Code : 462 44 Hit

فطری دین

فطرت کا مطلب یہ ہے کہ انسان بعض حقائق کو بغیر کسی استدلال اور برہان کے حاصل کرلیتا ہے، چاہے وہ پیچیدہ اور مشکل استدلال ہو اور چاہے واضح اور روشن استدلال ہوں ، اور وہ حقائق اس پر واضح و روشن ہوتے ہیں ان کو وہ قبول کرلیتا ہے، مثلاً انسان کسی خوبصورت اور خوشبو دار پھول کو دیکھتا ہے تو اس کی ”خوبصورتی“ کا اعتراف کرتا ہے اور اس اعتراف کے سلسلہ میں کسی بھی استدلال کی ضرورت نہیں ہوتی، انسان اس موقع پر کہتا ہے کہ یہ بات واضح اور ظاہر ہے کہ یہ خوبصورت ہے، اس میں کسی دلیل کی ضرورت نہیں ہے۔

ولایت پورٹل: فطرت کا مطلب یہ ہے کہ انسان بعض حقائق کو بغیر کسی استدلال اور برہان کے حاصل کرلیتا ہے، چاہے وہ پیچیدہ اور مشکل استدلال ہو اور چاہے واضح اور روشن استدلال ہوں ، اور وہ حقائق اس پر واضح و روشن ہوتے ہیں ان کو وہ قبول کرلیتا ہے، مثلاً انسان کسی خوبصورت اور خوشبو دار پھول کو دیکھتا ہے تو اس کی ”خوبصورتی“ کا اعتراف کرتا ہے اور اس اعتراف کے سلسلہ میں کسی بھی استدلال کی ضرورت نہیں ہوتی، انسان اس موقع پر کہتا ہے کہ یہ بات واضح اور ظاہر ہے کہ یہ خوبصورت ہے، اس میں کسی دلیل کی ضرورت نہیں ہے۔

خدا کی شناخت اور معرفت کے سلسلہ میں بھی فطرت کاکردار یہی ہے جس وقت انسان اپنے دل و دماغ میں جھانکتا ہے تو اس کو ”نور حق“ دکھائی دیتا ہے، اس کے دل کو ایک آواز سنائی دیتی ہے جو اس کو اس دنیا کے خالق اور صاحب علم و قدرت کی طرف دعوت دیتی ہے، اس مبداء کی طرف بلاتی ہے جو ”کمالِ مطلق“اور ”مطلقِ کمال“ ہے، اور اس درک اور احساس کے لئے اسی خوبصورت پھول کی طرح کسی دلیل کی ضرورت نہیں ہے۔

خدا پر ایمان کے فطری ہونے پر زندہ ثبوت:

ایسے شواہد موجود ہیں جن کے ذریعہ توحید خدا کو فطری طور پر ثابت کیا جا سکتا ہے اور یہ شواہد انکار کرنے والوں کا منہ توڑ جواب بھی ہیں چنانچہ ان قرائن کو چند حصوں میں تقسیم کیا جاسکتا ہے:

۱۔ تاریخی حقائق :

دنیا کے قدیم ترین مورخین نے جو تحقیق اور جستجو کی ہے، اس سے معلوم ہوتا ہے کہ ہر دور میں انسان اپنے لحاظ سے عالم ہستی کے مبدا علم و قدرت کا معتقد تھا اور اس پر ایمان رکھتا تھا اور اس کی عبادت کیا کرتا تھا، اگر یہ مان لیں کہ اس سلسلہ میں بعض اقوام مستثنیٰ تھیں تو اس سے کوئی فرق نہیں پڑتا کیونکہ وہ گنتی ہی میں نہیں ۔

”ویل ڈورانٹ“ مغربی مشہور مورخ اپنی کتاب ”تاریخ تمدن“ میں بے دینی کے بعض مقامات ذکر کرنے کے بعد اس بات کا اعتراف کرتے ہوئے کہتا ہے: ”ہمارے ذکر شدہ مطالب کے باوجود ”بے دینی“ بہت ہی کم حالات میں رہی ہے ، اور یہ قدیم عقیدہ کہ دین ایک ایسا سلسلہ ہے جس میں تقریباً سبھی افراد شامل رہے ہیں، یہ بات حقیقت پر مبنی ہے، یہ بات ایک فلسفی کی نظر میں بنیادی تاریخی اور علم نفسیات میں شمار ہوتی ہے۔

”تاریخ تمد ن ، ویل ڈورانٹ“ ، جلد اول، صفحہ ۸۷ و۸۹.

