Code : 406 73 Hit

فکر گناہ اور گناہ

اگرچہ گناہ کے بارے سوچنا فقہی اور کلامی اصطلاح کے مطابق گناہ تو نہیں ہوگا لیکن اس کے برے اور وضعی اثرات انسان کی روح پر بہر حال پڑیں گے۔

ولایت پورٹل:گناہ اردو ڈکشنری میں جرم،خطا اور نافرمانی کے لئے استعمال ہوتا ہے۔(1) اور اسی معنٰی کو پہونچانے کے لئے عربی ڈکشنری میں(اثم)(ذنب) اور(معصیۃ) جیسے کلمات سے تعبیر کیا جاتا ہے۔(2) جبکہ اصطلاح شریعت میں گناہ یعنی احکام خدا پر عمل نہ کرنا  اور خلاف قانون چیزوں کو انجام دینا یعنی ایسے اعمال انجام دینا جو خلاف شرع ہوں اس طرح کہ ان کا انجام دینا یا انہیں ترک کرنا غیر شرعی شمار ہوں۔
اب سوال یہ ہے کہ جب گناہ کرنا اور معصیت کرنا حرام اور جرم ہے تو گناہ کے بارے سوچنا کیسا ہے؟
گناہ کی فکر کرنے کے متعلق دو تصور ممکن ہیں۔ایک تو یہ کہ گناہ کی فکر کریں اور انسان صرف اپنے ذہن میں گناہ کا اس طرح تصور کرے کہ خارج میں اس کا کوئی علمی و عملی اثر و نتیجہ ظاہر نہ ہو۔
لہذا اس طرح کے تصور کے متعلق ہمارے پاس کوئی عقلی و نقلی دلیل نہیں ہے کہ جس سے اس کا گناہ ہونا ثابت ہوسکے۔
اگرچہ یہ بھی نہیں کہا جاسکتا کہ یہ گناہ نہیں ہے،چونکہ فکر گناہ بھی انسان کی روح پر اپنے منفی اثرات چھوڑتی ہے۔
جیسا کہ حضرت عیسٰی سے مروی ایک روایت میں ملتا ہے، آپ نے فرمایا: موسٰی بن عمران نے تم لوگوں کو حکم دیا ہے کہ زنا نہ کرو لیکن میں تمہیں یہ حکم دیتا ہوں کہ زنا تو دور،اس گناہ کے متعلق فکر بھی نہ کرو!چونکہ جو شخص زنا کی فکر کرے وہ اس شخص کے مانند ہے کہ جس نے ایک ایسے گھر میں آگ لگا دی ہو جو ابھی بن کر تیار ہوا ہو اور جسے رنگ و روغن کرکے سجایا گیا ہو۔اگرچہ اس حالت میں یہ گھر منہدم تو نہیں ہوا بلکہ اس کی دیواریں اپنی جگہ پر کھڑی ہوئی ہیں لیکن اس آگ کے دھوئیں نے اس کی تمام خوبصورتی کو تباہ  و برباد کردیا ہے۔(3)
چنانچہ اس طرح کی روایات سے آسانی کے ساتھ یہ بات سمجھی جاسکتی ہے کہ اگرچہ گناہ کے بارے سوچنا فقہی اور کلامی اصطلاح کے مطابق گناہ تو نہیں ہوگا لیکن اس کے برے اور وضعی اثرات انسان کی روح پر بہر حال پڑیں گے۔
گناہ کے بارے میں فکر کرنے کا دوسرا تصور یہ ہے کہ گناہ کے متعلق سوچنا، کسی علمی و عملی اثر کا سبب قرار پائے۔
اگرچہ اس بارے میں علماء کے درمیان بڑی طویل و عریض بحثیں ہوئی ہیں لیکن شاید گناہ کے متعلق اس طرح سوچنا کہ جس کا علمی و عملی اثر خارج میں ظاہر ہو اسے گناہ کی فہرست سے نکال دینا آسان کام نہیں ہوگا۔
