Code : 499 24 Hit

محبت،والدین پر اولاد کا سب سے بنیادی حق

اگر کبھی وقت ملے تو ان حراستی مراکز(Rehab center) کا دورہ بھی کیجئے جہاں جرائیم پیشہ نو عمر کے بچوں کو رکھ کر ان کا علاج کیا جاتا ہے کہ ان مراکز میں ان نوجوانوں کی تعداد کتنی زیادہ ہے کہ جنہیں آغوش احساسات میں محبت کی لوریاں نہیں ملیں،جنہیں پھولوں کی امید میں کانٹوں نے گلے لگایا۔

ولایت پورٹل: کچھ والدین بچوں سے محبت کرنے کو ایک اضافی،فرعی اور غیر بنیادی چیز مانتے ہیں۔ان کا ماننا یہ ہے کہ والدین کے ذمہ محبت کے علاوہ بھی بچے کی نسبت بہت سی بنیادی ذمہ داریاں عائد ہوتی ہیں۔البتہ بچے سے محبت بھی کرنی چاہیئے اور اگر ہوسکے تو اس کے تقاضوں کو پورا کردیا جائے تو کوئی قباحت نہیں ہے لیکن اگر ان پر توجہ نہ بھی کی جائے تو اس سے کوئی خاص حادثہ رونما نہیں ہوگا۔
ایسی فکر رکھنے والے والدین بچوں کی ظاہری ضرورتوں مثال کے طور پر کھانا، پہننا،رہنا،کھیلنا،صحت اور پڑھائی وغیرہ وغیرہ کو ہی اصلی اور بنیادی ضرورت سمجھتے ہیں اگر یہ ضرورتیں پوری ہوگئی تو گویا ان کے بچوں کی زندگی کامیاب ہے اور اگر یہ ضرورتیں پورا نہ ہوئیں تو گویا انہوں نے والدین ہونے کا حق ہی پورا نہیں کیا ہے۔
جبکہ یہ تفکر سراسر غلط ہے بلکہ والدین کو ہر گز یہ بات نہیں بھولنی چاہیئے  کہ تربیتی نقطہ نظر سے زندگی میں  بہت سی ضرورتوں کا تعلق اسی احساس محبت سے جڑا ہوا ہے یعنی بچے کو ہر چیز سے زیادہ والدین کی محبت و عطوفت کی ضرورت ہوتی ہے اور اگر کسی بچے کا یہ پہلو تشنہ رہ جائے اور اسے ضرورت بھر محبت نہ ملے تو اس میں نفسیاتی طور پر بیماریاں پیدا ہوجاتی ہیں اور وہ خرابیوں کے گھڑے میں گرنے کی کگار پر رہتا ہے۔ اور اس دعوے کی دلیل کے طور پر یہی کہنا کافی ہے کہ اگر کبھی وقت ملے تو ان حراستی مراکز(Rehab center) کا دورہ  بھی کیجئے جہاں جرائیم پیشہ نو عمر کے بچوں کو رکھ کر ان کا علاج کیا جاتا ہے کہ ان مراکز میں ان نوجوانوں کی تعداد کتنی زیادہ ہے کہ جنہیں آغوش احساسات میں محبت کی لوریاں نہیں ملیں،جنہیں پھولوں کی امید میں کانٹوں نے گلے لگایا۔
آپ یہ تصور نہ کیجئے کہ کبھی کبھی حالات ایسے ہوجاتے ہیں اور یہ سب حالات کی زد میں آئے ہوئے پھول ہیں جو مرجھانے کے قریب ہیں۔ لیکن ہم یہ کہیں گے کہ انسان کی تربیت میں ماحول اور حالات ضرور اثر انداز ہوتے ہیں لیکن اگر وہ زمین جس میں پھول کا پودا لگایا جائے بنجر ہو تو اس میں صاف شفاف پانی بھی اس کی غذا نہیں بنتا اور  اپنی انرجی کھو دیتا  لیکن اگر اس زمین میں جان ہو اور زرخیز ہو تو غذائی قلت اور کم پانی میسر آنے کے باوجود بھی وہ پودا اپنی نشو نما کا سفر جاری رکھتا ہے ۔بس اسی طرح اگر کسی بچے کو والدین کی ممتا اور محبت ملے تو باہری دنیا میں وہ اپنے کو گم نہیں کرے گا لیکن اگر گھر سے ہی اس کے عواطف اور احساسات محبت کے پیاسے ہونگے تو بہر حال ماحول کی خرابی جلد اسے اپنی چپیٹ میں لے لے گی۔



0
شیئر کیجئے:
फॉलो अस
नवीनतम