۲۔ ماہرین نفسیات کی تحقیق اور ان کے انکشافات:

انسانی روح کے بارے میں ماہرین نفسیات کا کہنا ہے کہ انسان میں چار بنیادی خواہشات اور رجحانات پائے جاتے ہیں جو احساس برتر ہونے ساتھ دیگر ذیلی احساسات کا سرچشمہ بھی ہیں ، اور وہ ہیں : دانائی، زیبائی، نیکی، اور مذہبی ۔

انسان کی حس مذہبی یا روح انسان کا چوتھا پہلو ، جس کو کبھی ”کمال مطلق سے لگاؤ“ یا ”دینی اور الٰہی لگاؤ“ بھی کہا جاتا ہے یہ وہی حس اور طاقت ہے جو انسان کو مذہب کی طرف دعوت دیتی ہے ، اور بغیر کسی خاص دلیل کے خدا پر ایمان لے آتی ہے، البتہ ممکن ہے کہ اس مذہبی ایمان میں بہت سے خرافات پائے جاتے ہوں، جس کا نتیجہ کبھی بت پرستی ، یا سورج پرستی کی شکل میں دکھائی دے، لیکن ہماری گفتگو اصلی سرچشمہ کے بارے میں ہے۔

۳۔ مذہب مخالف پروپیگنڈے کا ناکام ہوجانا

یورپ میں علمی تحریک (رنیسنس)کے زمانہ سے جب علمی اور سیاسی معاشرہ
 گرجاگھر کی حکومت کے دباؤ سے آزاد ہوا تو اس وقت اس قدر دین کے خلاف پروپیگنڈہ ہوا جس سے الحادی نظریہ پورے یورپ میں پھیل گیا ، البتہ یہ مخالفت عیسائی مذہب کے خلاف ہوئی چونکہ یہی دین وہاں پر رائج تھا ، اس سلسلہ میں فلاسفہ اور سائنس کے ماہرین سے مدد لی گئی تاکہ مذہبی بنیاد کو کھوکھلا کردیا جائے، یہاں تک کہ گرجاگھر کی رونق جاتی رہی، اور یورپ کے مذہبی علما گوشہ نشین ہوگئے، یہی نہیں بلکہ خدا ، معجزہ، آسمانی کتاب اور روز قیامت پر ایمان کا شمار خرافات میں کیا جانے لگا، اور بشریت کے چار زمانہ والا فرضیہ ( قصہ و کہانی کا زمانہ، مذہب کا زمانہ، فلسفہ کا زمانہ اور علم کا زمانہ) بہت سے لوگوں کے نزدیک قابل قبول سمجھا جانے لگا ، اور اس تقسیم بندی کے لحاظ سے مذہب کا زمانہ بہت پہلے گزرچکا تھا!

یہ بات اپنی جگہ مسلم ہے کہ اس وقت رائج مذہب یعنی گرجا گھر نے ایک طویل مدت تک اپنے ظلم و ستم اور عالمی پیمانہ پر لوگوں کے ساتھ بے رحمانہ سلوک کیا اور خاص کرسائنسدانوں پر بہت زیادہ سختیاں کیں نیز اپنے لئے بہت زیادہ مرفہ اور آرام طلب اور دکھاوے کی زندگی کے قائل ہوئے اور غریب لوگوں کو بالکل بھول گئے لہٰذا انھیں اپنے اعمال کی سزا تو بھگتنا ہی تھی ، لیکن مشکل یہ ہے کہ یہ صرف پاپ اور گرجا کا مسئلہ نہ تھا بلکہ دنیا بھر کے تمام مذاہب کی بات تھی۔

کمیونسٹوں نے مذہب کو مٹانے کے لئے اپنی پوری طاقت صرف کردی اور تمام تر تبلیغاتی وسائل اور فلسفی نظریات کو لے کر میدان میں آئے اور اس پروپیگنڈہ کی بھر پور کوشش کی کہ ”مذہب معاشرہ کے لئے ”افیون“ ہے!

ہونا تو یہ چاہئے تھا کہ دین کا نام و نشان مٹ جاتا لیکن ہم دیکھتے ہیں کہ دین کی اس شدید مخالفت کے باوجود وہ لوگوں کے دلوں سے مذہب کی اصل کو نہیں مٹاسکے، اور مذہبی جوش و ولولہ کو نابود نہ کرسکے، اس طرح سے کہ آج ہم خود اپنی آنکھوں سے دیکھتے ہیں کہ مذہبی رجحانات پر پھر سے نکھار آرہا ہے، یہاں تک کہ خود کمیونسٹ ممالک میں بڑی تیزی سے مذہب کی باتیں ہورہی ہیں، اور میڈیا کی ہر خبر میں ان ممالک کے حکام کی پریشانی کوبیان کیا جا رہا ہے کہ وہاں پر مذہب خصوصاً اسلام کی طرف لوگوں کا رجحان روز بزور بڑھتا جارہا ہے، یہاں تک کہ خود کمیونسٹ ممالک میں کہ جہاں ابھی تک مذہب مخالف طاقتیں بیہودہ کوشش جاری رکھے ہوئے ہیں ، وہاں پر بھی مذہب پھیلتا ہوا نظرآتا ہے۔

