Code : 490 21 Hit

قرآن مجید اور موجودہ انجیل کے آئینہ میں حضرت عیسٰی علیہ السلام کی شخصیت

مسلمانوں اور عیسائیوں کے ما بین دونوں پیغمبروں کے سلسلہ سے اظہار رائے کو لیکر بنیادی فرق یہ ہے کہ ایک بھی مسلمان ایسا نظر نہیں آئے گا جو جناب عیسی علیہ السلام کے سلسلہ سے منفی نظر رکھتا ہو اور یا انکے خلاف کوئی غلط بات منسوب کرتا ہو جبکہ اسکے برخلاف رحمۃ للعالمین کے سلسلہ سے عیسائیوں کی دشنام طرازیوں سے کتابیں بھری پڑی ہیں۔

ولایت پورٹل: ہم سب نئے عیسوی سال کے نزدیک ہیں ، ہر طرف زور و شور سے نئے سال کی تیاریاں ہو رہی ہیں اس بیچ بعض مقامات پر مسلمانوں کے درمیان بھی نئے سال کے سلسلہ سے تقاریب منعقد ہوتی ہیں ،  خوشی منانا کوئی بری بات نہیں ہے انسان خوش بھی ہو سکتا ہے اور دوسروں کی خوشی میں شریک بھی، یہ دین کا دستور ہے کہ دوسروں کی خوشیوں میں شریک رہو اور اپنی خوشیوں میں انہیں شامل  کرو لیکن جو بات یہاں قابل غور ہے وہ  یہ کہ اس نئے سال کے استقبال میں ہونے والی پارٹیوں میں  بسا اوقات ایسا کچھ نظر آتا ہے جو سراسر خلاف دین و شریعت ہے ، بہت سی ایسی باتیں دیکھنے میں آتی ہیں جنکا تعلق  دین و مذہب سے تو بالکل نہیں بلکہ ہمارے قومی تشخص اور مشرقی تہذیب سے بھی انکا واسطہ نہیں ہوتا ہے ۔اس نئے سا ل میں آتش بازی جیسی چیزیں بھی دیکھنے میں آتی ہیں  جن سے حادثات کا خطرہ رہتا ہے ، اور کہیں کسی کی آنکھ چلی جاتی ہے تو کہیں کسی کے کان میں مشکل پیدا ہو جاتی ہے حتی بعض مقامات پر بے احتیاطی کی وجہ سے جان جانے کا بھی خطرہ رہتا ہے ۔ان سب باتوں کے ساتھ فضول خرچی اور وقت کی بربادی کا اپنا حساب ہے جو خدا کو ہمیں دینا ہوگا ۔
اسکے علاوہ ہمارے یہاں  نوجوان نسل میں ایک آفت اب کرسمس کی بھی بڑھتی جا رہی ہے  جبکہ کرسمس کے بارے میں خود عیسائیوں کے درمیان کافی اختلاف پایا جاتاہے اور کوئی بھی یقینی طور پر یہ  نہیں کہہ سکتا کہ ۲۵ دسمبر کو جناب عیسی علیہ السلام کی ولادت ہوئی تھی۔(1)  لیکن ۲۵ دسمبر کو دنیا بھر میں عام طور پر  عیسائی کرسمس ڈے مناتے ہیں ، ان کاخیال ہے کہ اسی تاریخ میں حضرت عیسی ؑ کی ولادت ہوئی ہے ،چنانچہ بڑے پیمانے پر جشن  و خوشی کی محفلوں کے ساتھ رقص و سرو ر کی محفلیں بھی سجتی ہیں اور بہت سے ایسے کام ہوتے ہیں جنکا تعلق جناب عیسی علیہ السلام سے ہرگز نہیں ہے  اور یہ بات پورے وثوق سے کہی جا سکتی ہے کہ اگر جناب عیسی علیہ السلام آجائیں تو سب سے زیادہ نفرت کا اظہار ان پروگراموں سے کریں گے جو انکی ولادت کی مناسبت سے دنیا بھر میں انجام پاتے ہیں  ، یہ سارا ہلڑ ہنگامہ اس حالت میں ہے کہ ابھی یہ بھی پتہ نہیں کہ جناب عیسی  علیہ السلام  اس دن پیدا بھی ہوئے تھے یا نہیں؟ کیونکہ جس کرسمس پر ساری دنیا کو سر پر اٹھا لیا جاتا ہے اس کرسمس ڈے کے بارے میں نہ ہی انجیل میں کچھ ملتا ہے اور نہ ہی عیسائیوں کی دیگر کتب میں ۔ اور کہا یہ بھی جاتا ہے کہ صدیوں تک 25دسمبر کو  حضرت عیسی  علیہ السلام  کی تاریخ ولادت کے طور پر نہیں منایا جاتا تھا   اور 530ء میں سیتھیا کا ایک ڈایونیس اکسیگز نامی راہب جو منجّم(ستاروں کا علم رکھنے والا) بھی تھا، تاریخ ولادت مسیح کی تحقیق اور تعین کے لیے مقرر ہوا۔ سو اُس نے حضرت مسیح کی ولادت 25دسمبر مقرر کی کیونکہ مسیح سے پانچ صدی قبل 25دسمبر مقدس تاریخ تھی۔(2) بعض لوگوں کا خیال ہے کہ چودہویں صدی تک کرسمس نام کی کوئی چیز نہیں تھی جس میں  جشن منایا جاتا ہو۔(3)  کسی نے اس بات کی تائید میں بڑی اچھی بات کہی ہے کہ:’’قرآن مجید میں سورہ  مریم سے معلوم ہوتا ہے کہ جب حضرت مریم ؑکو بھوک کا احساس ہوا  تو پروردگار نے ان پر الہام کیا کہ کھجوروں کے تنے کو ہلائیں ، تاکہ ان پر تازہ پکی کھجوریں گریں اور وہ اس کو کھائیں اور چشمہ کاپانی پی کر طاقت حاصل کریں۔ اب فلسطین میں موسم گرما کے وسط یعنی جولائی، اگست میں ہی کھجوریں ہوتی ہیں۔ اس سے بھی یہ امر واضح ہو جاتا ہے کہ حضرت مسیح کی ولادت جولائی یا اگست کے کسی دن میں ہوئی تھی اور 25دسمبر کی تاریخ غلط ہے‘‘۔(4) جناب عیسی علیہ السلام کی تاریخ ولادت جو بھی ہو انکے نام پر اگر جشن منایا جاتا ہے تو اخلاق و دین و شریعت کے دائرہ میں رہتے ہوئے ہم اپنے عیسائی بھائیوں کی خوشی میں شریک ہو سکتے ہیں لیکن اس بات کا بہر حال خیال رکھنا ضروری ہے کہ ان سے آگے نہ بڑھ جائیں اور وہ سب کرنے لگے جو خودوہ عیسائی ہو کر  بھی نہیں کرتے ۔
ایک بات پر ہمیں اورغور کرنے کی ضرورت ہے اور وہ یہ کہ جناب عیسی علیہ السلام پیغمبر امن تھے لیکن آج دنیا میں انکے پیرو کار ہونے کا دعوی کرنے والی بڑی طاقتیں دنیا کو نا امن کرنے کے درپے ہیں یہ ایک افسوس کا مقام ہے ، یمن کی ویرانی ہو ، فلسطین و افغانستان ہوں کہ عراق و شام ،ہر طرف ان بڑی طاقتوں کے طاقت کے مظاہرے نظر آتے ہیں جو جناب عیسی علیہ السلام کے ماننے پر فخر کرتے ہیں ،اور بڑی عجیب بات یہ ہے کہ یوں تو مسلمان اس جناب عیسی(ع) کی تصویر سے سخت اختلاف رکھتے ہیں جو عیسائیوں کے یہاں ترسیم کی گئی ہے لیکن بذات خود جناب عیسی علیہ السلام اور انکی والدہ گرامی جناب مریم کا خاص احترام کرتے ہیں ، جناب مریم کے سلسلہ سے پورا ایک سورہ قرآن کریم میں موجود ہے ، لیکن افسوس کی بات ہے کہ جب عیسائیوں کی بات آتی ہے تو اکثر و بیشتر وہ  لوگ حضور سرورکائناتﷺ کی ذات کو نشانہ بناتے نظر آتے ہیں ، گرچہ بہت ہی کم لوگ ایسے بھی جنہوں نے حضرت محمد مصطفی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کی شخصیت کا اعتراف کیا ہے اور انکی عظمت پر کتابیں بھی لکھی ہیں ، لیکن مسلمانوں اور عیسائیوں کے ما بین دونوں  پیغمبروں کے سلسلہ سے اظہار رائے کو لیکر بنیادی فرق یہ ہے کہ ایک بھی مسلمان ایسا نظر نہیں آئے گا جو جناب عیسی علیہ السلام کے سلسلہ سے منفی نظر رکھتا ہو اور یا انکے خلاف کوئی غلط بات منسوب کرتا ہو جبکہ اسکے برخلاف  رحمۃ للعالمین  کے سلسلہ سے عیسائیوں کی دشنام طرازیوں سے کتابیں بھری پڑی ہیں ۔دوسری طرف  مسلمان نہ صرف جناب عیسی کا احترام کرتے ہیں اور انہیں نبی  تسلیم کرتے ہیں بلکہ جناب عیسی علیہ السلام کو ایک مجاہد الوالعزم پیغمبر مانتے ہیں۔(5) ۔یہاں پر بھی عیسائیوں اور مسلمانوں کے درمیان جناب عیسی علیہ السلام کو لیکر کافی فرق نظر آتا ہے  جس احترام و اکرام سے قرآن انکا تذکرہ کرتا ہے اور جو روحانی ومعنوی شخصیت قرآن پیش کرتا ہے وہ اس شخصیت سے کہیں مختلف ہے جسے عیسائی پیش کرتے ہیں ۔
قرآ ن و انجیل  میں جناب عیسی علیہ السلام کی شخصیت :
قرآن کریم میں جناب عیسی کا نام ۲۳ یا اس سے زیادہ  مرتبہ عیسی ، اور ۱۱ مرتبہ مسیح اور دو مرتبہ ابن مریم کے طور پر آیا ہے ۔ جناب عیسی کے کاموں کو قرآن  مجید اللہ کی جانب منسوب کرتا ہے اور اس طرح نقل کرتا ہے کہ جناب عیسی نے خود کہا کہ میں جو کچھ کرونگا باذن اللہ کرونگا  چنانچہ سورہ آل عمران میں جناب عیسی(ع) کے سلسلہ سے ارشاد ہوتا ہے «وَ رَسُولًا إِلی بَنِی إِسْرائِیلَ أَنِّی قَدْ جِئْتُکمْ بِآیةٍ مِنْ رَبِّکمْ   بنی اسرائیل کی جانب آنے والے رسول نے ان سے کہا میں تمہارے لئے تمہارے رب کی جانب سے  واضح نشانی)  معجزہ (لیکر آیا ہو ں پھر آپنے اپنے معجزے کو یوں بیان کیا :أَنِّی أَخْلُقُ لَکمْ مِنَ الطِّینِ کهَیئَةِ الطَّیرِ فَأَنْفُخُ فِیهِ فَیکونُ طَیراً بِإِذْنِ اللَّهِ  ‘‘۔میں مٹی سے  ایک پرندے کی شکل بناؤنگا اور اس میں  (روح )پھونکونگا پس وہ اللہ کے اذن سے  پرندہ  بن جائے گی ۔یا جب کوڑھ اور برص کے لوگوں کو شفا دینے کی بات آئی تب بھی یہی باذ ن اللہ کی قید ملتی ہے ، جہاں آپ نے فرمایا :’’ وَ أُبْرِئُ الْأَکمَهَ وَ الْأَبْرَصَ وَ أُحْی الْمَوْتی بِإِذْنِ اللَّهِ‘‘۔ شہید مطہری اس مقام پر فرماتے ہیں  یہاں جناب عیسی علیہ السلام، فعل کی نسبت تو خود کی طرف دیتے ہیں لیکن باذن اللہ کی قید کے ذریعہ۔(6) اس سے جناب عیسی علیہ السلام کے وجود کے اندر روح بندگی کا پتہ چلتا ہے ،۔جبکہ انجیل میں جناب عیسی علیہ السلام کا بڑا معجزہ شراب بنانے کے طور پر بیان ہوتا ہے جو قطعا غلط ہے۔(7) شاید اس تحریف کا سبب یہ ہو کہ عیسائیوں کے یہاں جناب عیسی کے وجود میں ہی خدا کو انکے گوشت اور خون کے طور پر بیان کیا گیا  ۔(8) لہذا عیسی علیہ السلام  کسی بات کے لئے اس حساب سے جوابدہ نہیں ہیں کہ حرام و حلال کی فکر کریں ، نتیجہ میں جو کچھ عیسائیوں کو سمجھ آیا انہوں نے اس میں داخل کر دیا ۔
جناب عیسی علیہ السلام کی ولادت کے سلسلہ سے بھی قرآن بہت ہی نزاکت و خوبصورتی کے ساتھ اس حقیقت کو بیان کرتا ہے کہ انکی ولادت بغیر باپ کے  ایک مشرقی مقام پر ہوئی  چنانچہ ارشاد ہوتا ہے :’’وَ اذْکرْ فِی الْکتابِ مَرْیَمَ إِذِ انْتَبَذَتْ مِنْ أَهْلِها مَکاناً شَرْقِیًّا‘‘۔(9) اس مقام پر قرآن بہت ہی احترا م کے ساتھ جناب مریم کا تذکرہ کرتا ہے اور ایک مشرقی مقام کا تذکرہ کرتا ہے جہاں جناب عیسی علیہ السلام  کی ولادت ہوئی ، جبکہ اس کے برخلاف انجیل میں جناب مریم کے ساتھ انکے شوہر  یا منگیتر کا تذکرہ ملتا ہے کہ دونوں ساتھ ساتھ تھے  جنکا نام یوسف نجار تھا۔(10) اسی طرح انجیل میں  جناب عیسی علیہ السلام  کی ولادت فلسطین کے جنوب میں نقل کی گئی ہے  ۔
قرآن کریم جناب مریم کی شخصیت کو ایک  با حیا خاتون کے طور پرپیش کرتا ہے اور انہیں اپنی منتخب کنیز بتاتے ہوئے انکی عصمت پر مہر تصدیق لگاتا ہے۔(11) جبکہ انجیل میں جناب مریم کو ایک عام خاتون کے طور پر پیش کیا گیا ہے جسکی ایک مثال یہ ہے  مختلف باتوں میں جناب عیسی علیہ السلام کےساتھ تکرار کا ہونا ہے ۔ قرآن کریم جناب عیسی علیہ السلام کو جناب مریم کے ساتھ شفقت  کے ساتھ پیش آنے کا حکم دیتا ہے۔(12)  اورانجیل میں جناب عیسی علیہ السلام کا جناب مریم علیہا  السلام سے شراب پر تند لہجے میں خطاب پیش کیا گیا ہے۔(13) قرآ ن کریم نے جناب عیسی علیہ السلام  کو ایک بشارت دینے والے نبی کے طور پر پیش کیا ہے جس نے اپنے بعد  آنے والے رسول کی بشارت دی ہے ۔(14)  جبکہ انجیل میں  اقانیم ثلاثہ  میں سے ایک اقنوم اور خدا کے بیٹے کے طور پر  پیش کیا گیا  ہے۔