Code : 600 12 Hit

قبر زہرا(س) آج تک کیوں مخفی ہے؟؟؟

اگر رات کے اندھیرے میں تدفین کے متعلق آپ کی وصیت کا دقیق مطالعہ کیا جائے تو یہ بات کہی جاسکتی ہے کہ آپ اپنے اس عمل کے ذریعہ لوگوں کے خوابیدہ افکار کو بیدار کرکے انہیں اپنے اوپر ہونے والے مظالم سے آگاہ کرنا چاہتی تھیں لہذا یہ مسئلہ قیامت تک لوگوں کو ٹہوکے دیتا رہے گا کہ ایسا کیا ہوا کہ بنت پیغمبر(ص) کو اپنی قبر کو مخفی رکھنے کے لئے وصیت کرنا پڑی۔

ولایت پورٹل: حضرت فاطمہ زہرا(س) کی عظمت و فضیلت امت کے کسی فرد پر بھی مخفی نہیں ہے یہ الگ بات ہے کہ کچھ لوگ بی بی سے دشمنی اور بغض کی بنیاد پر ان سب فضائل کو چھپانے کی ناکام کوشیشیں کرتے ہیں چونکہ انہیں ہر آن یہ خوف لاحق رہتا ہے کہ لوگ حقیقت حال سے واقف ہوکر مذہب حقہ کے گرویدہ نہ ہوجائیں۔
چونکہ اہل سنت و شیعہ معتبر کتب میں حضرت فاطمہ زہرا(س) کے اتنے فضائل نقل ہوئے ہیں کہ اسلام کی کسی دوسری خاتون کے اتنے فضائل نقل نہیں ہوئے چنانچہ روایات میں ملتا ہے کہ رسول خدا(ص) نے ارشاد فرمایا:’’فاطمۃ بضعۃ منی‘‘۔فاطمہ میرا ٹکڑا ہیں۔
اور رسول خدا(ص) کی محبت کا یہ عالم تھا کہ جب آپ مدینہ سے باہر کہیں کسی سفر پر تشریف لے جاتے تھے تو سب سے آخر میں حضرت فاطمہ(س) سے رخصت ہوتے تھے اور جب واپس تشریف لاتے تو سب سے پہلے جس سے ملاقات کرتے تھے وہ حضرت فاطمہ زہرا(س) تھیں۔کبھی اپنی بیٹی کی خوشبو کو استشمام کرتے تھے اور فرماتے کہ جب بھی میں خوشبوئے جنت کا مشتاق ہوتا ہوں تو میں فاطمہ کو استشمام کرلیتا ہوں اور یہاں تک کہ پیغمبر اکرم(ص) نے اللہ کی رضایت و ناراضگی کا محور حضرت فاطمہ(س) کی ذات با برکت کو قرار دیا وغیرہ وغیرہ۔
اب سوال یہ ہے کہ جب رسول خدا(ص) اپنے بیٹی کے اتنے فضائل بیان کرکے گئے تو ایسا کیا ہوا کہ یہ چہیتی بیٹی عین جوانی یعنی اٹھارہ برس کا سن جو شباب اور نشاط کا زمانہ ہوتا ہے اس میں عصا لیکر چلنے لگیں اور آخر کار مرثیہ پڑھتی ہوئی اس دنیا سے چل بسیں  یہ خود شہزادی کونین(س) کی مظلومیت کی دلیل ہے اور ساتھ میں سب سے بڑی دلیل خود شہزادی کونین(س) کی علی(ع) کو  وصیت فرمانا علی! مجھے رات کے اندھیرے میں غسل دینا،رات ہی میں دفن کرنا اور میرے جنازے میں فلاں فلاں افراد کو آنے مت دینا وغیرہ۔
یہ وہ سب سوال ہیں کہ جو ایک حق کی جستجو کرنے والے کے ذہن کو ٹہوکے لگاتے ہیں کہ ایسا کیا ہوا جس کے سبب شہزادی نے یہ گوارا نہیں کیا کہ آپ کے جنازہ میں صرف معدودے چند لوگ ہی شریک ہوں ۔
چنانچہ رات کی تاریکی میں جنازہ اٹھا اور صرف چند لوگوں کے مختصر سے مجمع نے بی بی کو ابدی آرام گاہ تک پہونچایا۔
لیکن اس سے بھی بڑا سوال یہ ہے کہ آج بھی جب لوگ مدینہ میں زیارت کرنے کے لئے تشریف لے جاتے ہیں تو ان کی نگاہیں بنت پیغمبر کی قبر اطہر کو تلاش کرتی ہیں لیکن انہیں بقیع میں ایک پتھر لگا ہوا نظر آتا ہے جس پر فاطمہ بنت رسول اللہ(ص)لکھا گیا ہے ۔جبکہ محقیقن کا کہنا ہے کہ بقیع میں جناب فاطمہ زہرا(س) نہیں بلکہ جناب فاطمہ بنت اسد(حضرت علی(ع) کی والدہ) دفن ہیں اور شہزادی کو خود گھر میں ہی دفن کیا گیا ۔بہر حال احتمال کچھ بھی ہوں یہ تو حقیقت ہے کہ بی بی کی قبر آج بھی مخفی ہے۔
