Code : 767 66 Hit

فاطمہ زہرا(س) اور سورہ یٰس کے درمیان شباہت

شیعہ روایات کی رو سے جس طرح سورہ یس کو پڑھنے والا دنیای و آخری عذاب سے محفوظ رہتا ہےاور قیامت میں سورہ یس کی تلاوت اور اس پر عمل کرنے والے کی شفاعت ہوگی اسی طرح قیامت میں حضرت فاطمہ زہرا(س) اور آپ کی پاک ذریت کی محبت اور اتباع کرنے والوں کی شفاعت بھی یقینی ہے۔

ولایت پورٹل: جب ہم اہل بیت(ع) کی سیرت طیبہ اور زندگی میں غور و فکر کرتے ہیں تو ہمیں ہر مرحلہ اور خاص طور پر ان ذوات کی سیاسی و اجتماعی زندگی  میں آیات الہی کی تجلیاں دکھنے کو ملتی ہے۔ خاندان اہل بیت(ع) کی زندگی کا انداز اور طریقہ قرآن مجید کی مکمل تأسی کا نمونہ ہے۔ اور ایسا کیوں نہ ہو چونکہ یہ ذوات حقیقت قرآن اور نطق قرآن ہیں چنانچہ جو خواص،آثار اور برکات قرآن صامت کے ہیں وہی آثار،خصوصیات اور برکات قرآن ناطق میں پائے جاتے ہیں چنانچہ آئیے قرآن مجید کا قلب کہے جانے والے سورہ(سورہ یٰس) کے ساتھ قلب پیغمبر(ص) اور میوہ دل ختمی مرتبت(ص) حضرت صدیقہ طاہر فاطمہ زہرا(س) کے درمیان یوں تو  کئی شباہتیں پائی جاتی ہیں لیکن ہم آج صرف ایک شباہت کو آپ کی خدمت میں پیش کریں گے۔
یٰس اور فاطمہ(س) دونوں شفیع روز جزاء
شیعہ روائی منابع و کتب میں سورہ یٰس کی فضیلت و برکت کے لئے بہت سی روایات ملتی نقل ہوئی ہیں  جن میں اس مکی سورہ کے بہت سے برکات نقل ہوئے ہیں چنانچہ ہر خوش نصیب اور کمال کا متلاشی انسان اس سورہ مبارکہ کی انسان ساز آیات کے ہمراہ ہونا چاہتا ہے سورہ یٰس کی فضیلت میں بس اتنا ہی کافی ہے کہ ابو بصیر امام جعفر صادق(ع) سے نقل کرتے ہیں کہ:’’جو شخص شام ڈھلنے سے پہلے اس سورہ کی تلاوت کرلے تو وہ رات تک ہر بلا سے محفوظ اور اس کا رزق کی ضمانت لے لی جاتی ہے اور جو اسے رات کو سونے سے پہلے پڑھے  اللہ تعالٰی ایک ہزار فرشتہ اس کے لئے مأمور کرتا ہے تاکہ اسے شیطان کی پلیدگیوں  سے دور رکھے اور ہر آفت سے محفوظ بچائے اور اگر اسے سوتے ہوئے موت بھی آجائے تو وہ بہشت میں داخل ہوگا۔(یعنی سورہ یٰس پیش پروردگار اس کا شفیع قرار پاتا ہے۔( مجمع البیان فی تفسیر القرآن، ج‏20، ص359)
اس روایت میں سورہ یٰس کی تلاوت کرنے والا بہشتی ہونے کے طور پر پہچانا گیا ہے  اور دوسری طرف حضرت فاطمہ زہرا سلام اللہ علیہا، اللہ تعالٰی کے نزدیک اس منزلت پر فائز ہیں کہ آپ کے چاہنے والوں اور شیعوں کو بہشت کی نوید دی گئی ہے۔
چنانچہ ایک روایت میں نقل ہوا ہے کہ رسول اللہ(ص) نے ارشاد فرمایا: جب روز قیامت نمودار ہوگا میری بیٹی فاطمہ قیامت میں ایک بہشتی ناقہ پر سوار ہوکر وارد محشر ہونگی کہ جس کی مہار جبرائیل کی ہاتھ میں ہوگی جو با آواز بلند یہ صدا دیں گے اے اہل محشر! اپنی نظروں کو جھکا لو تاکہ پیغمبر اکرم(ص) کی بیٹے گذر سکے  چنانچہ اس دن کوئی نبی، ولی اور صدیق بھی ایسیا نہ بچے گا جسکی آنکھیں احترام و جلالت فاطمہ میں جھکی نہ ہونگی یہاں تک کہ فاطمہ گذر کر عرش الہی تک پہونچے گی۔( الأمالی (للصدوق) ص18)ناگہاں اللہ تعالٰی کا جواب ملے گا اے میری کنیز اور میرے حبیب کی حبیبہ!تمہیں مجھ سے جو مانگنا ہے مانگ لو تاکہ میں عطا کردوں اور تم جس کی شفاعت چاہو کرلو تاکہ میں قبول کرلوں۔مجھے اپنی عزت و جلال کی قسم کہ میں ستمگروں کو ان کے انجام تک پہونچاؤں۔عرض کریں گی: میرے معبود! میرے سید و رب!میرے اور میری ذریت کے شیعوں اور میرے اور میری ذریت کے محبوں پر رحم فرما! ندائے خدائے منان آئے گی کہاں ہیں فاطمہ کی ذریت اور ان کے شیعہ! چنانچہ یہ لوگ سامنے آئیں گے اور اس وقت ایک قافلہ بن کر جنت کی طرف چل پڑے گا جس کی سالار میری بیٹی فاطمہ ہوگی۔



0
شیئر کیجئے:
फॉलो अस
नवीनतम