ان مسائل کے پیش نظر یہ بات واضح ہوجاتی ہے کہ مذہب کا سرچشمہ خود انسان کی ”فطرت“ ہے، لہٰذا وہ شدید مخالفت کے باوجود بھی اپنی حفاظت کرنے پر قادر ہے، اور اگر ایسا نہ ہوتا تو مذہب کبھی کا مٹ گیا ہوتا۔

۴۔ زندگی کی مشکلات میں ذاتی تجربات:

بہت سے لوگوں نے اپنی زندگی میں تجربہ کیا ہے کہ جس وقت بہت زیادہ مشکلات کا سامنا ہوتا ہے اور بلاؤں اور مصیبتوں کا طوفان امنڈ آتا ہے جہاں پر ظاہری اسباب دم توڑدیتے ہیں، تو اس طوفانی موقع پر اس کے دل کی گہرائیوں سے ایک امید پیدا ہوتی ہے اور انسان اس مبداکی طرف متوجہ ہوتا ہے جو اس کی تمام مشکلات کو دور کرسکتا ہے، لہٰذا انسان اسی سے لَو لگاتا ہے اور اسی سے مدد مانگتا ہے، یہاں تک کہ معمولی افراد جو عام حالات میں دینی رجحان نہیں رکھتے وہ بھی مستثنی نہیں ، بلکہ ان میں بھی شدید مشکلات یا لاعلاج بیماری کے وقت اس طرح کا روحانی رجحان پایا جاتا ہے ۔

یہ تمام چیزیں اس حقیقت پر واضح شاہد ہیں کہ دین ایک فطری شئے ہے ، چنانچہ قرآن مجید نے اس سلسلہ میں بہت پہلے ہی خبر دی ہے ۔ جی ہاں انسان اپنے دل کی گہرائیوں سے اپنے اندر ایک آواز کو سنتا ہے جو محبت و شفقت سے لبریز اور واضح ومستحکم ہوتی ہے اور اس کو ایک عظیم حقیقت، یعنی عالم و قادر کی طرف دعوت دیتی ہے جس کا نام ”اللہ“ ہے ۔ ممکن ہے کوئی شخص دوسرے نام سے پکارے ، نام سے کوئی بحث نہیں ہے، بلکہ اس حقیقت پر ایمان کا مسئلہ ہے۔

۵۔ مذہب کے فطری ہونے پر دانشوروں کی گواہی

”معرفت خدا“ کے مسئلہ کا فطری ہونا کوئی ایسا مسئلہ نہیں ہے کہ جس کے بارے میں صرف قرآن و احادیث نے بیان کیا ہو ، بلکہ غیر مسلم فلاسفہ اور دانشوروں کی گفتگو سے بھی یہ مسئلہ واضح ہے۔

اس سلسلہ میں ”اینشٹائن“ کہتا ہے: بغیر کسی استثنا کے سبھی لوگوں میں ایک عقیدہ اور مذہب پایا جاتا ہے اور میں اس کا نام ”مذہب کی ضرورت کا احساس “ رکھتا ہوں چنانچہ انسان دنیوی چیزوں کے علاوہ جن چیزوں کا احساس کرتا ہے اس مذہب کے تحت انسان تمام اہداف اور عظمت و جلال کو حقیر سمجھتا ہے ، وہ اپنے وجود کو ایک قید خانہ سمجھتا ہے، گویا اپنے بدن کے پنجرے سے پرواز کرنا چاہتا ہے اور تمام ہستی کو ایک حقیقت کی شکل میں حاصل کرنا چاہتا ہے۔

دنیائی کہ من می بینم“ (باتلخیص) صفحہ ۵۳

”ماکس“ ایک جگہ اپنے عقیدہ کا اظہار کرتے ہوئے کہتا ہے: اس نظریہ کے برخلاف، جس میں کہا جاتا ہے کہ دین پہلے سورج چاند وغیرہ اور بت پرستی سے شروع ہوا ہے اس کے بعد خدائے واحد کی پرستش تک پہنچا ہے، آثار قدیمہ کے ماہرین نے اس بات کو ثابت کیا ہے کہ خدا پرستی سب سے قدیم دین ہے۔

 فطرت “شہید مطہری ، صفحہ 105

مشہور و معروف مورخ ”پلوتارک“ لکھتا ہے: اگر آپ دنیا پر ایک نظر ڈالیں تو بہت سی ایسی جگہ دیکھیں گے جہاں پر نہ کوئی آبادی ہے نہ علم و صنعت اور نہ سیاست و حکومت، لیکن کوئی جگہ ایسی نہیں ملے گی جہاں پر ”خدا“ نہ ہو۔

 مقدمہ نیایش ، صفحہ ۳۱

مشہور و معروف مورخ ”ویل ڈورانٹ“ کہتا ہے: اگر ہم مذہب کے سرچشمہ کو ماقبل تاریخ نہ مانیں تو پھر مذہب کو صحیح طور پر نہیں پہچان سکتے ۔

تاریخ تمدن ، جلد اول، صفحہ ۸۸.

0
شیئر کیجئے:
फॉलो अस
नवीनतम