Code : 442 12 Hit

عمرہ پر آئے ایک سوڈانی صوفی کو مسجد الحرام کے سیکورٹی گارڈ نے جم کر پیٹا

یاد رہے کہ بیت اللہ میں ہر سال مختلف ممالک سے جانے والے حجاج سعودی ریزہ خواروں کی توہین اور بے حرمتی کا شکار ہوتے ہیں حجاج کے اعتراض کرنے کے باوجود بھی حکومت کوئی نوٹس نہیں لیتی جس کا صاف مطلب یہ ہے کہ حکومت نے انہیں یہ سب کرنے کی کھلی چھوٹ دے رکھی ہے۔

ولایت پورٹل: کعبہ اللہ کا گھر ہے اور ہر کلمہ پڑھنے والے مسلمان کو خانہ کعبہ کی زیارت کرنے کا حق اللہ کی طرف سے دیا گیا ہے یہ گھر کسی کی میراث نہیں ہے یہاں اللہ کا ہر بندہ آکر اپنے مسلک کے مطابق مناسک حج و عمرہ انجام دے سکتا ہے۔
لیکن کیا کیا جائے صاحب! جب سے حرمین شریفین پر آل سعود کا ناحق قبضہ ہے انہوں نے ان دونوں مقامات کو اپنی اور اپنے باپ کی جاگیر سمجھ رکھا ہے اور وہ اسی طریقہ عبادت کو درست جانتے ہیں جو محمد بن عبد الوہاب نے انہیں بتایا ہے اور یہی وجہ ہے کہ وہ اپنے علاوہ باقی سب اسلامی فرقوں کے ماننے والوں کو کافر و مشرک گردانتے ہیں۔
بات دو دن پہلے کی ہے کہ جب سوڈان کے ایک صوفی مسلک  بزرگ اپنی اہلیہ کے ہمراہ طواف خانہ کعبہ میں مشغول تھے اور اپنے پروردگار کی بارگاہ میں راز و نیاز و فریاد کررہے تھے لیکن نہ جانے کیوں آل سعود کے کارندوں اور مسجد الحرام کی پولیس انتظام کے ایک رکن نے اس بزرگ کی وہ توہین کی کہ الآمان و الحفیظ ۔ جس کے متعلق سن کے سوڈان کے صوفی حضرات میں غم و غصہ کی لہر ہے اور انہوں نے سعودی حکومت سے اس پولیس والے کی تحقیق کر سزائے واقعی کا مطالبہ کیا ہے۔
جبکہ پولیس انتظامیہ کا کہنا ہے کہ وہ شخص حرم میں کچھ ایسے کام کررہا تھا جو جادو ٹونے سے مشابہ تھے۔ لیکن سوڈان کی صوفی جماعت کے لوگوں نے پولیس انتظامیہ کے جادو و ٹونے کو محض بہانا بتاتے ہوئے اسے انتظامیہ سے نکال سزا کا مطالبہ کیا ہے ۔
یاد رہے کہ بیت اللہ میں ہر سال مختلف ممالک سے جانے والے حجاج سعودی ریزہ خواروں کی توہین اور بے حرمتی کا شکار ہوتے ہیں حجاج کے اعتراض کرنے کے باوجود بھی حکومت کوئی نوٹس نہیں لیتی جس کا صاف مطلب یہ ہے کہ حکومت نے انہیں یہ سب کرنے کی کھلی چھوٹ دے رکھی ہے۔

0
شیئر کیجئے:
फॉलो अस
नवीनतम