Code : 1225 150 Hit

ماہ شعبان کے الوداعی ایام میں کچھ خاص نصیحتیں

شعبان المعظم کے یہ آخری ایام ہمارے لئے ایک عظیم موقع ہے لہذا انہیں ہاتھوں سے نہ جانے دیا جائے ہمیں اس کے ہر لمحہ سے استفادہ کرنا چاہیئے اور آخری شعبان کے 3 دن اتنی اہمیت کے حامل ہیں کہ اگر روزہ رکھ کر انہیں ماہ شعبان سے متصل کردیا جائے تو مسلسل دو ماہ کے روزوں کا ثواب ہمارے نامہ اعمال میں لکھا جائے گا۔

ولایت پورٹل: ماہ شعبان المعظم آہستہ آہستہ ہم سے جدا ہورہا ہے اور ہم دھیرے دھیرے فصیل رمضان المبارک تک پہونچنے والے ہیں لہذا سیرت آئمہ معصومین علیہم السلام کی روشنی میں ہمیں ان ایام میں کیا کرنا چاہیئے چنانچہ اباصلت ہروی کہتے ہیں:ماہ شعبان المعظم کے آخری جمعہ کو میں امام رضا علیہ السلام کی خدمت میں حاضر ہوا تو حضرت نے فرمایا:اے ابا صلت! ماہ شعبان کے اکثر ایام گذر چکے ہیں اور آج ماہ شعبان کا آخری جمعہ ہے پس اپنی گذشتہ کی کوتاہیوں اور تقصیروں کو ان باقی ماندہ ایام میں جبران کرلو اور جو چیزیں تمہارے فائدے کی ہیں انہیں انجام دو اور شعبان کے باقی ماندہ دنوں میں خوب دعا کرو استغفار کرو اور زیادہ قرآن مجید کی تلاوت کرو اور زیادہ سے زیادہ اپنے گناہوں کی معافی طلب کرو تاکہ جب تم ماہ رمضان المبارک میں داخل ہو تو تم اپنے خدا سے ملاقات کرنے کے لئے بالکل خالص ہوجاؤ۔ اور اگر تمہارے ذمہ کوئی امانت ہو یا قرض ہو اسے ادا کردو اور اگر تمہارے دل میں کسی کی نسبت کینہ و حسد ہو تو اسے باہر نکال دو اور وہ گناہ جو تم ماضی میں انجام دیتے تھے ان کی نسبت خدا سے ڈرو اور اپنے ظاہری و باطنی کاموں کو خدا کے سپرد کردو چونکہ جو اللہ پر توکل کرتا ہے اللہ تعالٰی اس کے لئے کافی ہوتا ہے اور اس مہینہ کے باقی ایام میں اس دعا کو زیادہ سے زیادہ پڑھو:’’اَللّـهُمَّ اِنْ لَمْ تَکُنْ غَفَرْتَ لَنا فیما مَضی مِنْ شَعْبانَ، فَاغْفِرْ لَنا فیما بَقِی مِنْهُ‘‘۔
خدایا اگر ماہ شعبان کے گذشتہ دنوں میں تونے ہمیں معاف نہیں کیا ہے تو اس کے باقی ماندہ ایام میں ہمیں معاف کردے۔
اور اس کے بعد امام علیہ السلام نے فرمایا: اللہ تعالٰی رمضان المبارک کے احترام و عظمت کی خاطر بہت سے بندوں کو ماہ شعبان میں جہنم کی آگ سے نجات دیدیتا ہے۔(زاد المعاد، صفحه 81 و 82)
شعبان کے آخری 3 دنوں میں روزہ رکھنے کا ثواب
قارئین! شعبان المعظم کے یہ آخری ایام ہمارے لئے ایک عظیم موقع ہے لہذا انہیں ہاتھوں سے نہ جانے دیا جائے ہمیں اس کے ہر لمحہ سے استفادہ کرنا چاہیئے اور آخری شعبان کے 3 دن اتنی اہمیت کے حامل ہیں کہ اگر روزہ رکھ کر انہیں ماہ شعبان سے متصل کردیا جائے تو مسلسل دو ماہ کے روزوں کا ثواب ہمارے نامہ اعمال میں لکھا جائے گا۔
چنانچہ صادق آل محمد(ص) ارشاد فرماتے ہیں:’’مَنْ صامَ ثَلاثَةَ أَیّامِ مِنْ اخِرِ شَعْبانَ وَ وَصَلَ‌ها بِشَهْرِ رَمَضانَ کَتَبَ اللّه ُ. لَهُ صَـوْمَ شَهْـرَیْنِ مُتَتـابِعَـیْنِ‘‘۔
حضرت امام جعفر صادق علیہ السلام نے ارشاد فرمایا:جو شخص ماہ شعبان کے آخری تین دن روزہ رکھے اور اس مہینہ کو روزہ رکھتے ہوئے ماہ رمضان المبارک سے متصل کردے تو خداوند عالم پئے در پئے دو مہینہ کے روزوں کا ثواب اسے عطا کرے گا۔(وسائل الشیعه، ج 7، ص 375، ح 22)
لہذا شعبان کے ان باقی ماندہ دنوں میں ہم سے جس قدر ہوسکے محمد و آل محمد(ص) پر صلوات پڑھیں،استغفار کریں دعائے فرج کو پڑھیں تاکہ ہم مکمل بخشش کے ساتھ ماہ رمضان المبارک میں داخل ہوں۔
مناجات شعبانیہ کے متعلق ایک اہم نکتہ
مناجات شعبانیہ ایک مأثور دعا ہے اس مناجات میں ہماری جو خواہشیں اور آرزوئیں ہیں وہ ہم اپنے مالک حقیقی سے کہہ سکتے ہیں چونکہ اس دعا میں یہ مضامین احسن طریقہ سے بیان ہوئے ہیں اور اگر اس مناجات کو ابھی تک پڑھنے کی توفیق نہیں مل پائی ہے تو اس دعا کو ضرور پڑھیئے چونکہ اس مناجات کے سلسلہ میں ہمارے بزرگ علماء سے بہت ہی تأکیدات وارد ہوئی ہیں۔
 


0
شیئر کیجئے:
ہمیں فالو کریں
تازہ ترین