Code : 522 35 Hit

شخصیت شناسی کی اہمیت و ضرورت

کسی بھی شخصیت کی فکر کو سمجھنےاور اسکے طرز عمل کو جاننے کے لئے ضروری ہے کہ شخصیت کے ساتھ رہنے والے افراد سے رابطہ کیا جائے اور دیکھا جائےکہ اس شخصیت کے بارےمیں اسکے قریبی لوگوں کا خیال کیا ہے؟ یہی وجہ ہے کہ جب بھی بات کسی شخصیت اور اسکے کمالات کی آتی ہے تو شخصیت کے مختلف پہلوؤں کو بیان و واضح کرنے کے لئے شخصیت کے افکار و آثار کے ساتھ یہ بھی دیکھا جاتا ہے کہ اس شخصیت کے ساتھ کن لوگوں نے وقت گزراہے اور ، گزرے ہوئے وقت میں اس شخصیت نے مختلف رشتوں کو کیسے نبھایا ہے چنانچہ علم نفسیات (Psychology) میں شخصیت کا مطالعہ اور اس کے کمالات کا احاطہ ہمیشہ ہی اہمیت کا حامل رہا ہے۔

ولایت پورٹل: انسان کا کردار اور اسکی فکر اسکی شخصیت کے ترجمان ہوا کرتے ہیں ،انسان اس دنیا سے چلا جاتا ہے لیکن اپنی فکر اوراپنے کردار سے اپنی شخصیت کو ہمیشہ کے لئے چھوڑ جاتا ہے ،عام طور پر جب بھی کسی کی شخصیت کی بات آتی ہے تو اس کی فکر اسکے احساس،اور اسکے کردار کو سامنے رکھا جاتا ہے ، ہر انسان کی زندگی میں اسکا وہ سلیقہ زندگی بہت اہم ہوتا ہے جسے اس نے معاشرہ میں اختیار کیا اور اسکے مطابق زندگی گزاری۔ یوں تو ہر انسان کی شخصیت اسکی فکر و اسکے عمل سے جانی جاتی ہے لیکن موجودہ دور میں  شخصیت  شناسی ایک مستقل موضوع ہے اور شخصیت کی تعریف کیا ہے اسی مسئلہ کو لیکر ماہرین نفسیات، فلسفیوں اور سماجی ماہرین نے اپنے اپنے انداز میں اظہار خیال کرتے ہوئے اسکی  مختلف تعریفیں کی ہیں جنکی تعداد  سینکڑوں پر متجاوز ہے۔(۱) ، گیلفورڈ  (گئیلفورڈ)  1959 ء  نے ان تعریفوں کو چار اقسام میں تقسیم کرتے ہوئے ہر ایک پر تفصیلی گفتگو کی ہے  جو فی الحال ہمارے پیش نظر نہیں  ۔ شخصیت کی جو بھی تعریف کی جائے  اس کے دو بنیادی عناصر؛ فکر و عمل کو نظر انداز نہیں کیا جا سکتا۔
کسی بھی شخصیت کی فکر کو سمجھنےاور  اسکے طرز عمل کو جاننے کے لئے ضروری ہے کہ شخصیت کے ساتھ رہنے والے افراد سے رابطہ کیا جائے اور دیکھا جائےکہ اس شخصیت کے بارےمیں اسکے قریبی لوگوں کا خیال کیا ہے؟ یہی وجہ ہے کہ  جب بھی بات کسی شخصیت اور اسکے کمالات کی آتی ہے تو شخصیت کے مختلف پہلوؤں کو بیان  و واضح کرنے کے لئے شخصیت کے افکار و آثار کے ساتھ یہ بھی دیکھا جاتا ہے  کہ اس شخصیت کے ساتھ کن لوگوں نے وقت گزراہے اور ، گزرے ہوئے وقت میں اس شخصیت نے مختلف رشتوں کو کیسے نبھایا ہے چنانچہ علم نفسیات (Psychology) میں شخصیت کا مطالعہ اور اس کے کمالات کا احاطہ  ہمیشہ ہی  اہمیت کا حامل رہا ہے۔
