Code : 590 16 Hit

فاطمی(س) تربیت کا ایک نمونہ

یہ نکتہ بھی قابل غور ہے کہ ہم اپنے بچوں کے لئے وہ مواقع بھی فراہم کریں جہاں انہیں اچھی اور سبق آموز باتیں سننے کا موقع ملے اور خود بھی مقدور بھر ان کے ساتھ اچھی باتیں کرنے کی عادت بنا لیں اگر ہم نے ایسا کیا تو یہ اچھی باتیں ایک دن ان کے عمل کے ذریعہ ظاہر ہونگی اور انھیں اسلامی آئین اور قانون کے مطابق زندگی گذارنے میں چنداں دشواری پیش نہیں آئے گی چنانچہ ژیالوجی کے ماہرین اور سائنس دانوں نے آج یہ اصول کشف کر لیا ہے کہ اگر آپ کسی پیڑ کے سامنے بھی اچھی باتیں کریں گے تو ان کی شادابی ان درختوں سے کہیں زیادہ ہوگی جن کے پاس کھڑے ہوکر بری باتیں کی جاتی ہوں۔

ولایت پورٹل: قارئین کرام! ہمارے سامنے اپنے بچوں کی صحیح تربیت کرنے کے سلسلہ میں ایک بہترین نمونہ اور مثال حضرت فاطمہ زہرا(س) ہیں لہذا ہمیں یہ جاننے کی ضرورت ہے کہ شہزادی کونین(س) نے امت کے سامنے اپنے بچوں کی تربیت کا کون سا عظیم نمونہ پیش کیا ہے۔
اگرچہ ہم سب کا یہ عقیدہ ہے کہ امام حسن و امام حسین(ع) معصوم تھے اور معصومین(ع) اللہ کی جانب سے تربیت یافتہ ہوتے ہیں لیکن امت کے لئے بہر حال ایک نمونے اور مثال کی ضرورت تھی جسے اپنا کر وہ اپنے بچوں کی تربیت کرنے کے سلسلہ میں صحیح سمت کا تعین کرسکیں چونکہ ان دونوں بزرگوار(امامین حسنین(ع) کے ماں باپ تھے اور ان حضرات نے ایک معین زمان و مکان میں تربیت پائی ہے لہذا ہمیں یہ مطالعہ اور تحقیق کرنے کی ضرورت ہے کہ شہزادی نے بچوں کی کن صلاحتیوں سے فائدہ اٹھا کر ان کی تربیت کی ہے؟
جیسا کہ آپ جانتے ہیں انسان کے پاس اللہ کی عطا کردہ بے شمار نعمتوں میں سے پانچ ایسی قوتیں ہیں جو ہر ایک انسان کے لئے بہت ضروری ہیں اور وہ ہیں انسان کے پانچوں حواس یعنی باصرہ سامعہ لامسہ ذائقہ و شامہ چونکہ جب انسان پیدا ہوتا ہے تو اس کے پاس صرف یہی صلاحتیں اور حواس ہوتے ہیں آہستہ آہستہ جب وہ رشد کرتا ہے تو اس کی باطنی حسیں ظاہری ہوتی ہیں اور رشد و نمو پاتی ہیں۔
لہذا ہمیں جب بچوں کی تربیت کرنی ہے تو سب سے زیادہ انہیں حواس سے استفادہ کرنا ہوگا اور حضرت زہرا سلام اللہ علیہا نے ان حواس کو کام میں لاتے ہوئے کیسے اپنے بچوں کی تربیت کی مہم سر انجام دی ہے آئیے ایک مثال کا سہارا لیکر آپ تک اپنی عرائض پہونچانے کی کوشش کرتے ہیں۔ہمیں تاریخ و احادیث کی کتابوں میں ملتا ہے کہ ایک مرتبہ شہزادی کونین(س) نماز پڑھنے و دعا و مناجات میں مشغول تھیں امام حسن(ع) ماں کے کنارے آکر بیٹھ گئے۔
حضرت فاطمہ(س) دعا کرنا شروع کرتی ہیں اور ایک ایک پڑوسی کے حق میں دعا کرتیں ہیں یہاں تک کہ امام حسن(ع) نے اپنی ماں سے پوچھ ہی لیا: مادر گرامی! آپ پڑوسیوں کے لئے دعا کیوں فرما رہی ہیں؟ چنانچہ آپ نے فرمایا:’’ الجارّ ثُمَّ الدّار‘‘ بیٹا ان لوگوں کا ہماری گردن پر حق ہے لہذا ہمیں اس حق کی ادائیگی کرنا ہے اور پڑوسی کا ایک حق یہ بھی ہے کہ ان کو اپنی دعائے خیر میں یاد رکھا جائے۔
آپ نے ملاحظہ کیا کہ امام حسن(ع) اپنی آنکھوں سے اپنی ماں کو کامل ترین عبادت یعنی نماز پڑھتے ہوئے دیکھ رہے ہیں اور اپنے کانوں سے ماں کے کلام کو سن کر یہ سمجھ لیا ہے کہ پڑوسیوں کے بھی انسان کے ذمہ کچھ حقوق ہوتے ہیں۔
