Code : 1145 47 Hit

سیرت قاسم(ع) کے تناظر میں آج کے جوان کی ذمہ داری

اس نوجوان کی زندگی آج ہمارے جوانوں کے لئے آئیڈیل ہونا چاہیئے نمونہ ہونا چاہیئے۔ جوانوں سے قاسم کی جوانی پکار پکار کر کہہ رہی ہے کہ اے جوانوں! تمہیں ادھر ادھر بھٹکنے کی ضرورت نہیں ہے۔ تمہیں اپنے آئیڈیل فضول اور واہیات شخصیات میں تلاش کرنے کی ضرورت نہیں ہے۔بلکہ زندگی معرفت سے عبارت ہے جتنی تمہیں اپنے امام کی معرفت ہوگی اتنی تمہاری زندگی کامیاب ہوگی اگر امام کی معرفت نہیں تو پھر سب کچھ ہونے کے بعد بھی تمہارا ہاتھ خالی ہے۔چونکہ معرفت ہی وہ دولت ہے جس پر یقین کی عمارت تیار ہوتی ہے اور جہاں یقین نہ ہو وہاں اضطراب ہوتا ہے اور اضطراب میں کوئی جوان ترقی نہیں کرسکتا اور جب کسی قوم کے جوان ترقی نہیں کریں گے وہ قوم آگے نہیں بڑھ سکتی۔

