Code : 960 46 Hit

داعش کے جرائم کی دستاویزات تیار ہونا چاہیے:آیت اللہ سیستانی

جب داعش نے عراق کے ایک بڑے حصہ کو اپنے قبضہ میں لے لیا تھا یہاں تک کہ دارالحکومت بغداد کے نزدیک پہنچ گئے تھے تو آیت اللہ سید علی سیستانی نے دفاع کے واجب کفائی ہونے کو فتوای صادر کیا جس کے بعد جنگ کا نقشہ ہی بدل گیا اور عراق تباہ ہونے سے بچ گیا۔

ولایت پورٹل:مرجع عالی قدر آیت اللہ العظمیٰ سید علی سیستانی  کے نمائندے عبد المہدی الکربلائی  نے نجف اشرف سے داعش سے متعلق آیت اللہ سیستانی کی تجاویزات پیش کرتے ہوئے کہا ہے کہ مرجع عالی قدر کا کہنا ہے کہ داعش کے جرائم کی ڈاکیومنٹری تیار کر اس کو اندون ملک اور بین الاقوامی حلقوں تک پہنچانا چاہیے نیزملکی اداروں میں اس کو محفوظ کرنا چاہیے،عبد المہدی نے مزید کہا کہ عراقی فوج اور عوامی رضاکاروں نے اپنے ایمانی جذبہ کے ساتھ اس دہشتگرد تنظیم کا مقابلہ کیا اور حق اور انصاف پسند ہونے کی وجہ سے انھیں کامیابی ملی اس لیے کہ وہ صلح ومحبت کا سرچشمہ ہیں،انھوں نے مزید کہا کہ عرقیوں نے صرف اپنے ملک کے جنگ نہیں لڑی بلکہ انھوں نے داعش کا مقابلہ کرکے بیرونی حتی یورپی ممالک کی بھی مدد کی ہے لہذا دہشتگردوں کے جنگی جرائم کو دستاویزاتی شکل میں تیار کرکے محفوظ کرلینا چاہیے تاکہ ان میں تحریف نہ ہوسکے،آیت اللہ کے نمائندہ کا کہناتھا کہ جب داعش نے عراق کے ایک بڑے حصہ کو اپنے قبضہ میں لے لیا تھا یہاں تک کہ دارالحکومت بغداد کے نزدیک پہنچ گئے تھے اور عراقی فوج کے لیے اکیلےان کا مقابلہ کرنا بہت مشکل تھا تو آیت اللہ سید علی سیستانی نے دفاع کے واجب کفائی ہونے کو فتوای صادر کیا  جس کے بعد جنگ کا نقشہ ہی بدل گیا اور عراق تباہ ہونے سے بچ گیا،اس جنگ میں عراقیوں اپنی جان ،مال عزت ،آبرو سب کچھ داؤ پر لگادیا لیکن اپنے ملک کی حفاظت کی،عبد المہدی کا مزید کہنا تھا  اب ہمارا جہاد عراق کی بازآباد کاری کا ہوگا اس لیے کہ عراقی عوام لائق تحسین ہیں۔



0
شیئر کیجئے:
फॉलो अस
नवीनतम