چونکہ بہت سے کبیرہ گناہ اسی دوسری قسم سے تعلق رکھتے ہیں یعنی خود ان گناہ کا تصور کرنا اور خیال و وہم میں بسا لینا بھی گناہ شمار ہوتا ہے جیسا کہ حسد و کینہ وغیرہ چنانچہ شہید دستغیب شیرازی(رح) اپننی کتاب گناہان کبیرہ میں فرماتے ہیں:وہ گناہ جن پر معتبر نصوص کی رو سے عذاب کا وعدہ کیا گیا ہے ان میں سے ایک ’’حسد‘‘ ہے۔
شہید ثانی (رح) اپنی کتاب(کشف الریبۃ) میں رقمطراز ہیں:حسد گناہ کبرہ میں سے ہے اور یہی وہ پہلا گناہ ہے جو روئے زمین پر سب سے پہلے انجام دیا گیا ،یہی(حسد) وہ گناہ تھا جس میں شیطان مبتلاء ہوا اور آدم کو بہشت سے نکلوا دیا،مشہور فقہاء نے کہا ہے کہ حسد گناہ کبیرہ ہے اب ممکن ہے کسی کے ذہن میں یہ سوال اٹھے کہ بعض روایات میں تو یہ نقل ہوا کہ اگر کوئی مؤمن گناہ کا قصد کرے لیکن اس کو انجام نہ دے تو وہ اس کے لئے گناہ شمار نہیں ہوگا لہذا حسد کے سبب جب تک انسان کوئی کام انجام نہ دے اس کے لئے وہ گناہ کیسے شمار ہوسکتا ہے؟
اس شبہ کا جواب واضح ہے اور وہ یہ کہ آپ کی بات ان گناہوں سلسلہ سے تو صحیح ہے کہ جن کا تعلق انسان کے اعضاء و جوارح سے ہوتا ہے لیکن جن گناہوں کا تعلق انسان کے قلب، فکر اور دل سے ہو جیسا کہ ریا،تکبر،بغض مؤمن وغیرہ چنانچہ ان چیزوں کے قلب و دل میں آتے ہی ان پر گناہ کا اطلاق ہوجاتا ہے۔(4)
مذکورہ بالا تمہید کے بعد یہ بات واضح ہوجاتی ہے کہ گناہ کی فکر کرنا اس معنٰی میں کہ اس کا کوئی علمی و عملی اثر خارج میں ظاہر ہو،یعنی وہ اگر کسی بھی دلیل کے سبب خارج میں ظاہر نہ ہو اور صرف فکری مرحلہ میں ہی باقی رجائے، تو اس کو گناہ کی فہرست سے خارج کردیا جانا قطعی اور یقینی امر نہیں ہوگا۔ بلکہ ممکن ہے اسے گناہ فرض کیا جائے اور خاص طور پر وہ گناہ کہ جن کا تعلق صرف فکر سے ہی ہوتا ہے اور جو بسا اوقات خارج میں متحقق بھی نہ ہوتے ہوں جیسا کہ کوئی اپنے ذہن و فکر میں اپنے کسی مؤمن بھائی کے متعلق بدگمان ہوجائے اگرچہ وہ کبھی اس کے سامنے اس کا اظہار بھی نہ کرے، تو کیا کوئی شخص اس کے گناہ نہ ہونے کی تردید کرسکتا ہے؟یا مثال کے طور پر اللہ کی نسبت ناامیدی، ایک گناہ کبیرہ ہے اور یہ فکری گناہ کے اقسام میں آتا ہے۔
البتہ یہ بات ذہن نشین رہے کہ اس طرح کے گناہ جیسا کے حسد، ناامیدی،بدگمانی اور تکبر وغیرہ بذاتہ خود گناہ ہیں اور وہ بھی فکری و قلبی گناہ،لہذا ان گناہ کا دیگر بہت سے گناہوں سے موازنہ نہیں کیا جاسکتا مثال کے طور پر حسد کا موازنہ چوری سے کردیا جائے؟
