Code : 492 37 Hit

شیعیت کی حفاظت کے لئے تقیہ ایک مضبوط حکمت عملی

تقیہ کا مطلب یہ ہے کہ دشمنوں اور مخالفین کے سامنے اپنے عقیدہ حق کو اس وجہ سے چھپانا کہ حق کا تحفظ ہوسکے اور ساتھ ہی اس شخص یا اس قوم کو کہ جو حق کی پیروکار ہے،کوئی نقصان نہ پہونچے،یعنی خطرات کے وقت اپنے قلبی عقیدہ کو محفوظ رکھتے ہوئے اس طرح عمل کرے کہ جس سے اس کی جان،دین اور دنیا محفوظ رہے لہذا اس عقلی و دینی حکمت عملی کے سبب حق کو سب سے پہلے تحفظ فراہم کرنا ہوتا ہے۔

ولایت پورٹل: قارئین کرام! اگرچہ شیعہ تاریخ کے ہر دور میں اقلیت میں رہے ہیں لیکن الحمد للہ کبھی کوئی دور ایسا نہیں گذرا کہ جس میں شیعیت مردہ و بے اثر ہو کر رہ گئی ہو بلکہ اس کے برعکس، شیعیت ہمیشہ مؤثر رہی ہے۔جبکہ ہمیشہ ان کا مقابلہ تاریخ کے سب سے بڑے ظالم و جابر خلفاء اور سلاطین سے رہا ہے کہ جن کی تمام تر کوشش یہی تھی کہ صفحہ ہستی سے شیعیت کا نام و نشان مٹ جائے لیکن آئمہ علیہم السلام کی طرف سے اپنے چاہنے والوں کے تحفظ کے لئے ایک غیر معمولی اور منحصر  بہ فرد حکمت عملی ’’تقیہ‘‘ بیان فرمائی کہ جو شیعیت کو ہر خطرناک بند گلی  بچا کر لے آئے اس لئے شیعہ دشمنوں نے ہمیشہ اس مقدس حکمت عملی کو طرح طرح کے حملوں کا نشانہ بنایا ہے۔
اور عجیب بات یہ ہے کہ آج شیعہ مخالف تمام تر چھوٹے بڑے دشمن اس حیاتی اور فوق العادہ اسٹریٹیجی اور حکمت عملی کو کبھی جھوٹ کا نام دیتے ہیں تو کبھی نفاق سے تعبیر کرتے ہیں،اس سے ان کا مقصد یہ ہے کہ وہ ناخدا گاہ لوگوں کے ذہن میں اس غیر معمولی حکمت عملی کو شیعیت کی تاریخ کے ایک ضعیف نقطہ کے طور  پیش کریں،چونکہ تقیہ طول تاریخ میں شیعیت کی حیات اور اس کے استمرار کا ایک بہترین وسیلہ و ذریعہ رہا ہے۔
تقیہ کی تعریف
تقیہ کا مطلب یہ ہے کہ دشمنوں اور مخالفین کے سامنے اپنے عقیدہ حق کو اس وجہ سے چھپانا کہ حق کا تحفظ ہوسکے اور ساتھ ہی اس شخص یا اس قوم کو کہ جو حق کی پیروکار ہے،کوئی نقصان نہ پہونچے،یعنی خطرات کے وقت اپنے قلبی عقیدہ کو محفوظ رکھتے ہوئے اس طرح عمل کرے کہ جس سے اس کی جان،دین اور دنیا محفوظ رہے لہذا اس عقلی و دینی حکمت عملی کے سبب حق کو سب سے پہلے تحفظ فراہم کرنا ہوتا ہے۔
تقیہ اور جھوٹ و نفاق میں فرق
جھوٹ:جھوٹ کا مقصد حق و حقیقت کو نقصان پہونچانا ہوتا ہے چونکہ جھوٹ بولنے والا اپنے مقاصد و خواہشات تک پہونچنے میں سب سے بڑی رکاوٹ حق کو جانتا ہے یہی وجہ ہے کہ جھوٹ بولنے والا بہت ہی معمولی سے حالات کی خرابی کو بہانا بنا کر اور چھوٹے سے بہانے کے سبب بھی حق و حقیقت کا انکار کردیتا ہے۔
جبکہ تقیہ میں سب سے پہلا مقصد ہی حق و حقیقت کی حفاظت ہوتا ہے یہی وجہ ہے کہ تقیہ بہت اضطراری اور مشکل حالات میں کیا جاتا ہے چونکہ حق کو مخفی رکھنا کبھی اتنا ضروری ہوجاتا ہے کہ وہ افراد کہ جو پیروان حق ہیں انہیں کوئی دنیی یا دنیاوی نقصان نہ اٹھانا پڑے چونکہ کبھی اگر حق پرستوں کو نقصان پہونچے تو یہ حق کے ضعف کا سبب بنے گا یہی وجہ ہے کہ اگر کبھی خود اصل دین خطرے میں ہو تو اس جگہ تقیہ کی کوئی جگہ نہیں بچتی۔
پس جھوٹ کا مقصد اپنے ذاتی منافع کی حفاظت ہے یہاں تک کہ چاہے حق کی قربانی کیوں نہ کرنی پڑے لیکن اس کے برخلاف تقیہ کا مقصد حق کی حفاظت ہے اس شرط کے ساتھ کہ مخالفین اور حق کے دشمنوں سے حق بچا رہے۔
منافقت: جبکہ نفاق اور منافقت ایک ایسے شخص کی خصوصیت ہے کہ جس کے سبب وہ مطمئن اور ثابت اصول سے سرپیچی کرتے ہوئے اپنے مادی منافع کی خاطر اپنے عقیدہ سے بدل جائے یا جھوٹ بولے یا خلاف وعدہ کام کرے ۔جبکہ تقیہ کرنے والے کا عقیدہ اپنے قلبی باور پر محکم و استوار رہتا ہے اور صرف خاص شرئط کی بنا پر اور حق کی حمایت کی خاطر کچھ ایسی حفاظتی تدابیر بروئے کار لاتا ہے جس سے حق بچا رہے۔
تقیہ ایک معقول حکمت عملی
یہ فطرت کا تقاضہ ہے کہ کسی بھی گرانقدر اور ذی قیمت شئی کو خطرات سے بچانے کے لئے اسے مخفی کردیا جاتا ہے اور دشمنوں کی نظروں سے اوجھل کردیا جاتا ہے۔اور جتنا یہ خطرہ شدید ہوتا ہے اس کی حفاظت کے انتظامات بھی شدید ہوتے ہیں۔ چونکہ عقل ہمیشہ یہ تقاضہ کرتی ہے کہ اگر دوچیزوں کے درمیان تضاد و تزاحم پایا جائے  تو اسے بچا لیا جائے جو زیادہ حیاتی اور گرانقدر ہو۔اب ہر صاحب عقل یہ فیصلہ کرسکتا ہے کہ جب حق کو ظاہر کرنا حق اور حق پرستوں کی نابودی کا سبب بن جائے تو بہتر یہی ہے کہ کچھ دیر کے لئے دشمن حق سے حق کو مخفی کردیا جائے تاکہ حق والے محفوظ رہیں۔اور اگر ہمیشہ حق کو ظاہر کردیا جائے چاہے روئے زمین پر کوئی حق کا نام لیوا بچے یا نہ بچے تو ہم سمجھتے ہیں یہ حق کی خدمت نہیں بلکہ حق و حقیقت کا گلا گھونٹنا ہے۔


0
شیئر کیجئے:
फॉलो अस
नवीनतम