Code : 421 13 Hit

ری کا مسافر

حضرت عبدالعظیم حسنی(ع) کی عظمت اور مقام و منزلت باطنی کی ایک واضح دلیل یہ ہے کہ روایات میں آپ کی زیارت کے ثواب کو امام حسین علیہ السلام کی زیارت کے مساوی قرار دیا گیا ہے۔

ولایت پورٹل: قارئین کرام! آپ نے حضرت عبد العظیم حسنی علیہ السلام کا نام تو سنا ہی ہوگا اور آپ میں سے بہت سے لوگوں نے یقنیاً سید بزرگوار کی زیارت بھی کی ہوگی۔آپ کا نام نامی سید عبد العظیم ابن عبد اللہ بن علی ہے اور آپ کا شجرہ نسب 4 واسطوں سے امام حسن مجتبٰی علیہ السلام تک پہونچتا ہے۔
سید عبد العظیم علیہ السلام اپنے زمانہ کے عظیم دانشور اور محدث تھے اور اہل بیت عصمت و طہارت(ع) کی نظر میں ان کا ایک خاص احترام تھا۔اگرچہ آپ کے دور میں خلفاء بنی عباس کا منحوس سایہ امت مسلمہ کا پیچھا چھوڑنے کو تیار نہ تھا اور خاص طور پر شیعوں کے لئے یہ زمانہ نہایت سختی،بے چینی اور بد امنی کا زمانہ تھا لیکن دین کے مدافعین اور مکتب تشیع کے محافظوں  نے اپنی جان کی پروا کئے بغیر آئمہ علیہم السلام کی تعلیمات کے حصول اور ان کے نشر کرنے میں کسی مصیبت کو گلے لگانے سے دریغ نہ کیا چنانچہ سید العظیم حسنی(ع) کا شمار بھی تعلیمات محمد و آل محمد(ص) کی عام کرنے والے ان مجاہدین میں ہوتا ہے جو عقیدہ حقہ کے مورچہ پر ہمہ وقت علم و حکمت و تدبر کے اسلحہ سے مزین تعینات رہتے تھے اور خود آئمہ(ع) کا ان کی تمجید و تعریف بیان کرنا ان کی عظمت کے لئے کافی ہے۔
سید کی ولادت و وفات
حضرت عبدالعظیم حسنی علیہ السلام کی ولادت و وفات کی تاریخ کے متعلق روایات میں شدید اختلاف پایا جاتا ہے لیکن کچھ تاریخوں میں بیان ہوا ہے کہ آپ 4 ربیع الثانی سن 173 ہجری کو ہارون رشید کے زمانے میں اس گھر میں پیدا ہوئے جو آپ کے والد ماجد کو آپ کے جد نامدار امام حسن مجتبٰی علیہ السلام سے بطور میراث ملا تھا۔ اور 79 سال 6 مہینہ 11 دن کی عمر گذار کر 15 شوال سن 253 ہجری کو ایران کے مشہور شہر ’’ری‘‘ میں وفات پائی اور وہیں دفن ہوئے۔اور وہ عباسی خلیفہ معتز باللہ کا زمانہ تھا۔( مجموعه مقالات کنگره بزرگداشت حضرت عبدالعظیم علیه السّلام: ج 3، ص 181- 185)
عبدالعظیم(ع) کا آئمہ(ع) کی بارگاہ میں شرفیاب ہونا
حضرت عبدالعظیم حسنی علیہ السلام نے آئمہ معصومین (ع) میں سے 5 معصوموں کا زمانہ درک کیا ہے یعنی امام کاظم علیہ السلام سے امام حسن عسکری علیہم السلام تک،البتہ اس کا مطلب یہ نہیں ہے کہ آپ نے سب سے ملاقات بھی کی ہو۔
لیکن جو چیز قطعی اور مسلّم ہے وہ یہ کہ آپ امام جواد اور امام ہادی علیہما السلام کی خدمت میں رہے اور بہت سی روایات نقل کی ہیں اور اگر شیخ مفید کی کتاب الاختصاص پر اعتماد کریں تو یہ بات کہی جاسکتی ہے کہ سید نے امام رضا علیہ السلام کے محضر میں بھی شرف حضور پایا ہے اور آپ سے بھی روایات نقل کی ہیں۔البتہ اس روایت میں یہ احتمال بھی پایا جاتا ہے کہ اس میں’’ابوالحسن‘‘ سے مراد امام رضا نہ ہو بلکہ علی نقی علیہ السلام ہی ہوں چونکہ آپ کی کنیت بھی آپ کے جد امام رضا علیہ السلام کی طرح ابوالحسن ہی تھی۔(معجم رجال الحدیث: ج 10ص 49 ش 6580)
سید کی معنوی عظمت
حضرت عبدالعظیم حسنی(ع) کی عظمت اور مقام و منزلت باطنی کی ایک واضح دلیل یہ ہے کہ روایات میں آپ کی زیارت کے ثواب کو امام حسین علیہ السلام کی زیارت کے مساوی قرار دیا گیا ہے۔
ری کی طرف  ہجرت