چنانچہ شہزادی کی قبر کا آج تک مخفی ہونا اپنے آپ میں ایک بڑا سوال ہے ؟ کہ ایسے بی بی پر کون سے مظالم اور ستم کے پہاڑ ٹوٹے جن کے سبب آپ نے وصیت فرمائی کہ علی(ع)!میری قبر کا نشان بھی مٹا دیا جائے۔
چنانچہ مشہور مصنف جناب جعفر شہیدی تحریر کرتے ہیں:’’بہر حال پیغمبر اکرم(ص) کی اکیلی یادگار بیٹی کی قبر کا مخفی رہنا بھی اس چیز کی علامت ہے کہ بی بی اپنے اس کام سے اپنی ناراضگی کو آشکار و ظاہر کرنا چاہتی تھیں‘‘۔
شیخ صدوق علیہ الرحمۃ بی بی کے شب میں دفن ہونے کی علت کو بیان کرتے ہوئے رقمطراز ہیں:’’ عَنِ الْحَسَنِ بْنِ عَلِيِّ بْنِ أَبِي حَمْزَةَ عَنْ أَبِيهِ قَالَ سَأَلْتُ أَبَا عَبْدِ اللَّهِ عليه السلام لِأَيِّ عِلَّةٍ دُفِنَتْ فَاطِمَةُ (عليها السلام) بِاللَّيْلِ وَ لَمْ تُدْفَنْ بِالنَّهَارِ قَالَ لِأَنَّهَا أَوْصَتْ أَنْ لا يُصَلِّيَ عَلَيْهَا رِجَالٌ (الرَّجُلانِ)‘‘۔
علی بن حمزہ نے امام جعفر صادق علیہ السلام سے سوال کیا:فرزند رسول! کیوں حضرت فاطمہ(س) کو رات میں دفن کیا گیا دن کےاجالے میں نہیں؟ فرمایا:حضرت فاطمہ(س) نے خود وصیت فرمائی تھی تا کہ آپ کو رات میں دفن کیا جائے تاکہ وہ دو لوگ آپ کے جنازہ میں شریک نہ ہوں۔
صاحب مدارک تحریر کرتے ہیں:’’ إنّ سبب خفاء قبرها (ع) ما رواه المخالف والمؤالف من أنها (ع) أوصت إلى أمير المؤمنين (ع) أن يدفنها ليلا لئلا يصلي عليها من آذاها ومنعها ميراثها من أبيها(ص)‘‘۔
جناب فاطمہ(س) کی قبر کے مخفی ہونا اس وجہ سے تھا۔جیسا کہ موافق و مخالف سب نے اعتراف کیا ہے۔ کہ حضرت فاطمہ(س) نے حضرت علی(ع) سے یہ وصیت فرمائی تھی کہ جن لوگوں نے مجھے ستایا اور باپ کی میراث سے محروم رکھا وہ جنازے میں شریک نہ ہوں۔
پس مذکورہ بالا بیان سے یہ نتائج اخذ کئے جاسکتے ہیں:
۱۔خود حضرت فاطمہ(س) نے وصیت فرمائی تھی کہ رات کو بغیر لوگوں کی موجودیت کے آپ کو سپرد خاک کیا جائے جس کی وجہ سے آپ کی قبر کا نشان آج تک مخفی ہے۔
۲۔اگر رات کے اندھیرے میں تدفین کے متعلق آپ کی وصیت کا دقیق مطالعہ کیا جائے تو یہ بات کہی جاسکتی ہے کہ آپ اپنے اس عمل کے ذریعہ لوگوں کے خوابیدہ افکار کو بیدار کرکے انہیں اپنے اوپر ہونے والے مظالم سے آگاہ کرنا چاہتی تھیں لہذا یہ مسئلہ قیامت تک لوگوں کو ٹہوکے دیتا رہے گا کہ ایسا کیا ہوا کہ بنت پیغمبر(ص) کو اپنی قبر کو مخفی رکھنے کے لئے وصیت کرنا پڑی۔

۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
منابع:
۱۔زندگانی حضرت فاطمه (س) ص 165۔
۲۔علل الشرايع، ج1، ص185۔
۳۔مدارك الأحكام في شرح شرائع الاسلام، ج 8، ص279۔

 


0
شیئر کیجئے:
फॉलो अस
नवीनतम