Code : 587 15 Hit

فاطمہ(س) کی نسبت رسول خدا(ص) کے حد درجہ احترام کی وجہ

رسول اللہ(ص) کی طرف سے حضرت فاطمہ زہرا(س) کے جتنے فضائل بیان ہورہے ہیں وہ ایک بیٹی ہونے کے طور پر نہیں ہیں بلکہ یہ سب فضائل اس وجہ سے بیان ہورہے ہیں کہ امت بیدار ہوجائے اور مقام فاطمہ(س) کو سمجھے۔ رسول اللہ(ص) یہ بتنا چاہ رہے ہیں کہ اس گھرانے کے ہوتے ہوئے امت کو کسی دوسرے کے دروازے پر جانے کی ضرورت نہیں ہے اب یہ امت خود سوچے کہ اس نے بعد رسول(ص) آپ کی لخت جگر کے ساتھ کیا سلوک روا رکھا۔کیا اس نے اپنے مسائل، دین کے حلال و حرام اور زندگی کے طور طریقوں کو فاطمہ(س) اور آپ کی ذریت سے لیا یا کسی اور کی ڈیوڑھی پر جبیں سائی کی ہے۔

ولایت پورٹل: پیغمبر اکرم(ص) جس محبت و احترام کا اظہار اپنی دختر نیک اختر حضرت فاطمہ زہرا(س) کے لئے فرمایا کرتے تھے اسے صرف ایک باپ اور بیٹی کی محبت قرار نہیں دیا جاسکتا اور اگر رسول خدا(ص) کی ان تمام عنایتوں کو، جو آپ حضرت فاطمہ(س) کی نسبت فرمایا کرتے تھے،صرف باپ کی  محبت میں خلاصہ کردیا جائے تو امت کے ہر فرد پر ۔اگر واجب نہ سہی حد اقل تأسی پیغمبر اور سنت مؤکدہ پیغمبر ہونے کے طور پر اپنانا لازم ہوجاتا ہے۔ آپ ملاحظہ فرمائیں علمائے اہل سنت اور شیعہ دونوں نے اپنی معتبر کتابوں میں نقل کیا ہے کہ جب بھی صدیقہ طاہرہ(س) بارگاہ رسول اکرم(ص) میں تشریف لاتیں سید المرسلین(ص) با تمام قد، احترام فاطمہ میں اپنی جگہ سے کھڑے ہوجاتے تھے اور انہیں اپنے پاس اپنی مسند پر بٹھاتے تھے۔اب ظاہر ہے تاریخ عالم و آدم میں آپ وہ پہلی بیٹی ہیں جس کے احترام میں سید الانبیاء(ص) کھڑے ہوجاتے تھے۔اگر اس نظر سے دیکھا جائے تو انسان سوچنے پر مجبور ہوجاتا ہے کہ اگر بیٹی کے لئے باپ کا کھڑا ہونا واجب ہوتا تو ہر مسلمان کو اپنی بیٹی کے احترام میں کھڑا ہونا پڑتا اور اگر واجب نہیں بلکہ سنت رسول(ص) ہے تو کم از سنت رسول سمجھ کر ہی اس کام کو کیا جائے اور اپنی بیٹی کا احترام کیا جائے اور اگر سب لوگ نہ اٹھیں تو کم از کم ان لوگوں کو تو ضرور اٹھنا چاہیے جنہیں سنت نبوی(ص) پر عمل کرنے کا بڑے دعوے ہیں۔لیکن نہ رسول اللہ(ص) سے پہلے کوئی باپ اپنی بیٹی کے لئے اٹھا اور نہ سرکار(ص) کے بعد کوئی باپ اپنی بیٹی کے احترام کے لئے کھڑا ہوا۔ تو ماننا پڑے گا کہ رسول خدا(ص) فاطمہ زہرا(س) کا احترام محض ایک بیٹی ہونے کی حیثیت سے نہیں کرتے تھے بلکہ کوئی دوسری وجہ تھی جس کے سبب اللہ کا رسول بیٹی کا اس قدر احترام کیا کرتا تھا اور روایات میں تو یہاں تک ملتا ہے کہ رسول اللہ(ص) اپنی بیٹی سے فرماتے تھے:’’میرے ماں باپ تم پر فدا ہوں‘‘۔یا آپ کا یہ ارشاد فرمانا:’’ أَنَّ اَللَّهَ يَغْضَبُ لِغَضَبِ فَاطِمَةَ وَ يَرْضَى لِرِضَاهَا‘‘۔بے شک اللہ فاطمہ کی ناراضگی سے غضبناک ہوتا ہے اور اس کے خوش ہونے سے راضی ہوتا ہے۔ یا یہ فرمان:فاطمۃ بضعۃ منی‘‘ فاطمہ میرا ٹکڑا ہے۔’’السلام علیکم یا اھل بیت النبوۃ‘‘۔اے اہل بیت نبی تم پر سلام! یہ صاحب شریعت کی زبان سے نکلے ہوئے نورانی کلمات ہیں انہیں جذبات، عطوفت اور احساساتی استعاروں سے تعبیر نہیں کیا جاسکتا کہ چونکہ رسول خدا(ص) ایک باپ تھے ۔نہیں! قارئین ہمیں سوچنا ہوگا۔رسول اللہ (ص) پروردگار کی طرف سے منتخب اور برگزیدہ ہیں جن کے لئے اللہ نے فرمایا ہے:’’وَمَا مُحَمَّدٌ إِلا رَسُولٌ‘‘۔یا ارشاد ہوتا ہے:’’ وَمَا يَنْطِقُ عَنِ الْهَوَى إِنْ هُوَ إِلَّا وَحْيٌ يُوحَىٰ‘‘۔کہ ہمارا رسول اپنی طرف سے کچھ نہیں کہتا بلکہ یہ وہی کہتا ہے جو اس پر وحی نازل ہوتی ہے۔
اب اس تمہید کے بعد ملاحظہ کیجئے کہ رسول اللہ(ص) کی طرف سے حضرت فاطمہ زہرا(س) کے جتنے فضائل بیان ہورہے ہیں وہ ایک بیٹی ہونے کے طور پر نہیں ہیں بلکہ یہ سب فضائل اس وجہ سے بیان ہورہے ہیں کہ امت بیدار ہوجائے اور مقام فاطمہ(س) کو سمجھے۔ رسول اللہ(ص) یہ بتنا چاہ رہے ہیں کہ اس گھرانے کے ہوتے ہوئے امت کو کسی دوسرے کے دروازے پر جانے کی ضرورت نہیں ہے اب یہ امت خود سوچے کہ اس نے بعد رسول(ص) آپ کی لخت جگر کے ساتھ کیا سلوک روا رکھا۔کیا اس نے اپنے مسائل، دین کے حلال و حرام اور زندگی کے طور طریقوں کو فاطمہ(س) اور آپ کی ذریت سے لیا یا کسی اور کی ڈیوڑھی پر جبیں سائی کی ہے۔


0
شیئر کیجئے:
फॉलो अस
नवीनतम