Code : 671 5 Hit

دنیا میں سالانہ ایک لاکھ بچے جنگ کی وجہ سے ہلاک ہوتے ہیں:عالمی تنظیم سیو دی چلڈرن

عالمی تنظیم ’سیو دی چلڈرن‘ کے مطابق جنگ سے سب زیادہ متاثر ہونے والے دنیا کے 10 ممالک میں 2013 سے 2017 کے دوران تقریباً 5 لاکھ 50 ہزار نومولود بچوں کی ہلاکت ہوئی،جن کی وجہ جنگ اور اس کے اثرات ہیں۔

ولایت پورٹل:فرانسیسی خبررساں ایجنسی رپورٹ کے مطابق   دنیا بھر میں ہر سال عسکری تنازعات کے سبب اور ان تنازعات کے نتیجے میں امداد کی رسائی نہ ہونے کے باعث ایک لاکھ بچے ہلاک ہوجاتے ہیں،بچوں کے حقوق کے لیے کام کرنے والی عالمی تنظیم ’سیو دی چلڈرن‘ کے مطابق جنگ سے سب زیادہ متاثر ہونے والے دنیا کے 10 ممالک میں 2013 سے 2017 کے دوران تقریباً 5 لاکھ 50 ہزار نومولود بچوں کی ہلاکت ہوئی،ان اموات کی وجہ جنگ اور اس کے اثرات، جن میں بھوک، ہسپتالوں اور انفرا اسٹرکچر کی تباہی، امداد نہ پہنچنا، صحت کی سہولیات تک رسائی اور صفائی کا نہ ہونا شامل ہیں،اس کے علاوہ بچوں کو عسکری گروہوں میں بھرتی کیے جانے، اغوا، جنسی استحصال، معذوری اور قتل ہوجانے کے خطرات بھی لاحق ہوتے ہیں، تنظیم کی چیف ایگزیکٹو آفیسر ہیلے تھورننگ نے ایک بیان میں کہا کہ بچوں کی ہلاکتوں اور معذور ہونے کی تعداد 3 گنا ہے اور جنگ میں امداد کا بطور ہتھیار استعمال خطرناک حد تک بڑھ رہا ہے،سیو دی چلڈرن کا کہنا تھا کہ اوسلو میں قائم پیس ریسرچ انسٹیٹیوٹ میں کی جانے والی تحقیق کے نتیجے میں یہ بات سامنے آئی کہ سال 2017 میں جنگ زدہ علاقوں میں 42 کروڑ بچے موجود تھے،جو دنیا میں بچوں کی کل تعداد کا 18 فیصد ہیں جبکہ 2016 کے مقابلے میں اس تعداد میں 3 کروڑ کا اضافہ دیکھا گیا تھا،جنگ سے متاثر ہونے والے ان ممالک میں افغانستان، سینٹرل افریقن ریپبلک، ڈیموکریٹک ریپبلک آف کانگو، عراق، مالی، نائیجیریا، صومالیہ، جنوبی سوڈان، شام اور یمن شامل ہیں۔
مہر


0
شیئر کیجئے:
फॉलो अस
नवीनतम