(15) قرآن کریم نے جناب عیسی علیہ السلام  کے حواریوں کو انکے مخلص اصحاب اور جانثار و باوفا ساتھیوں کے طور پر پیش کیا ہے جو نیک  اور شریف تھے  اورآپ پر ایمان رکھتے تھے ۔(16) جبکہ انجیل میں انکا ناسمجھ کوڑھ مغز اور نادادان لوگوں کے طور پر تذکرہ ہوا ہے۔(17) قرآن مجید جناب عیسی علیہ السلام کو ایک مجاہد کے طور پر پیش کرتا ہے جبکہ انجیل جناب عیسی علیہ السلام کو کچھ ہی لوگوں کی نجات کے لئے آنے والا نجات دہندہ بتاتی ہے۔(18) الغرض جناب عیسی علیہ السلام کی انجیل و قرآن میں ولادت اور اختلافی و مشترکہ مسائل پر  بہت کچھ لکھا اور بیان کیا گیا ہے جسکا فی الحال وقت نہیں ہے۔(19) لیکن یہ ایک حقیقت ہے کہ اگر جناب عیسی علیہ السلام  کے بارے میں قرآن کا خاص اہتمام نہ ہوتا تو پتہ نہیں انکے ماننے والے ان کیا کیا تصویر پیش کرتے اور لوگوں کے ذہنوں میں انکا کیا تصور قائم ہوتا؟  لیکن قرآن کریم نے نہ صرف یہ کہ انکا تذکرہ بہتر سے بہتر طور پر کیا بلکہ ان پر درود سلام بھیج کر انکی اہمیت کو  بھی واضح کیا  چنانچہ قرآن کریم  میں دو ایسے انبیاء ہیں جن پر خدا نے تین مرتبہ درود بھیجا ہے ، ولادت کے موقع پر، وفات کے موقع پر اور قیامت کے دن مبعوث ہوتے وقت۔ ان میں سے ایک حضرت یحیی علیہ السلام ہیں جو بنی اسرائیل کے ایک ظالم و جابر حاکم کی اقتدار پرستی کا نشانہ بن گئے اور آپکو  ظالمانہ انداز میں شہید کر دیا گیا  اور دوسرے نبی حضرت عیسی علیہ السلام ہیں جو باپ کے بغیر پیدا ہوئے اور خدا کی نشانیوں میں سے قرار پائے۔ یہ بات ہم نہیں بلکہ خود مغربی دانشور تسلیم کرتے ہیں کہ قرآن نے جناب عیسی علیہ السلام  کی صحیح تصویر پیش نہ کی ہوتی تو پتہ نہیں آج جناب عیسی علیہ السلام کو کیسے دنیا کے سامنے پیش کیا  جارہا ہوتا چنانچہ  عظیم فلسفی ول ڈورنٹ،  اپنی مشہور کتاب History of Civlizations میں رقم طراز ہیں :
قرآن کریم اور مسلمانوں کا عیسائیوں پر ایک بڑا احسان ہے اور وہ یہ کہ انکے دین اور کتاب میں انجیل اور حضرت عیسی علیہ السلام کو انتہائی عزت اور بزرگی کے ساتھ یاد کیا گیا ہے اور انجیل کی تائید بھی کی گئی ہے۔ اگر ایسا نہ ہوتا تو حضرت عیسی علیہ السلام کے وجود کو ثابت کرنا انتہائی مشکل ہو جاتا کیونکہ انکی کوئی اولاد نہیں ہے اور نہ ہی انکا کوئی مزار یا مقبرہ ہے۔،، سچ ہے  اگر نبی خاتم حضرت محمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم اور قرآن کریم کی جانب سے حضرت عیسی علیہ السلام کی تائید نہ ہوتی تو منکر افراد بہت آسانی سے انکے وجود کا انکار کرسکتے تھے۔