لہذا ہم ان والدین سے یہ بات ضرور کہیں گے جو یہ چاہتے ہوں کہ ان کے بچے اسلامی تربیت کے زیور سے آراستہ ہوں اور خاص طور پر ماؤں سے گذارش کریں گے کہ بچوں کی تقریباً ۶۰ فیصدی تربیت کا تعلق ان امور سے ہے جنہیں وہ اپنی آنکھوں سے دیکھتے ہیں۔
اسی طرح حضرت فاطمہ(س) کی تربیتی سیرت کا دوسرا اہم  نکتہ یہ ہے کہ آپ اپنے بچوں کی زبان پر پاکیزہ کلام کو جاری کروانے کے مواقع فراہم کرتی تھی۔جیسا کہ آپ جانتے ہیں کہ جب تک بچے اچھی باتیں اپنی زبان پر نہ لائیں انہیں اچھی باتیں سننے کے عادت نہیں ہوتی چنانچہ امیرالمؤمنین(ع) سے منسوب ایک روایت میں ملتا ہے کہ فرمایا:’’تم اپنی فکروں کی حفاظت کرو چونکہ اس سے تمہیں گفتگو کا ہنر ملتا ہے اور تمہاری زبان سے نکلی ہوئی حقیقتیں تمہارے عمل سے نمایاں ہوتی ہیں‘‘۔
لہذا یہ دیکھنے اور غور کرنے کا مقام ہے کہ حضرت فاطمہ زہرا(س) نے اس خدا داد قوت’’سماعت‘‘ کو  استعمال کر بچوں کی کس طرح تربیت کی  ہے۔ چنانچہ کبھی جب امام حسین(ع) مسجد نبوی میں اپنے نانا رسول خدا(ص) کا وعظ اور کوئی بیان سن کر گھر تشریف لاتے تھے تو حضرت زہرا(س) گھر میں موجود کچھ کپڑوں وغیرہ سے ایک منبر کے مانند جگہ تیار کرتیں اور پھر امام حسین(ع) سے فرماتی بیٹا حسین! اس پر بیٹھو! اور میرے وہ بیان کرو جو تم  اپنے نانا سے مسجد میں سن کر آئے ہو۔
اگر غور کیا جائے کہ تو یہ عمل’’ یعنی اس سے دریافت کرنا کہ اس نے کیا سیکھا ہے‘‘۔یہ بچے کی ذہنیت پر بڑے مثبت اثرات مرتب کرتا ہے کہ بیٹا میرے لئے بیان کرو جو تم نے سنا ہے۔ ہم بھی کبھی کبھی صبح اٹھ کر دیکھتے ہیں ہمارا بچہ ایک چیز گنگنا رہا ہے ظاہر ہے وہ کبھی کوئی شعر ہوتا ہے یا ٹیلیویزن پر چلنے والے کسی سریل یا مشہوری کا جملہ ہوتا ہے ہم اس پر خوش ہوتے ہیں اور جب کہیں جاتے ہیں بڑے فخر سے اپنے بچے سے کہتے ہیں بیٹا چچا کے لئے وہ پڑھو  جو تم نے ٹی وی میں سنا تھا ،یا اپنی خالہ کے لئے اس سریل کا شعر دہراؤ۔اب اسے ڈھارس ملتی ہے لیکن اگر ہم اسی کو اس طرف موڑ دیں کہ بیٹا آپ مجلس میں گئے تھے وہاں کون سی چیز تمہیں اچھی لگی یا یاد ہوئی ہمیں بتاؤ۔تو یہ بچے پر یقنیاً اپنے اثرات مرتب کرے گی۔
البتہ یہ نکتہ بھی قابل غور ہے کہ ہم اپنے بچوں کے لئے وہ مواقع بھی فراہم کریں جہاں انہیں اچھی اور سبق آموز باتیں سننے کا موقع ملے اور خود بھی مقدور بھر  ان کے ساتھ  اچھی باتیں کرنے کی عادت بنا لیں اگر ہم نے ایسا کیا تو یہ اچھی باتیں ایک دن ان کے عمل کے ذریعہ ظاہر ہونگی اور انھیں اسلامی آئین اور قانون کے مطابق زندگی گذارنے میں چنداں دشواری پیش نہیں آئے گی چنانچہ ژیالوجی کے ماہرین اور سائنس دانوں نے آج یہ اصول کشف کر لیا ہے کہ اگر آپ کسی پیڑ کے سامنے  بھی اچھی باتیں کریں گے تو ان کی شادابی ان درختوں سے کہیں زیادہ ہوگی جن کے پاس کھڑے ہوکر بری باتیں کی جاتی ہوں۔
یہ بچے کل کا مستقبل ہے انہیں اچھائیوں سے مالا مال کرنے کے لئے آج ہی سے تربیت کا آغاز کرنا ہوگا اور مثالی تربیت کے لئے مثالی آئیڈیل حضرت فاطمہ زہرا(س) کی ذات والا صفات ہیں۔


0
شیئر کیجئے:
फॉलो अस
नवीनतम