Code : 453 56 Hit

رسول اللہ(ص) کی حدیث کی روشنی میں سب سے بڑا دیوانہ کون؟

ایک روایت میں سرکار ختمی مرتبت(ص) سے اس طرح وارد ہوا ہے کہ آپ نے ایک شخص کو دیکھا جو اٹپٹی حرکتیں کررہا تھا آپ نے اس کے اطراف والوں سے پوچھا:اس کو کیا ہوا؟عرض کیا گیا: یہ دیوانہ ہے۔آپ نے فرمایا:یہ دیوانہ نہیں ہے بلکہ ایک بیمار ہے،حقیقی دیوانہ تو وہ ہے کہ جو دنیا کو آخرت پر ترجیح دے۔

ولایت پورٹل: ایک دن پیغمبر اکرم(ص) شہر مدینہ کے ایک کوچہ سے گذر رہے تھے تو آپ نے دیکھا کہ ایک جگہ لوگوں کی بھیڑ اکھٹا ہے حضرت نے دریافت فرمایا:یہ لوگ یہاں کیوں جمع ہیں؟ کوئی خاص بات تو نہیں؟
عرض کیا گیا:یا رسول اللہ (ص) یہ ایک دیوانہ اور پاگل آدمی ہے جس کی حرکتوں کو دیکھ لوگ ہنس رہے ہیں۔
آپ نے لوگوں کو اپنی طرف متوجہ کیا اور فرمایا:وہ مریض ہے پاگل نہیں ہے،کیا میں تمہارے سامنے حقیقی و اصلی دیوانے کا تعارف کرواؤں؟
عرض کیا گیا ہاں کیوں نہیں! فرمایا:’’ إنّ المَجنونَ حَقَّ المَجنونِ المُتَبَختِرُ فی مِشیَتِهِ، النّاظِرُ فی عِطفَیهِ، المُحَرِّكُ جَنبَیهِ بمَنكِبَیهِ، یَتَمَنّى علَى اللّهِ جَنَّتَهُ و هُو یَعصیهِ، الذی لا یُؤمَنُ شَرُّهُ و لا یُرجى خَیرُهُ فذلكَ المَجنونُ و هذا المُبتَلى‘‘۔ (الخصال، ص 332)
بے شک حقیقی مجنون وہ ہے کہ جو تکبر و غرور کے ساتھ راستہ چلے،تکبر کے عالم میں اپنے دائیں بائیں دیکھے،اور اپنے پہلؤوں کو اپنے شانوں کے ذریعہ حرکت دے،خدا کی نافرمانی کرے اور ساتھ ساتھ اس کی جنت کی بھی تمنا رکھے،کوئی بھی اس کے شر سے محفوظ نہ ہو اور اس سے کسی کو بھلائی کی امید نہ ہو پس اصلی و حقیقی دیوانہ وہ ہے اور جسے تم لوگ دیکھ رہے ہو وہ ایک بیمار شخص ہے۔
جبکہ ایک روایت میں سرکار ختمی مرتبت(ص) سے اس طرح وارد ہوا ہے کہ آپ نے ایک شخص کو دیکھا جو اٹپٹی حرکتیں کررہا تھا آپ نے اس کے اطراف والوں سے پوچھا:
اس کو کیا ہوا؟
عرض کیا گیا: یہ دیوانہ ہے۔
آپ نے فرمایا:یہ دیوانہ نہیں ہے بلکہ ایک بیمار ہے،حقیقی دیوانہ تو وہ ہے کہ جو دنیا کو آخرت پر ترجیح دے۔( مشکاة الأنوار (طبرسی) ص ۵۷۱)
اگر ہم رسول خدا(ص) کے بیان کردہ ان معیاروں کو دیکھیں تو ایسا لگتا ہے آپ(ص) نے یہ کلمات آج ہی، ہمارے لئے فرمائے ہیں اور ہمارے زمانے کے لوگوں کو ہی حضرت نے حقیقی دیوانہ کہا ہے۔چنانچہ ہمارے زمانے کے کچھ لوگ اس طرح غرور و تکبر  سے راستہ چلتے ہیں کہ گویا یہ ابھی مستقیم ہاتھی کے دماغ سے گریں ہیں اور یہ آدمی نہیں بلکہ کوئی الگ مخلوق ہیں اور اگر حقیقت میں دیکھا جائے ان کی انسانیت کا قد اور وزن بہت کم ہیں بلکہ یہ غبارے کی طرح پھولے ہوئے ہیں۔
اب سوال یہ ہوتا ہے کہ کیوں لوگ دیوانوں کی حرکات و سکنات کو دیکھ کر ہنستے ہیں؟یقیناً ایسے لوگوں کے حرکات و سکنات پر ہنسنے کا سبب یہ ہوتا ہے کہ ان کے کام حقیقت کے برخلاف ہوتے ہیں اور ان کے کاموں کی کوئی معقول وجہ نہیں ہوتی، پس مکتبر و مغرور آدمی کے کام بھی اسی وجہ سے ہنسی کے لائق ہوتے ہیں چونکہ ان کی کوئی معقول وجہ نہیں ہوتی۔
واقعاً کیا عبرت کے لئے یہ کافی نہیں ہے کہ ایک مخلوق نے مسلسل ۶ ہزار سال تک عبادت کی لیکن اپنے غرور و تکبر  کے سبب اوج بندگی سے کفر کی پستی میں گر گیا۔ چنانچہ قرآن مجید میں ارشاد ہوتا ہے:جب اللہ تعالٰی نے حکم دیا کہ آدم کو سجدہ کرو۔سب سجدے میں گر گئے سوائے ابلیس کے، اس نے انکار کیا اور تکبر کیا(اور اپنی نافرمانی اور تکبر کے سبب) کافروں میں سے ہوگیا۔(سورہ بقرہ:۳۴)
یہ تکبر کتنا برا گناہ ہے کہ اس کے سبب بندہ سرحد کفر تک پہونچ جاتا ہے پس اس وجہ سے اس اخلاقی رذیلت سے ڈرنا چاہیئے اور عقلمندی سے کام کرنا چاہیئے۔
امام علی علیہ السلام نے فرمایا:’’تکبر سے پرہیز کرو چونکہ یہ ایک بڑا گناہ،سب سے برا عیب اور ابلیس کا زیور ہے‘‘۔(غرر الحکم:۲۶۵۳)


 


0
شیئر کیجئے:
फॉलो अस
नवीनतम