تاریخ میں حضرت عبد العظیم حسنی(ع) کی ری کی طرف ہجرت کرنے کے سلسلہ میں خاص اسباب و علل کا تذکرہ تو نہیں ملتا لیکن یہ کہا جاسکتا ہے کہ چونکہ بنی عباس اہل بیت اطہار(ع) سے خاص عناد رکھتے تھے اور دوسری طرف سید ایک عظیم علمی و جہادی شخصیت تھے اس وجہ سے حکومت وقت کی کڑی نگرانی میں ہونگے لہذا آپ نے ایران کے اس خطہ(ری) کا انتخاب خود امام علی نقی علیہ السلام کے حکم سے کیا ہو،لہذا آپ نے اپنی عمر کے آخری دور میں نشر افکار آل محمد(ع) کی خاطر اپنے وطن سے ہجرت کی اور آپ نے ایک قاصد کا لباس پہنا اور بہت سے شہروں کو چھوڑتے ہوئے آخرکار ایران کے شہر(ری) پہونچ گئے اور زندگی کے آخری لمحات تک یہیں رہے۔( شناخت نامه حضرت عبدالعظیم حسنی علیه السّلام و شهرری / مجموعه رساله های خطّی و سنگی: ص 21)
آپ نے ری پہونچ کر ایک مؤمن کہ جس کا نام تاریخ میں ’’سربان‘‘ ملتا ہے کے یہاں قیام کیا،آپ کا معمول یہ تھا کہ آپ دنوں کو روزہ رکھتے اور راتوں کو عبادت کیا کرتے تھے اور کبھی کبھی جس گھر میں رہتے تھے مخفی طور پر اس قبر کی زیارت کے لئے نکل پڑتے تھے جو آج بھی آپ کے روضہ کے سامنے ہے۔اس قبر کے سلسلہ سے بیان کیا جاتا ہے کہ یہ قبر،حضرت موسٰی ابن جعفر علیہ السلام کی اولاد میں سے کسی کی ہے۔
دوسری اہم بات یہ کہ تاریخ میں یہ بھی دقیق طور پر نہیں ملتا کہ جناب عبد العظیم (ع) کتنے دن شہر ری میں سکونت پذیر رہے لیکن تنا بہر حال طئے ہے کہ سید کا قیام اتنی مدت مدید رہا کہ شہر کے اکثر لوگ آپ سے واقف ہوگئے تھے۔( رجال النجاشی: ج2 ص67 ش651)
سبب وفات
حضرت عبد العظیم(ع) کی وفات کے متعلق بھی علماء ایک رائے پر متفق نہیں ہیں چنانچہ اگر نجاشی اور صاحب بن عبّاد کے اقوال پر اعتبار کریں تو ان دونوں بزرگوں کا کہنا ہے کہ سید نے اپنی طبیعی موت سے وفات پائی ہے۔( رجال النجاشی: ج2 ص67 ش651، ،مجموعه رساله های خطّی و سنگی: ص22(رسالة فی فضل عبدالعظیم علیه السّلام ، صاحب بن عبّاد )
چنانچہ جب غسل دینے کے لئے آپ کا لباس اتارا گیا تو اس میں سے ایک رقعہ نکلا جس پر آپ کا پورا شجرہ لکھا ہوا تھا۔
لیکن کتاب ’’ الشجرة المبارکة‘‘ میں آپ کی وفات کے متعلق آیا ہے:’’ و قتل بالری و مشهده بها معروف و مشهور‘‘۔(الشجرة المبارکة، فخر رازی ،ص64)حضرت عبد العظیم کو ری میں قتل کردیا گیا اور آپ کی قبر وہاں بہت مشہور و معروف ہے۔
نیز کتاب’’ المنتخب طریحی‘‘میں یہ عبارت منقول ہے:’’ قیل: و ممن دفن حیا من الطالبین عبدالعظیم الحسنی بالری‘‘۔(المنتخب، طریحی: ص 7) جو لوگ اولاد علی بن ابی طالب میں سے زندہ در گور ہوئے ان میں ایک عبدالعظیم حسنی بھی ہیں جنہیں ایران کے شہر ری میں دفن کردیا گیا۔
اسی طرح ایک دوسری کتاب’’ مشجّرات ابن معیه‘‘ میں آپ کی شہادت  کو زہر سے بتلایا گیا ہے۔( شناخت نامه حضرت عبدالعظیم حسنی علیه السّلام و شهرری / مجموعه کتاب ها و رساله ها: ص141)۔
مذکورہ اقوال میں اختلاف کی بنا پر اگرچہ ہمارے پاس آپ کے شہید ہونے کے قطعی دلائل تو نہیں ہیں لیکن آپ کے شہید نہ ہونے کے لئے بھی مستحکم دلائل ہماری دسترس میں نہیں ہیں۔لہذا جتنا احتمال یہ پایا جاتا ہے کہ آپ کی موت طبیعی طور پر واقع ہوئی ہے اتنا ہی یہ اندیشہ بھی ہے کہ آپ کو شہید کیا گیا۔
آپ کا مدفن
صاحب بن عباد کی نقل کردہ روایت کی بنیاد پر حضرت عبد العظیم(ع) کی شب وفات ری کے ایک شیعہ نے عالم خواب میں سرکار ختمی مرتبت(ص) کی زیارت کی ،آپ نے فرمایا:’’کل میرے ایک بیٹے کو ’’سکۃ الموالی‘‘ (ایک محلہ کا نام) میں لایا جائے گا اور عبد الجبار بن عبد الوہاب کے باغ میں فلاں سیب کے پیڑ کے نزدیک دفن کیا جائے گا۔وہ شخص صبح اٹھا اور اس باغ کے مالک کے پاس گیا تاکہ اس جگہ کو اس سے خرید سکے ،باغ کے مالک نے دریافت کیا کہ تم یہ جگہ کیوں خریدنا چاہتے ہو؟اس نے اپنے خواب کا حال کہہ سنایا،باغ کے مالک نے کہا: میں نے بھی رات کچھ ایسا ہی خواب دیکھا ہے، لہذا میں اس پورے باغ کو سادات کرام اور شیعیان علی(ع) کے لئے قبرستان کے طور پر وقف کرتا ہوں۔( مجموعه رساله های خطّی و سنگی: ص22 ،رسالة فی فضل عبدالعظیم علیه السّلام، صاحب بن عبّاد)

0
شیئر کیجئے:
फॉलो अस
नवीनतम