنّة و شفعه فی عشرة من اهلبیته کلهم قد  وجب له النار‘‘۔(بحار الانوار،ج۸۹،ص۲۰)جو بھی قرآن سے مدد حاصل کرے،اسے حفظ کرے ،اس کے حلال کو حلال سمجھے اور اس کے حرام کو حرام جانے خدا اسے جنت میں داخل کرے گا اور اس کے ذریعہ اس کے افراد خانہ میں دس  ایسے افراد کی شفاعت کرے گا جو جہنم  کے مستحق تھے۔
اپنی آخری وصیت میں امام حسن(ع) و حسین(ع) سے فرماتے ہیں اور اس کے ذریعہ پوری امت مسلمہ کو مخاطب قرار دیتے ہیں: ’’والله والله فی القرآن لا یسبقکم فی العمل به غیر کم‘‘(نہج البلاغہ،مکتوب ۴۷)خدارا قرآن کے تئیں بیدار رہو اور  اپنی  ذمہ داری نبھاؤ کہیں ایسا نہ ہو کہ  غیر تم سے قرآن پر عمل کرنے میں آگے نکل جائیں۔
ایک طرف قرآ ن کریم کی تلاوت،تدبر اور عمل کی اس قدر تأکید ہے لیکن  دوسری   طرف مسلمان  اس کے صرف ظاہری احترام اورتوقیر  تک محدود ہوکر رہ گئے ہیں۔  قرآن کریم ہرگز اس لئے نازل نہیں ہوا ہے کہ اس کے ساتھ ایک خاص   آداب و رسوم اور احترام  بجالائے جائیں ، قرآن فقط حفظ کرنے اور بہترین لحن اور آواز کے ساتھ تلاوت کرنے کے لئے نہیں ہے۔ قرآن زندگی اور الٰہی پیغامات کی کتاب ہے اور سب کا فرض ہے کہ اپنی دنیوی زندگی میں اس پر عمل کریں تاکہ دنیا و آخرت میں کامیاب ہوں۔
افسوس ہے کہ اسکے برخلاف، جو کچھ آج ہم قرآن کریم کی تعظیم و تکریم کے عنوان سے مشاہدہ کر رہے ہیں وہ ظاہری احترام کی حد سے آگے نہیں بڑھتا اور قرآن کا  مرکزی کردار  مسلمانوں کی سیاسی و  معاشرتی  زندگی میں بھلا دیا گیا ہے۔
آج بہت سے اسلامی ممالک میں بہت سے ادارے، ابتدائی کلاسوں سے کالج اور یونیورسٹی کی سطح تک قرآن کریم کی تعلیم   کا انتظام کرتے ہیں اور مختلف طریقوں سے قرآن کے ناظرے، حفظ اور قرائت کا اہتمام کرتے ہیں اور ہر سال ہم عالمی پیمانے پر قرآن کریم کے حفظ و قرائت کے مقابلوں کا مشاہدہ کرتے ہیں۔ مختلف قرآنی علوم جیسے تجوید و ترتیل وغیرہ قرآن کے عقیدتمندوں کے درمیان ایک خاص اہمیت رکھتے ہیں۔ ان امور کے علاوہ قرآن عام مسلمانوں کے درمیان ایک خاص احترام کا حامل ہے مثلاً اس کے الفاظ و آیات کو بغیر وضو کے مس نہیں کرتے اور قرائت کے وقت ادب کے ساتھ بیٹھتے ہیں، زیادہ تر افراد قرآن کے مقابل اپنا پاؤں نہیں پھیلاتے، اس کو سب سے زیادہ بہتر جلد میں اور سب سے زیادہ مناسب جگہ پر رکھتے ہیں، خلاصہ یہ کہ اس طرح کے ظاہری احترام عام مسلمانوں کے درمیان رائج ہیں۔
اس میں کوئی شک نہیں ان  امور کی رعایت اس آسمانی کتاب کے احترام کے عنوان سے ایک بڑی فضیلت ہے کہ جس قدر بھی ہم ان کے پابند ہوں بہتر ہے لیکن ہم نے اس آسمانی کتاب کے احترام کا حق کماحقہ ادا نہیں کیا ہے اور خداوند متعال کی اس عظیم نعمت کا شکر جو کہ نعمت ہدایت ہے، بجا نہیں لائے ہیں ،  کیونکہ ہر نعمت کا سب سے زیادہ احترام اور شکر اس کی حقیقت کی شناخت او راس کا اس جگہ استعمال کرنا ہے کہ خدا نے جس  جگہ و محل کے لئے  اسے خلق کیا ہے۔
قرآن کریم کا احترام و اکرام   ضروری اور لازم ہے، لیکن اس  سے خدا  کے قرآن نازل کرنے کا مقصد پورا نہیں ہوتا اور اس آسمانی کتاب کے بارے میں مسلمانوں  کی جو ذمہ داری ہے وہ  ادا نہیں ہوتی۔   قرآن کا واقعی حق، مسلمانوں کی  انفرادی،سماجی،سیاسی اور معاشرتی  زندگی میں اس کو محور قرار دیئے بغیر ادا نہیں ہوسکتا۔
کیا  ڈاکٹر کے نسخے کو چومنا، اس کا احترام کرنا اور اس کو بہترین دُھن اور میٹھی آواز کے ساتھ پڑھنا کافی ہے ، یا یہ ضروری ہے  کہ ڈاکٹر کی ہدایات  کو سمجھیں اور ان پر عمل کریں ۔ ہر عقلمند یقین رکھتا ہے کہ شفا کے لئے ماہر ڈاکٹر کی ہدایات  پر عمل کرنا لازم ہے ۔قرآن کریم جو کہ ہماری سبھی بیماریوں،پریشانیوں،مشکلات اور مسائل کے لئے نسخہ کیمیا ہے تو  اس کے ساتھ ہمارا رویہ کیسا ہونا چاہیے؟
قرآن کریم کا ظاہری احترام کرنا ضروری ہے، لیکن یہ اس آسمانی کتاب کے بارے میں مسلمانوں کا سب سے معمولی فریضہ ہے، اس لئے کہ مسلمانوں پر فرض ہے کہ قرآن کریم کو سمجھنے اور اس کے حیات بخش احکام پر عمل  کر کے اس نعمت کا حقیقی شکر بجالائیں اور اپنی دلوں کی شفا اور نورانیت کا بندو بست کریں۔


0
شیئر کیجئے:
फॉलो अस
नवीनतम