Code : 498 25 Hit

مسجد كوفہ اور منتظرین کی فریادیں

صدر اسلام سے آج تک امام زمانہ(عج) کا انتظار کرنے والے صلحاء اور شیعہ علماء کا یہ شیوہ رہا ہے کہ وہ امام زمانہ(عج) کے دیدار سے مشرف ہونے کے لئے 40 شب جمعہ، مسجد کوفہ سے مسجد سہلہ جایا کرتے تھے یا 40 شب چہار شنبہ مسجد سہلہ میں رہ کر عبادت،نماز گریہ و زاری کیا کرتے تھے تاکہ انہیں حضرت صاحب الزمان(عج) کے روئے پر نور کی زیارت ہوجائے۔

ولایت پورٹل: مسجد کوفہ عالم اسلام کی ایک مقدس ترین مسجد ہے کہ جو امام زمانہ(عج) کے انتظار کے حوالہ سے ایک سنبل(Symbol) کے طور پر جانی اور پہچانی جاتی ہے،چونکہ یہی مسجد امام زمانہ (عج) کے ظہور کے وقت آپ کی فعالیتوں کا مرکز قرار پائے گی۔ چشم فلک نے کبھی اس مقدس بارگاہ میں وہ منظر بھی دیکھا کہ جب علی علیہ السلام اس کے منبر سے خطبہ ارشاد فرمایا کرتے تھے اور شمع خاندان عصمت کے پروانے حضرت کے گہربار کلمات و بیانات سے استفادہ اور کسب فیض کرتے تھے اب آخر میں جب حضرت صاحب الزمان(عج) کا ظہور ہوگا تو پھر وہی نورانی سما ہوگا ،نورانی منبر ہوگا اور لوگ آپ سے کسب فیض کریں گے،آپ کی لسان شریعت سے بیان شریعت سنیں گے،عالم علم لدنی سے حقائق اشیاء کے متعلق علم لیں گے،وارث علی سے حق و حقیقت کا دل نواز نغمہ اپنے وجود کی گہرائیوں میں سن کر بسائیں گے چنانچہ اس سلسلہ میں ہمارے اور آپ کے چھٹے امام  حضرت جعفر صادق علیہ السلام  ارشاد فرماتے ہیں:’’گویا میں قائم کو دیکھ رہا ہوں کہ آپ مسجد کوفہ کے منبر پر تشریف فرما ہیں اور آپ کے 313 باوفا اصحاب آپ کے اطراف میں حلقہ بنا کر بیٹھے ہیں کہ جو زمین خدا پر اس کے پرچم دار اور خدا کی طرف سے اس کی زمین کے وارث مقرر کئے گئے ہیں‘‘۔(1)
اسی سلسلہ میں پانچویں امام حضرت محمد باقر علیہ السلام کا بھی ارشاد گرامی ہے:’’مہدی وارد کوفہ ہونگے تو لوگوں کے تین گروہ ایک صف میں بیٹھے ہوں گے اور جب آپ منبر پر جاکر خطبہ ارشاد فرمائیں گے لوگ شوق کے مارے اتنے آنسو بہائیں گے کہ آپ کی باتوں کی طرف متوجہ  نہ ہوسکیں گے۔(2)
مسجد کوفہ میں عبادت کرنے کی فضیلت
روئے زمین پر کچھ ایسی جگہیں ہیں جہاں عبادت کرنے کا ثواب حد درجہ بڑھ جاتا ہے جس طرح گھر پر نماز پڑھنے کے مقابل کسی گلی کوچہ کی مسجد میں اگر نماز ادا کی جائے تو اس نماز کا ثواب 25 گنا زیادہ ہوجاتا ہے اسی طرح اگر کسی محلہ یا شہر کی جامعہ مسجد میں نماز پڑھی جائے تو یہ ثواب مزید بڑھ جاتا ہے۔یہ بات تو عام مساجد کے سلسلہ سے تھی۔ لیکن روئے زمین پر 4 ایسی مساجد بھی ہیں جن میں نماز پڑھنے کے ثواب کی مقدار کو صرف خدا ہی جانتا ہے جیسا کہ مکہ میں مسجد الحرام،مدینہ منورہ میں مسجد النبی(ص) کوفہ میں مسجد کوفہ اور فلسطین میں مسجد الاقصیٰ۔
لہذا جس طرح دیگر مساجد میں عبادت کی فضیلت کا تذکرہ روایات میں موجود ہے اسی طرح مسجد کوفہ میں عبادت کرنے کی فضیلت اور اہمیت کا اندازہ حضرت امام ابو جعفر محمد باقر علیہ السلام کی اس روایت سے  لگایا جاسکتا ہے:’’اگر لوگوں کو مسجد کوفہ میں عبادت کرنے کا ثواب معلوم ہوتا تو وہ دور و دراز سے اپنا سامان سفر باندھتے اور مرکبوں پر سوار ہوکر وہاں پہونچتے اور عبادت کرتے ۔اور اس کے بعد فرمایا:مسجد کوفہ میں ایک فریضہ و واجب نماز پڑھنے کا ثواب ایک حج کے برابر ہے اور ایک نافلہ پڑھنے کا ثواب ایک عمرہ کے برابر ہے‘‘۔(3)
نیز آپ سے ایک دوسری روایت میں اس طرح نقل ہوا ہے:’’مسجد کوفہ میں ایک واجب نماز ادا کرنا ایک حج مقبولہ اور مستحب نماز پڑھنا ایک عمرہ مقبولہ کے برابر ہے‘‘۔(4)
لہذا صدر اسلام سے آج تک امام زمانہ(عج) کا انتظار کرنے والے صلحاء اور شیعہ علماء کا یہ شیوہ رہا ہے کہ وہ امام زمانہ(عج) کے دیدار سے مشرف ہونے کے لئے 40 شب جمعہ، مسجد کوفہ سے مسجد سہلہ جایا کرتے تھے یا 40 شب چہار شنبہ مسجد سہلہ میں رہ کر عبادت،نماز گریہ و زاری کیا کرتے تھے تاکہ انہیں حضرت صاحب الزمان(عج) کے روئے پر نور کی زیارت ہوجائے۔(5) تاکہ وہ حضرت کے سامنے اپنا درد دل بیان کرسکیں اور آپ کے ظہور کے لئے اللہ سے دعا کرسکیں۔

۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
حوالہ جات:
(1)۔محمد باقر مجلسى، بحار الانوار، (بيروت، مؤسسه الوفاء) ج 52، ص 326۔
(2)۔ ابى الحسن على بن عيسى بن ابى الفتح الاربيلى، كشف الغمه، قم، مكتبه بنى هاشم، المطبعه العلميه، ج 2، ص 463۔
(3)۔ جعفر بن محمد بن قولويه، كامل الزيارات، مترجم جواد ذهنى تهرانى، ناشر، گنجينه ذهن،ص 703۔
(4)۔ جعفر بن محمد بن قولويه، كامل الزيارات، مترجم جواد ذهنى تهرانى، ناشر، گنجينه ذهن،ص 74، ح 5۔
(5)۔شيخ عباس قمى، مفاتيح الجنان۔



0
شیئر کیجئے:
फॉलो अस
नवीनतम