Code : 585 36 Hit

خوشگوار زندگی کے 3 اہم قرآنی اصول

چونکہ عقل و منطق کی رو سے بھی بد کلامی کا جواب بدکلامی نہیں ہوتا،بے احترامی سے کا جواب بے احترامی نہیں ہوتا۔بس آپ یہ بھول جائیں کے فلاں نے آپ کے ساتھ بد کلامی کی تھی چونکہ اس کینہ و حسد کے غم و غبار سے آپ کا بوجھ ہلکہ ہونے والا نہیں ہے۔آپ اپنی زندگی کو کسی اہم مقصد کے حصول کے لئے لگادیں اور اس کے لئے بھر پور کوشش سے دریغ بھی نہ کیجئے اور آپ کا سب سے اہم مقصد، اپنے رب کی رضا ہو۔

ولایت پورٹل: خوش رہنا اور پر نشاط زندگی بسر کرنا اللہ تعالٰی کی انسان پر بہت بڑی نعمت ہے لہذا جو شخص اپنی زندگی میں خوش رہے سمجھئے اس کے پاس اللہ کی عطا کردہ بہت سی نعمات ہیں جن پر وہ اللہ کی بارگاہ میں شکر گذار بھی ہے۔
ہر دور میں انسان کی یہ کوشش رہی ہے کہ اس کی زندگی خوش و خرم گذرے اس کے آنگن میں سکون کا بسیرا ہو لہذا قرآنی تعبیر کے مطابق ایسی زندگی کو حیات طیبہ یعنی پاکیزہ حیات کہا گیا ہے۔
جبکہ اس عالم مادہ میں ہر پہلو سے خوشی میسر آجائے یہ تو ممکن ہی نہیں اور شاید یہ دنیا کا سب سے بڑا فریب ہو کہ سو فیصدی خوشی میسر آجائے۔کبھی کبھی انسان خوشی حاصل کرنے کے لئے اور خرم رہنے کے لئے غلط راستوں کا راہی ہوجاتا ہے اور اس کیفیت کو کمیت کے گھڑوں میں تلاش کرتا ہے اگرچہ مال کی فراوانی سے زندگی میں کچھ سکون میسر آسکتا ہے لیکن مال کی توسیع کبھی خوشیوں کی ضمانت نہیں ہوتی۔
اگر مذکورہ امر پر توجہ کی جائے تو ہمیں نظر آئے گا کہ آج ہمارے یہاں وسائل و امکانات کی بھرمار ہے لیکن ہماری آنکھوں سے خوشیوں کے نظارے محو ہوچکے ہیں۔
لہذا اس مہیب اور گھٹا ٹوپ  اندھیرے میں اسلام نے انسان کے سامنے حقیقی خوشیوں کے روشن مناظر خلق کئے ہیں چنانچہ قرآن مجید کے تمام احکام ،اوامر اور اخلاقیات کا مقصد ہی یہ ہے کہ اس مجہول الحال انسان کی دید کا منظر بدل جائے اور جو چیزیں اس کی زندگی میں اسے نقصان اور گھاٹا پہونچا سکتی ہیں ان سے اسے روکا اور منع کیاجائے چونکہ حرام کام انسان کے جسم و روح دونوں کو مجروح اور بیمار کرتے ہیں۔
اب آپ خود ہی فیصلہ کیجئے کہ کیا کوئی صعب العلاج بیماری میں مبتلاء  زندگی سے لطف اندوز ہوسکتا ہے؟ لہذا اسلام کی پوری توجہ اس بات پر ہے کہ ایک انسان کے سامنے ایک ایسی زندگی کا تصور پیش کیا جائے کہ اسے دنیا میں بھی لذت حیات ملے اور آخرت میں سعادت نصیب ہو  ظاہر ہے ایسی زندگی علم و معرفت کے بغیر ممکن نہیں ہے کہ جس کے ساتھ ساتھ عمل کے میدان میں بھی انسان کے قدم نہ ڈگمگائے۔ چنانچہ قرآن مجید نے خوشگوار زندگی کی نہایت ہی مختصر اور سادہ اصولوں سے انسان کو متعارف کروایا ہے:
پہلا اصول: رحمت خدا سے وابستگی