جب عام طور پر کسی عام انسان کی شخصیت  کے ظاہری و باطنی اور اکتسابی و غیر اکتسابی خصوصیات (Personality Attributes) کو بیان کرنے کا مرحلہ آجائے تو ہم ان لوگوں کی طرف رجوع کرتے ہیں جنہوں نے  منظور نظر شخصیت کے ساتھ وقت گزارا ہو   ، جو متعلقہ  شخصیت کے ساتھ اٹھے بیٹھے ہوں ۔ تو خاص مقامات پر خاص شخصیتوں کے بارے میں تو  اور بھی ضروری ہے کہ ہم ان کے بارے میں معلومات کی فراہمی کے لئے ان  لوگوں کی  کی طرف رجوع کریں جنکے ساتھ اس  شخصیت نے وقت گزارا ہے جسے ہم سمجھنا چاہ رہے ہیں  ۔
شک نہیں کہ ہر شخصیت کو سمجھنے کے لئے  اسکے ان  خصوصیات کو جاننا ضروری ہوتا ہے   جو شخصیت میں نمایاں ہیں   ، شخصیت کی شناخت میں وہ دور اہم ہوتا ہے جس میں شخصیت پروان چڑھی ہے  ، جس کے ساتھ زندگی گزاری ہے وہ ساتھی اہم ہوتا ہے ،جس شہر میں زندگی گزاری ہے وہ شہر اہم ہوتا ہے اسی طرح جس گھر اور خاندان میں زندگی گزاری ہے وہ گھر اور خاندانی پس منظر اہم ہوتا ہے۔
ہر ایک شخصیت کی اپنی منفرد سوچ ہوتی ہے منفرد عادتیں اور خصوصتیں ہوتی ہیں جن سے اسکی پہچان بنتی ہے  ۔  شخصیت  کو پہچاننے  میں اسکی فطری صلاحیتوں ، رجحانات و  عادتوں کو سمجھنا  بھی ضروری ہے اور اسکے لئے یہ جاننا ضروری  ہوتا ہے کہ یہ شخصیت کن چیزوں کی ورثہ دار ہے  کیونکہ "علم التشریح {Anatomay} نفسیات ، اخلاقیات ، اور علم الاجتماع میں یہ بات طے ہے کہ انسان کے اندر خون اور خاندان کے اثرات بڑی حد تک موجود رہتے ہیں اور ا س کی سیرت کی تشکیل  فطری صلاحیتوں ،رجحانات اور ذہنیت کے بنانے میں موروثی اثرات کا خاصہ دخل ہوتا ہے ۔(۲) خون اور خاندان کے علاوہ ہر شخصیت کی کچھ  ایسی عادتیں  ہوتی ہیں جو  مستقل ہوتی ہیں،جبکہ کچھ وہ ہوتی ہیں جن میں زمانے اور حالات کے ساتھ تبدیلیاں بھی پیدا ہوتی رہتی یہی عادتیں ہی  ایک شخصیت کو دوسری شخصیت سے علیحدہ کرنے  کا سبب ہوتی ہیں۔یہی سبب ہے کہ   ہر معاملے میں انسان اپنی شخصیت کے مطابق عمل کرتا ہے  شخصیت کی شناخت اس لئے بھی بہت ضروری ہے کہ  اگر کسی کی شخصیت کو درست طورپر ہر پہلو جان لیا جائے اور اسکی تشکیل میں پائے جانے والے عناصر ، خاندانی پس منظر، وراثت، ماحول، رشتہ دار و اقارب ،دوست و احباب وغیرہ پر نظر ہو  تو  یہ تک بتایا جا سکتا ہے کہ فرد مخصوص کن حالات میں کیا فیصلہ کر سکتا ہے اور کس عمل پر رد عمل دکھا سکتا ہے اور اسکے رد عمل کی کیفیت کیا ہوگی ؟اسی بنا پر شخصیت شناسی کا موضوع بہت اہم ہو جاتا ہے۔

۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
حوالہ جات:
۱۔۔اتکینسون و هیلگارد. زمینه روانشناسی. تهران: انتشارات ارجمند، ۱۳۹۲. شابک ‎۹۷۸-۶۰۰-۲۰۰-۰۵۰-۷.، نیز Corr, Philip J.; Matthews, Gerald (2009). The Cambridge handbook of personality psychology (1. publ. ed.). Cambridge: Cambridge University Press. ISBN 978-0521862189 (
۲ ۔ تفصیل کے لئے ملاحظہ ہو، سید ابو الحسن ندوی ، المرتضی ص ۳۰۔

 
 


0
شیئر کیجئے:
फॉलो अस
नवीनतम