Code : 515 21 Hit

محاسبہ نفس

یہ روز مرہ کا معمول ہے اور عام زندگی میں ترقی کرنے کے لئے ضروری اصول،لیکن کیا ہم نے کبھی یہ سوچا ہے کہ ہم جہاں ہلدی مرچ،دھنیا اور چینی کا حساب کتاب کرتے ہیں تو کیا یہ نا انصافی نہیں ہے کہ ہم خود اپنی زندگی کا کوئی حساب کتاب نہ کریں اور اخلاقی طور پر اپنے گھاٹے اور نقصان کا کوئی تخمینہ و اندازہ نہ لگائیں۔وہ زندگی کہ جو اللہ کی سب سے بڑی نعمت ہے ہم اسے ویسے ہی گذار دیتے ہیں جبکہ یہ اتنا بڑا سرامایہ ہے جس کا مقابلہ دنیا کی کسی چیز سے نہیں کیا جاسکتا ہے۔

ولایت پورٹل: قارئین کرام! حساب و کتاب ایک ایسی چیز ہے جسے ہر انسان اپنی زندگی میں ضرور انجام دیتا ہے۔ہر کام کرنے والا ،ہر تجارت پیشہ جب شام میں گھر لوٹ کر آتا ہے اور اسے  سکون کے کچھ لمحات میسر آتے ہیں تو وہ اپنے پورے دن کا حساب کرنے میں مشغول ہوجاتا ہے۔ مثال کے طور پر ایک دوکان پر سودا سلف بینچنے والا فرصت کے لمحات میں یہ حساب کرتا ہے کہ آج اس نے کتنا سامان بیچا اوراسے کتنا فائدہ یا کتنا نقصان ہوا۔کن چیزوں میں اسے فائدہ ہوا اور کن چیزوں میں اس نے نقصان اٹھایا۔
یہ روز مرہ کا معمول ہے اور عام زندگی میں ترقی کرنے کے لئے ضروری اصول،لیکن کیا ہم نے کبھی یہ سوچا ہے کہ ہم جہاں ہلدی مرچ،دھنیا اور چینی کا حساب کتاب کرتے ہیں تو کیا یہ نا انصافی نہیں ہے کہ ہم خود اپنی زندگی کا کوئی حساب کتاب نہ کریں اور اخلاقی طور پر اپنے گھاٹے اور نقصان کا کوئی تخمینہ و اندازہ نہ لگائیں۔وہ زندگی کہ جو اللہ کی سب سے بڑی نعمت ہے ہم اسے ویسے ہی گذار دیتے ہیں جبکہ یہ اتنا بڑا سرامایہ ہے جس کا مقابلہ دنیا کی کسی چیز سے نہیں کیا جاسکتا وقت بہت بڑی دولت ہے اور اس کی اہمیت کا اندازہ اسی بات سے لگایا جاسکتا ہے کہ اللہ تعالٰی نے قرآن مجید میں وقت کی قسم کھائی ہے’’والعصر ان الانسان لفی خسر‘‘۔زمانے کی قسم! بے شک انسان کھاٹے میں ہے۔ یہی وجہ ہے اسلام میں جہاں زندگی کے دیگر شعبہ ہائے حیات میں حساب و کتاب کو ضروری قرار دیا گیا ہے وہیں خود زندگی پر بھی ایک نظر ڈالنے کی تاکید ملتی ہے۔ چنانچہ ہمشیہ سے علمائے اخلاق اور عظیم عرفاء کا یہ طریقہ رہا ہے کہ ہو اپنے چاہنے والوں کو اس چیز کی بڑی تأکید فرمایا کرتے ہیں  کہ دن کے چوبیش گھنٹوں میں سے ایک گھنٹہ صرف اپنے سے مخصوص رکھا جائے۔ممکن ہے آپ یہ کہیں کہ ہماری زندگی کا کوئی بھی وقت اپنے لئے نہیں ہے بلکہ ہماری پوری زندگی اور اس کا ہر کام بشریت کی خدمت کے لئے وقف ہے۔تو ہم اس کے جواب میں یہی کہیں گے کہ لاکھ آپ کے تمام اوقات خدمت بشریت میں وقف ہوں تب بھی انسان کو یہ ضرورت پڑتی ہے کہ وہ دن میں ایک خاص وقت کو اپنے اور اپنے خالق سے خصوصی رابطہ کے لئے رکھے۔
یعنی ایک ایسا وقت دن رات میں ہمارے پاس ہونا چاہیئے کہ جس میں ہم اپنے بارے میں سوچ سکیں،جس میں ہم اپنے کو خیالی دنیا سے باہر لاکر حقیقت کے ساحل تک پہونچ سکیں، ایک ایسا وقت جس میں ہم ہوں اور ہمارا رب،ہم ہوں اور اپنے رب کی مناجات،اس کی بارگاہ میں ہماری توبہ و انابت و استغفار۔
اور اگر استغفار کے مقصد پر غور کیا جائے تو سمجھ میں آجائے گا کہ اپنے نفس کا محاسبہ کرنا اور اسے صحیح سمت میں موڑنا ہی اس کا مقصد ہے کہ میں نے پچھلے ۲۴ گھنٹوں  میں نے کیا کیا ہے ؟جب انسان یہ غور کرے گا کہ میں نے مثلاً فلاں اچھا کام کیا ہے تو اس پر خدا کا شکر ادا کرے اور اگر کوئی برا کام کیا ہے تو یہ ارادہ کرے کہ آئندہ اسے نہیں کرے گا۔



0
شیئر کیجئے:
फॉलो अस
नवीनतम