Code : 487 97 Hit

قرآنی تعلیمات کی رو سے نماز قائم کرنے اور پڑھنے میں فرق

قارئین کرام! صرف نماز پڑھنا، اور اپنی زبان سے کچھ کلمات اور آیات کا ورد کرنا ،کچھ افعال و ارکان کا بجالانا صرف اللہ کا مقصد نہیں ہوسکتا چونکہ صرف نماز پڑھنا قرآن مجید کے مقصد سے مطابقت نہیں رکھتا چونکہ نماز کو احادیث میں ستون دین سے تعبیر کیا گیا ہے:’’الصلاۃ عمود الدین‘‘۔لہذا ستون پڑھنے کی چیز نہیں ہوتی بلکہ ستون کو کھڑا اور برپا کیا جاتا ہے۔

ولایت پورٹل: قارئین کرام! شاید آپ نے بارہا خود اپنے آپ سے یہ سوال کیا ہوگا کہ کیا واقعاً نماز،صرف کچھ الفاظ کو زبان سے ادا کردینے اور اعضاء و جوارح سے کچھ حرکات و سکنات انجام دیدینے کا نام ہے؟ یا اللہ تعالیٰ ہماری نماز سے کچھ اور چاہتا ہے؟ہمیں کس طرح نماز ادا کرنا چاہیئے،قرآن مجید میں نماز کو قائم کرنے کے پیچھے کا مقصد  اور حکمت عملی کارفرما ہے؟کیا حقیقتاً نماز پڑھنے اور نماز قائم کرنے میں کوئی فرق ہے؟  
اگر قرآن مجید کی آیات میں غور کیا جائے تو عام طور پر جو نماز کے سلسلہ سے حکم آیا ہے وہ نماز کو قائم کرنے کا ہے نہ صرف پڑھنے کا ، چنانچہ ارشاد ہوتا ہے:’’ اَقِمِ الصَّلوةَ لِدُلوکِ الشَّمس‘‘۔(سوره اسراء، آیہ 78)’’اَقیموا الصَّلوة‘‘۔(سوره بقره، آیہ 43)یا’’اَقِمنَ الصَّلوة‘‘۔(سوره احزاب، آیہ 33)۔
قارئین کرام! صرف نماز پڑھنا، اور اپنی زبان سے کچھ کلمات اور آیات کا ورد کرنا ،کچھ افعال و ارکان کا بجالانا صرف اللہ کا مقصد نہیں ہوسکتا چونکہ صرف نماز پڑھنا قرآن مجید کے مقصد سے مطابقت نہیں رکھتا چونکہ نماز کو احادیث میں ستون دین سے تعبیر کیا گیا ہے:’’الصلاۃ عمود الدین‘‘۔لہذا ستون پڑھنے کی چیز نہیں ہوتی بلکہ ستون کو کھڑا اور برپا کیا جاتا ہے۔
دوسرے نماز کے متعلق قرآن مجید کے فرامین کو’’اقامہ نماز‘‘ کے آئینہ ہی میں دیکھا اور پرکھا جاسکتا ہے چونکہ جس اہمیت و وضاحت کے ساتھ یہ فرامین نقل ہوئے ہیں ان کے سایہ میں کسی صورت نماز کو صرف پڑھنے میں محدود و منحصر نہیں کیا جاسکتا چونکہ نماز پڑھنا تو اس وقت بھی صادق آئے گا کہ جب انسان صرف ایک بار نماز پڑھ لے لیکن نماز کو قائم کرنے کا اطلاق صرف اسی صورت میں ممکن ہے جب اسے استمرار کے ساتھ ادا کیا جائے۔چونکہ پڑھنے کا اطلاق تو اس نماز پر بھی ہوجائے گا کہ جس میں صرف فقہی مسائل و حکام و شرائط کا لحاظ رکھا جائے لیکن نماز کو قائم کرنا بہت دشوار امر ہے۔