الغرض آپکی خدمت میں جو گزارش کرنا ہے وہ اتنی کہ جناب عیسی علیہ السلام کی جو شخصیت قرآن نے بیان کی ہے آپ اسکو ایک بار  ملاحظہ کریں اور جو انجیل نے تصور پیش کیا ہے اسے بھی  دیکھیں آپ کو  زمین و آسمان کا فرق نظر آئے گا ، کیا ہی بہتر ہو کہ اس نئے سال کی آمد پر ہلڑ ہنگاموں اور تفریح کے پروگراموں، آتش بازیوں سے وقت نکال کر ایسی گفتگو کا اہتمام ہو جس میں دونوں ہی مکاتب فکر کے افراد جناب عیسی علیہ السلا م کے تعلیمات پر روشنی ڈالیں اور اس بات پر اظہار خیال ہو کہ جناب عیسی علیہ السلام نے کس مقصد کے تحت زندگی گزاری ہم انکی تعلیمات کو کس طرح دنیا میں عام کریں۔

۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
حوالہ جات:
۔https://hawzah.net/fa/Article/View/93316
2۔تفصیل کے لئے ملاحظہ ہو : دکتر رضا عبداللهی، تحقیقی در زمینه گاه‌شماری هجری و مسیحی، تهران‌،‌ امیرکبیر،‌1365ش.- فریمن گرنویل،‌ تقویم‌های اسلامی و مسیحی و جدول‌های تبدیل آن‌ها به یکدیگر، ترجمه: فریدون بدره‌ای، بی‌جا، انتشارات قلم،‌ 1359ش.- ذبیح بهروز، تقویم و تاریخ در ایران،‌ تهران‌،‌ نشر چشمه،‌ 1379ش.- احمد بیرشک،‌ گاهنامه تطبیقی سه هزار ساله، تهران،‌ شرکت انتشارات علمی و فرهنگی،1367 ہجری شمسی۔
3۔ https://hawzah.net/fa/Article/View/93316
4۔ مذاہب عالم کا تقابلی مطالعہ‘‘: ص435 ۔
5 ۔مجلسی، محمدباقر، بحارالانوار، بیروت، مؤسسهٔ الوفا، چاپ دوم، ۱۴۰۳ ه. ق، ج۱۱، ص۳۵. ترجمهٔ تفسیر المیزان، جلد ۱۸، ص۳۹
6۔مطهری، مرتضی، مجموعه آثار، ج 4، 396.
7۔ انجیل یوحنا باب دوم.
8۔شهرستانی، محمدبن عبدالکریم، ملل و نحل، ج ۱، ص ۲۲۲ - ۲۲۴ – ۲۲۵۔
9۔ مریم، آیہ16۔
10۔انجیل متی (1: 18) تا (1: 25)
11۔ وَ أُمُّهُ صِدِّیقَةٌ(مائده، 75)وَ إِذْ قالَتِ الْمَلائِکةُ یا مَرْیَمُ إِنَّ اللَّهَ اصْطَفاک وَ طَهَّرَک وَ اصْطَفاک عَلی نِساءِ الْعالَمینَ۔(آل عمران،42)
12۔وَ بَرًّا بِوالِدَتی وَ لَمْ یَجْعَلْنی جَبَّاراً شَقِیًّا؛مریم،32
13 ۔   انجیل یوحنا باب دوم۔
14۔وَ مُبَشِّراً بِرَسُولٍ یَأْتی مِنْ بَعْدِی اسْمُهُ أَحْمَدُ(صف، 6)
15۔ توفیقی، حسین، آشنایی با ادیان بزرگ، ص 150. سلیمانی، عبدالرحیم، سیری در ادیان زنده جهان۔
16۔ آل عمران، 52-53۔
17 ۔انجیل متی، باب 20 آیه 17؛ لوقا باب 25 آیہ۔
18 ۔ لوقا،اب12، آیه 49 تا 53۔
19 ۔بنیاد مدرسه ی نظرآزمایی”( Forum Schulstiftung ) صفحات 39 تا62 ، شماره ی 45، سال انتشار: دسمبر 2006۔

 

 


0
شیئر کیجئے:
फॉलो अस
नवीनतम