Code : 791 36 Hit

شیعت کے چار ارکان

اگرچہ رحلت رسول خدا(ص) کے بعد آپ کے بہت سے جانثار اصحاب گذرے ہیں جن کا مقام بہت بلند تھا اور جو علی علیہ السلام کی ولایت پر مر مٹنے والے تھے جیسا کہ حذیفہ بن یمان کہ جنہیں رسول خدا(ص) کا صاحب سر ہونے کا شرف حاصل تھا،اسی طرح ہیثم بن تیہان،خذیمہ بن ثابت جو ذو الشہادتین کے لقب سے معروف تھے،سہل بن حنیف انصاری،عثمان بن حنیف انصاری وغیرہ اگرچہ یہ بھی بہت عظیم ووالا مقام شخصیتیں تھیں لیکن ان میں سے کوئی بھی سلمان ،ابوذر،مقداد وعمار کے پائے تک نہیں پہونچا۔

ولایت پورٹل: شیعوں کی چار بڑی شخصیتوں کو ارکان اربعہ تشیع کہا جاتا ہے اور ان افراد کا سب سے بڑا افتخار یہ تھا کہ یہ لوگ امیرالمؤمنین علی ابن ابی طالب(ع) کے شیعہ کے طور پر پہچانے جاتے تھے۔
یہ بزرگوار شخصیات یہ ہیں : سلمان فارسی،ابوذر غفاری،مقداد بن اسود اور عمار یاسر(رض)۔
رسول خدا(ص) سے مروی  ایک حدیث  ہے جس میں آپ نے امیرالمؤمنین(ع) سے فرمایا:’’ یا علی! انتَ و شیعُتک هم الفائزون‘‘ چنانچہ اس حدیث میں لفظ ’’شیعہ‘‘ علی علیہ السلام کے پیروکاروں کے لئے زبان رسول اکرم(ص) سے ذکر ہوا ہے اور یہ چاروں افراد۔ جیسا کہ ایک حدیث میں بھی نقل ہوا ہے۔جنت ان کی زیارت کی مشتاق ہے چونکہ یہ لوگ ولایت امیرالمؤمنین(ع) کے دفاع اور حقیقت حال کو لوگوں کے سامنے بیان کرنے والے تھے  نیز وصال پیغمبر اکرم(ص) کے بعد  یہ کسی سقفائی  سازش کا حصہ نہیں بنے اور اسی وجہ سے یہ شیعت کے چار بڑے ارکان میں شمار ہوتے ہیں۔
اگرچہ رحلت رسول خدا(ص) کے بعد آپ کے بہت سے جانثار اصحاب گذرے ہیں جن کا مقام بہت بلند تھا اور جو علی علیہ السلام کی ولایت پر مر مٹنے والے تھے  جیسا کہ حذیفہ بن یمان کہ جنہیں رسول خدا(ص) کا صاحب سر ہونے کا شرف حاصل تھا،اسی طرح ہیثم بن تیہان،خذیمہ بن ثابت جو ذو الشہادتین کے لقب سے معروف تھے،سہل بن حنیف انصاری،عثمان بن حنیف انصاری وغیرہ اگرچہ یہ بھی بہت عظیم ووالا مقام شخصیتیں تھیں لیکن ان میں سے کوئی بھی سلمان ،ابوذر،مقداد وعمار کے پائے  تک نہیں پہونچا۔
چنانچہ اصطلاح علم رجال میں ان چاروں کا مقام اتنا بلند ہے کہ اگر کسی روایت کی سند ان پر پہونچ جاتی ہے تو علماء اس حدیث پر فتویٰ دیدیتے ہیں اور باقی دیگر اصحاب کا شمار دوسرے درجہ کے شیعوں میں ہوتا ہے۔
 


0
شیئر کیجئے:
फॉलो अस
नवीनतम