Code : 525 34 Hit

علی(ع) کے جینے کا انداز

امام محمد باقر(ع) اپنے جد نامدار علی(ع) کے متعلق ارشاد فرماتے ہیں کہ: علی(ع) نے پانچ برس حکومت کی لیکن کبھی اپنے لئے اینٹ پر اینٹ نہ رکھی اور نہ کوئی گھر بنایا اور نہ کوئی زمین خریدی۔اور اپنی شہادت کے بعد بھی ورثاء کے لئے درہم و دینار نہیں چھوڑے آپ گیہوں کی روٹی اور گوشت کو ضرورت مندوں کو دے کر گھر لوٹ آتے تھے اور خود جو کی بنی روٹی، سرکہ و زیتون سے تناول فرما کر شکر خدا ادا کرتے تھے۔

ولایت پورٹل: دنیا میں بہت سے نامور لوگ گذرے ہیں جن کی تاریخ پڑھ کر انسان کو رشک ہوتا ہے۔ بہت سے علماء،دانشور، عادل حکمراں،نواب جاگیردار جنہوں نے انسانیت کی بڑی خدمت کی ہے۔ لیکن ایسا بہت کم ہوتا ہے کہ جو رحم دل ہو وہ شجاع  بھی ہو بلکہ اس کے برعکس جو شجاع ہوتا ہے اس کے دل میں رحم آجائے تو یہ بہر حال  ایک سخت امر ہے،چنانچہ علی(ع) کی مثال تاریخ پیش کرنے سے قاصر ہے ایک اپنے زمانے کے سب سے بہادر انسان جس نے بڑے بڑے نامی سورماؤں کی ناک زمین پر رگڑی ہو جس کا رابطہ اپنے اللہ سے اتنا قوی تھا کہ ایک رات میں ہزار رکعت نماز پڑھتے تھے دنوں میں روزہ رکھتے تھے،جہاں دنیا میں لوگ اپنے ورثاء کے لئے بڑی بڑی جاگیریں چھوڑ کر جاتے ہیں وہیں علی(ع) اس حال میں دنیا سے گئے کہ کوئی درہم و دینار اولاد کے لئے نہیں چھوڑا آپ کے پیکر میں ایک درمند دل تھا جو ہر آن آپ کو بیٹھنے نہیں دیتا تھا اور تعجب کی بات یہ کہ آپ کا جتنا قوی رابطہ اپنے رب سے تھا اتنا ہی قوی اتصال اس کی مخلوق سے تھا چنانچہ امام محمد باقر علیہ السلام اپنے جدّ نامدار حضرت امیرالمؤمنین(ع) کے احوال و اخلاق کے سلسلہ میں ارشاد فرماتے ہیں:’’خدا کی قسم! میرے جد علی(ع) غلاموں کے ساتھ بیٹھ کر کھانا کھایا کرتے تھے اور اگر دو جوڑا کپڑے خریدتے تو ان میں سے اچھا کپڑا غلام کو دیدیا کرتے تھے اور سادہ اور ہلکہ کپڑا اپنے لئے رکھتے تھے۔
آپ نے پانچ برس حکومت کی لیکن کبھی اپنے لئے اینٹ پر اینٹ نہ رکھی اور نہ کوئی گھر بنایا اور نہ کوئی زمین خریدی۔
اور اپنی شہادت کے بعد بھی ورثاء کے لئے درہم و دینار نہیں چھوڑے آپ گیہوں کی روٹی اور گوشت کو ضرورت مندوں کو دے کر گھر لوٹ آتے تھے اور خود جو کی بنی روٹی، سرکہ و زیتون سے تناول فرما کر شکر خدا ادا کرتے تھے۔
اور جب بھی آپ کے سامنے ایک ساتھ دو ایسے کام پیش آجاتے تھے جن میں پروردگار کی مرضی شامل ہوتی تھی تو آپ ان میں،سب سے سخت کام کا انتخاب کرتے تھے۔
علی(ع) نے اپنے بازو کی قوت کے نتیجے اور اپنی پسینہ کی کمائی سے ایک ہزار غلام خرید کر راہ خدا میں آزاد کئے۔( وسائل الشیعه، ج ۱، ص ۶۶)۔

 


0
شیئر کیجئے:
फॉलो अस
नवीनतम