قارئین! ان دونوں کے درمیان فرق ہے،حسد ایک فکری و قلبی گناہ ہے جبکہ چوری اعضاء و جوارح سے انجام دیا جانے والا گناہ ہے محض کوئی شخص چوری کرنے کے متعلق سوچے لیکن چوری نہ کرے تو اس کے حصہ میں گناہ نہیں لکھا جائے گا۔
لہذا وہ گناہ جن کا تعلق فکر،قلب اور دل سے نہیں ہوتا۔ان کی نیت کرنا الگ چیز ہے اور ان کے کرنے کا عزم مصمم رکھنا ایک الگ چیز ہوتی ہے چونکہ جب انسان سے خارج میں کوئی فعل سرزد ہوتا ہے اسے لامحالہ ان چار مراحل کو طئے کرنا پڑتا ہے:
۱۔اس فعل کا تصور
۲۔اسے انجام دینے کا شوق و رغبت
۳۔اس فعل پر اعتقاد
۴۔عزم مصمم(یعنی خارج میں انجام دینا)
اور ایسا لگتا ہے کہ فکر گناہ کا تعلق ان پہلے تین مراحل سے ہوتا ہے کہ جو غیر اختیار ہوتے ہیں اور جو  غیر اختیاری ہوں ان پر اللہ کی طرف سے کوئی ذمہ داری عائد نہیں ہوتی اور جب ذمہ داری عائد نہیں ہوتی تو اس پر عذاب بھی نہیں ہوسکتا۔لیکن چوتھا مرحلہ چونکہ اختیاری ہوتا ہے لہذا اسی پر عذاب ملتا ہے۔(5)
البتہ یہ امر بھی قابل توجہ ہے کہ اگر گناہ کا عزم مصمم اور اسے عملی کرنے کے لئے انسان چلا لیکن کسی وجہ سے وہ انجام نہ دے پایا قیامت میں اس پر عذاب ہوگا چونکہ وہ بالکل مصمم تھا اگر کوئی بیرونی چیز مانع نہ ہوتی تو کبھی وہ گناہ سے باز نہ آتا۔(6)
پس نتیجہ یہ ہوا کہ جب انسان کوئی خلاف شرع کام انجام دیتا ہے تو اصولاً اسے آخرت میں عذاب دیا جائے گا چونکہ اس نے اپنے ارادے اور اختیار سے ،عقل کے ہوتے ہوئے خلاف شرع کام کیا ہے۔ لیکن وہ انسان کے جو خواب میں اپنے کو کوئی گناہ کرتے ہوئے دیکھے،یہ شخص عاصی اور گنہگار شمار نہیں ہوگا اور اس پر کوئی فقہی و کلامی سزا کا عائد نہیں ہوگی اور وہ آخرت میں عذاب سے محفوظ رہے گا چونکہ خواب دیکھنا اور اُس عالم میں بغیر علم و اختیار کے کوئی کام کرنا گناہ شمار نہیں ہوتا ہے۔(7)

۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

حوالہ جات:
1۔فیروز اللغات:گ، ن،ا،ہ
2۔رجوع کیجئے:لسان العرب،مادہ:ذنب،عصی،اثم
3۔مجلسي، محمد باقر، بحارالانوار، ج 14، ص 331، بيروت، دار الوفاء، دوم، 1404ه.ق۔
4۔دستغيب، سيد عبدالحسين، گناهان كبيره، ج2، ص 341 ـ 347، تهران، نشر ضرّابي،چاپ 5۔
5۔رجوع کیجئے:دستغيب، سيد عبدالحسين، قلب سليم، ص 843 ـ 844 تهران، دار الکتب الاسلاميه، 1351۔
6۔رجوع کیجئے: طبرسي، فضل بن حسن، مجمع البيان، ج1، ص 688، چاپ دوم، تهران۔
7۔ دستغيب، سيد عبدالحسين، گناهان كبيره، ج2، ص 344 ، تهران، نشر ضرّابي،چاپ 5۔

0
شیئر کیجئے:
फॉलो अस
नवीनतम