Code : 1198 31 Hit

عمران خان کی رہبر معظم کے ساتھ ملاقات

رہبر معظم نے پاکستان کےوزیراعظم عمران خان کے ساتھ ملاقات میں فرمایا کہ دشمنوں کی خواہشوں کے برعکس ایران اور پاکستان کے تعلقات پہلے سے بھی زیادہ مستحکم ہونا چاہیے۔


پاکستان کےوزیراعظم عمران خان نے اپنے دورہ تہران میں پیر کورہبر معظم آیت اللہ العظمی سید علی خامنہ ای سے ملاقات کی جس میں انھوں  نے فرمایا کہ دشمنوں کی خواہشوں کے برعکس ایران اور پاکستان کے تعلقات پہلے سے بھی زیادہ مستحکم ہونا چاہیے، آپ نے دونوں ملکوں کےتاریخی اور مستحکم تعلقات کا ذکرکرتے ہوئے فرمایاکہ برصغیر ہند کی عزت و شکوہ کے عروج کا زمانہ اس علاقے پر مسلمان حکومتوں کے دور کا زمانہ تھا اور  برطانوی سامراج نے اسلامی تہذیب و تمدن کو نابود کرکے اس علاقے کو بہت زیادہ نقصان پہنچایا،رہبرمعظم نے علامہ اقبال اور محمد علی جناح جیسی پاکستانی شخصیات کو خراج عقیدت پیش کرتے ہوئے فرمایا کہ اچھے تعلقات دونوں ملکوں کے نفع میں ہیں لیکن ان تعلقات کے دشمن بھی ہیں، بنابریں دشمنوں کی مرضی اور خواہشوں کے برخلاف مختلف میدانوں میں یہ تعلقات مزید مضبوط ہونا چاہیے، رہبرمعظم نے دونوں ملکوں کی سرحدوں پر سکیورٹی کے مسائل کو اہم قراردیا اور فرمایا کہ دہشت گرد گروہوں کو جو سرحدوں پر بدامنی کے ذمہ دار ہیں  پیسے اور اسحلے دئے جارہے ہیں جن کا مقصد  ایران و پاکستان کی سرحدوں پر بدامنی پھیلانے کا ایک مقصد دونوں ملکوں کے تعلقات کو خراب کرنا ہے، آیت اللہ العظمی سید علی خامنہ ای نے ایران کے حالیہ سیلاب کے دوران حکومت پاکستان کی امداد کا شکریہ ادا کرتے ہوئے مشہد مقدس اور امام رضا علیہ السلام کے حرم کی زیارت سے  وزیراعظم پاکستان عمران خان کے دورہ ایران کے آغاز کو ایک اچھی علامت قراردیا اور اس امید کا اظہار کیا کہ امام رضا علیہ السلام کی عنایات سے یہ دورہ دونوں ملکوں کے لئے مفید اور تعمیری واقع ہوگا ،پاکستان کے وزیرا‏‏‏عظم عمران خان نے بھی اس ملاقات میں تہران میں انجام پانے والے مذاکرات کو تعمیری اور اطمینان بخش بتایا اور کہا کہ ان مذاکرات میں بہت سے مسائل حل ہوگئے ہیں،پاکستان کے وزیراعظم نے ایران وہند کے تاریخی تعلقات کا ذکرکرتے ہوئے کہا کہ مسلمانوں نے چھے سو سال تک برصغیر پر حکومت کی اور ہندوستان پر ایران کا اثر اتنا زیادہ تھا کہ برصغیرکی سرکاری زبان فارسی تھی،عمران خان نے کہا کہ انگریزوں نے سب سے زیادہ ہندوستان کی دولت لوٹی اور انہوں نے ہی اس خطے کو تباہ کیا،پاکستانی وزیرا‏عظم نے اس بات کا ذکرکرتے ہوئے کہ بعض قوتیں نہیں چاہتیں کہ ایران اور پاکستان ایک دوسرے کے قریب ہوں لیکن ہم مشکلات پر غلبہ پاسکتے ہیں کہا کہ ہم  کوشش  کریں گے کہ دونوں ملکوں کے تعلقات پہلے سے بھی زیادہ مستحکم ہوں۔
تسنیم


0
شیئر کیجئے:
फॉलो अस
नवीनतम