دوسری اہم بات یہ کہ قرآن مجید کی بہت سی آیات میں نماز کے بہت سے فوائد، ثمرات اور برکات کا تذکرہ ملتا ہے جیسا کہ:’’ اِنَّ الَّذینَ ءامَنوا وعَمِلوا الصّلِحتِ واَقاموا الصَّلوةَ... لَهُم اَجرُهُم عِندَ رَبِّهِم ولاخَوفٌ عَلَیهِم ولاهُم یَحزَنون‘‘۔(سوره بقره، آیہ 277)
ترجمہ: جو لوگ ایمان لے آئے اور انہوں نے نیک عمل کئے نماز قائم کی . زکات ادا کی ان کے لئے پروردگار کے یہاں اجر ہے اور ان کے لئے کسی طرح کا خوف یا حزن نہیں ہے۔
یا ارشاد ہوتا ہے:’’ اِنَّ الصَّلوةَ تَنهی‏ عَنِ الفَحشاءِ والمُنکَر‘‘۔(سوره عنکبوت، آیہ 45)۔بے شک نماز ہر برائی اور بدکاری سے روکنے والی ہے۔
اور اس آیت میں (الصلاۃ) کو برائی اور فاحشات سے بچنے کی علت کے طور پر بیان کیا گیا ہے جس کا صاف صاف مطلب یہ ہے کہ جہاں نماز ہوگی وہاں برائیاں نہیں ہونی چاہیئے اب یہ انسان پہچان سکتا ہے کہ اگر وہ نماز بھی پڑھ رہا ہے اور اس میں برائیاں بھی پائی جاتی ہیں تو اس کا مطلب یہ ہے کہ اس نے نماز کو قائم  اور برپا نہیں کیا ہے۔البتہ اس نے صرف نماز پڑھی ہے۔
یا بعض عرفانی اور تفسیری کتب میں یہ جملہ ملتا ہے:’’ الصلاۃ معراج المؤمن‘‘۔نماز مؤمن کی معراج ہے۔اگرچہ اس جملہ کو بہت سے لوگوں نے حدیث پیغمبر(ص) کے طور پر نقل کیا ہے  جس کے متعلق حدیث ہونا تو ثابت نہیں ہے لیکن بہرحال اتنا ضرور ہے کہ یہ جملہ کسی حکیم اور عارف کا ہے کہ جس کا سرچشمہ محمد و آل محمد علیہم السلام کی تعلیمات ہیں۔اس جملہ سے یہ بات سمجھ میں آتی ہے کہ معراج صرف نماز پڑھنے سے نصیب نہیں ہوسکتی بلکہ یہ اسی نماز میں تاثیر ملے گی جسے قائم کیا گیا ہو۔
آئیے ہم اپنی بات کو مرحوم شہید مطہری(رح) کے کلام پر ختم کرتے ہیں شہید فرماتے ہیں:نماز پڑھنے اور نماز قائم کرنے میں بڑا فرق ہے،اور اصولاً وہ موارد کہ جہاں قرآن مجید میں نماز پڑھنے کی تعبیر استعمال ہوئی ہے وہ مقام مذمت و ملامت میں ہے۔یعنی ان لوگوں کے بارے میں قرآن مجید نے نماز پڑھنے کی بات کی ہے جن کی نمازوں میں مشکل پائی جاتی ہے۔
نماز قائم کرنے سے مراد یہ ہے کہ نماز کا حق ادا ہوجائے یعنی نماز ایک بے روح پیکر کی طرح ادا نہ کی جائے بلکہ ایک ایسی نماز ہونا چاہیئے کہ جو بندہ کو خالق حقیقی سے متصل و منسلک کردے اور یہی معنیٰ ہے سورہ طہ کی ۱۴ ویں آیت :’’ اقِمِ الصَّلوةَ لِذِکری‘‘۔کا ۔(آشنایی با قرآن، ج2،ص65)۔

 


0
شیئر کیجئے:
फॉलो अस
नवीनतम