ولایت پورٹل: قارئین کرام! آج 7 شعبان المعظم سن 1440 ہجری ہے اور جسیا کہ آپ جانتے ہیں کہ ماہ شعبان کو رسول اللہ(ص) نے اپنا مہینہ بتایا ہے اور شاید اس کی وجہ یہ ہے کہ اس ماہ میں اہل بیت(ع) کے گھرانے میں وہ ہستیاں پیدا ہوئی جنہوں نے کربلا میں آکر دین کی حفاظت کی اور اسلام کی خاطر اپنا سب کچھ قربان کردیا۔چنانچہ انہیں لوگوں میں سے ایک شخصیت حضرت قاسم بن الحسن(ع) ہیں۔
حضرت قاسم علیہ السلام امام حسن علیہ السلام کے بیٹے تھے آپ کی والدہ کے نام میں اہل تواریخ کے درمیان اختلاف پایا جاتا ہے چنانچہ کچھ مورخین کہتے ہیں کہ ان کا ماں ایک کنیز تھیں جن کا نام رملہ،نفیلہ یا نجمہ تھا۔(1)
اور جس طرح آپ کی والدہ کے نام میں مورخین کے درمیان اختلاف ہے اسی طرح آپ کی تاریخ ولادت کو لیکر بھی کچھ اختلاف نظر پایا جاتا ہے۔چنانچہ ایک روایات کی بنیاد پر آپ کی ولادت کو کچھ مورخین 5رمضان المبارک جبکہ کچھ دیگر مورخین 7 شعبان المعظم مانتے ہیں یعنی امام حسن علیہ السلام کی شہادت سے (بہ اختلاف روایات) 2 برس یا پھر 3 برس پہلے آپ پیدا ہوئے۔(2)
لہذا چاہے یہ مان لیں کہ جناب قاسم اپنے والد ماجد کے ہمراہ 2 برس رہے یا 3 برس لیکن یہ مسلم ہے کہ آپ کی تربیت زیادہ عرصہ آپ کے مہربان و شفیق چچا حضرت امام حسین(ع) نے کی۔
اگرچہ جناب قاسم کا ابھی بچپن تھا کہ جب امیرشام معاویہ بن ابی سفیان کے بھیجے ہوئے زہر سے جعدہ بنت اشعث نے ان کے باپ کو شہید کیا اور قاسم نے ایک طشت میں باپ کے جگر کے ٹکڑے بھی دیکھے اور باپ کے جنازے پر برستے تیر بھی دیکھے اور پھر باپ کا جنازہ گھر واپس آتا ہوا بھی دیکھا۔
اور پھر وہ زمانہ بھی آیا کہ امیر شام نے جاتے جاتے  شام کی حکومت کو اپنے نامراد و بدکردار و فاسق بیٹے یزید کے حوالے کرکے مسلمانوں کو اس کے رحم و کرم پر چھوڑ دیا۔اب یہاں سے جناب قاسم کی زندگی کا نیا دور شروع ہوتا ہے۔ البتہ دور سے مراد یہ ہے کہ جس عمر میں کوئی شخص کسی چیز کے تئیں اپنے موقف کے اظہار و اختیار کرنے میں آزادنہ تفکر کو بروئے کار لائے ورنہ 13 برس کے سن کو ہمارے معاشرے میں فیصلہ کرنے یا اپنا موقف رکھنے کا زمانہ نہیں سمجھا جاتا۔اور جبکہ روایات یہ کہتی ہیں کہ جناب قاسم نابالغ شہید ہوئے۔(3)
بہر کیف؛اس اجمالی تعارف کے بعد یہ اندازہ تو لگایا ہی جاسکتا ہے کہ قاسم ایک دن میں قاسم نہیں بنے بلکہ یہ امام حسین(ع) کی پاکیزہ تربیت کا اثر تھا کہ آپ کو یہ مرتبہ ملا اور آپ محضر نامہ کربلا میں اپنا نام لکھوا پائے۔ اگرچہ ہمارے سامنے حضرت قاسم کی زندگی کے کچھ اوراق ہی کھلے ہیں لیکن انہیں سے ماضی کا اندازہ لگایا جاسکتا ہے کہ قاسم معرفت کے کس مقام پر فائز تھے۔
چنانچہ جب موت کے تئیں حسین(ع) نے قاسم کا اشتیاق ملاحظہ فرمایا تو کہا:قاسم! تمہیں موت کا اس قدر اشتیاق کیوں؟ تمہیں موت کیا لگتی ہے؟ جواب دیا:’’احلی من العسل‘‘۔چچا شہد سے زیادہ مٹھی شئی ہے۔
قارئین کرام! ظاہر میں تو اس کی عمر تیرا برس ہے۔ابھی یہ جوانی کے دہلیز پہ بھی نہیں پہونچا لیکن جب معرفت کی بات ہوتی ہے اور شہداء بنی ہاشم میں مرتبہ کی گفتگو ہوتی ہے تو عباس و علی اکبر(ع) کے بعد قاسم کا ہی نام آتا ہے۔
اس نوجوان کی زندگی آج ہمارے جوانوں کے لئے آئیڈیل ہونا چاہیئے نمونہ ہونا چاہیئے۔ جوانوں سے قاسم کی جوانی پکار پکار کر کہہ رہی ہے کہ اے جوانوں! تمہیں ادھر ادھر بھٹکنے کی ضرورت نہیں ہے۔ تمہیں اپنے آئیڈیل فضول اور واہیات شخصیات میں تلاش کرنے کی ضرورت نہیں ہے۔بلکہ زندگی معرفت سے عبارت ہے جتنی تمہیں اپنے امام کی معرفت ہوگی اتنی تمہاری زندگی کامیاب ہوگی اگر امام کی معرفت نہیں تو پھر سب کچھ ہونے کے بعد بھی تمہارا ہاتھ خالی ہے۔چونکہ معرفت ہی وہ دولت ہے جس پر یقین کی عمارت تیار ہوتی ہے اور جہاں یقین نہ ہو وہاں اضطراب ہوتا ہے اور اضطراب میں کوئی جوان ترقی نہیں کرسکتا اور جب کسی قوم کے جوان ترقی نہیں کریں گے وہ قوم آگے نہیں بڑھ سکتی۔

۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
حوالہ جات:
1۔ابوالفرج اصفهانی، علی بن حسین، مقاتل الطالبیین، ص ۵۷-۵۸۔
شریف قریشی، باقر، حیاة الامام الحسن بن علی علیهما السلام دراسة وتحلیل، ج ۲، ص ۴۶۰۔سماوی، محمد بن طاهر، ابصار العین فی انصار الحسین علیه‌السلام، ص ۷۲۔موسوی زنجانی، ابراهیم، وسيلة الدارين، ص ۲۵۳۔
2۔موسوی زنجانی، ابراهیم، وسيلة الدارين، ص ۲۵۳۔
3۔سید بن طاووس، اللهوف، ۱۴۱۴ق، ص۶۸–۶۹۔


0
شیئر کیجئے:
फॉलो अस
नवीनतम