آپ اپنی خوشیوں کو کسی ایسے کے دامن کرم میں تلاش مت کیجئے جو ہمیشہ آپ کی دسترس میں نہ رہے چنانچہ جب ہم لوگ اپنی زندگی کو مادی لذات سے لطف اندوز ہونے میں محدود کرلیتے ہیں تو ظاہر ہے جب یہ نعمات و لذتیں ختم ہوجاتی ہیں تو ہم رنجیدہ و غم زدہ ہوجاتے ہیں لہذا اپنی خوشیوں کو ایک ایسی قدرت لایزال سے وابستہ کیجئے کہ جس کی ذات ہمیشہ رہنے والی ہے اور اس کے یہاں کمال ہی کمال ہے اور جہاں  نقص کی گنجائش نہ ہو:’’ قُلْ بِفَضْلِ اللّهِ وَبِرَحْمَتِهِ فَبِذَلِکَ فَلْیَفْرَحُواْ هُوَ خَیْرٌ مِّمَّا یَجْمَعُونَ‘‘۔(یونس:58)
اے پیغمبر! کہہ دیجئے کہ یہ قرآن فضل و رحم خدا کا نتیجہ ہے لہٰذا انہیں اس پر خوش ہونا چاہئے کہ یہ ان کے جمع کئے ہوئے اموال سے کہیں زیادہ بہتر ہے۔
اس آئیہ کریمہ کے تناظر میں زندگی کی خوشیوں کو رحمت خدا سے وابستہ ہونے کو اس طرح بیان کیا گیا ہے کہ تمام خیر و خوبیاں اللہ تعالٰی کے وجود میں جمع ہیں اور اس کی ذات ہر خیر و بھلائی کا سرچشمہ ہے اور اپنے خزانہ غیب سے جسے جتنا چاہتا ہے بخش دیتا ہے۔’’ وَاللّهُ یَرْزُقُ مَن یَشَاء بِغَیْرِ حِسَابٍ‘‘۔(سورہ آل عمران:۳۷)۔ وہ جسے چاہتا ہے بے حساب  رزق عطا کردیتا ہے۔
لیکن رحمت خدا سے وابستگی صرف الفاظ اور کلمات میں محدود ہوکر نہ رہ جائے بلکہ ہمیں اس کے لئے ہر دن مشق کرنے کی ضرورت ہے جب بھی ہمیں کوئی مشکلات آن گھیرے اور کوئی غم نڈھال کردے تو اللہ کے بیکراں الطاف و مہربانیوں کا ذکر کیجئے تو پھر آپ دیکھیں گے کہ وہ کیسے گرداب حوادث سے آپ کا ہاتھ تھام کر باہر نکال دے گا۔
دوسرا اصول:مثبت نظریہ
آپ نے بارہا ایسے لوگوں کو دیکھا ہوگا کہ جو ہمیشہ زندگی کے منفی پہلوؤں کو اجاگر کرتے رہتے ہیں کبھی مال کی قلت پر نالاں ہیں تو کبھی اپنے اطرافیوں کی برتاؤ پر خفا و ناراض نظر آتے ہیں چنانچہ اسلام نے اس مسئلہ کو حل کرنے کے لئے کچھ چیزوں کو بیان کیا ہے۔
۱۔آپ کبھی زندگی میں یہ توقع نہ رکھیئے کہ جو کچھ آپ کے اطراف میں واقع ہوگا وہ  سب آپ کی منشأ  و مرضی کے مطابق ہی ہوگا اگرچہ ظاہر میں بہت سے حادثات ایسے ہوتے ہیں جو آپ کی نظر میں اچھے نہیں ہیں لیکن پروردگار عالم بہر حال حکیم و عالم ہے وہ بہتر جانتا ہے کہ کون سی چیز اس کے بندے کے لئے اچھی ہے اور شاید بہت سی وہ چیزیں جنہیں آپ پسند کرتے ہوں وہ آپ کے لئے شر ہوں اور وہ شاید وقتی طور پر تو کچھ مفید ہوجائیں لیکن مبادا آپ کے دین کو ہی برباد نہ کردیں چنانچہ ارشاد ہوتا ہے:’’ وَ عَسَى أَن تَکْرَهُواْ شَیْئًا وَهُوَ خَیْرٌ لَّکُمْ وَعَسَى أَن تُحِبُّواْ شَیْئًا وَهُوَ شَرٌّ لَّکُمْ وَاللّهُ یَعْلَمُ وَأَنتُمْ لاَ تَعْلَمُونَ‘‘۔(سورہ بقرہ:۲۱۶) اور یہ ممکن ہے کہ جسے تم برا سمجھتے ہو وہ تمہارے حق میں بہتر ہو اور جسے تم دوست رکھتے ہو وہ بری ہوں  خدا سب کو جانتا ہے اور تم نہیں جانتے ہو۔
پس زندگی کے تلخ حادثات سے کبیدہ خاطر اور رنجیدہ ہونے کی ضرورت نہیں ہے چونکہ یہ منفی سوچ آپ کے جسم کے ساتھ ساتھ روح کو بھی نقصان پہونچاتی ہے۔
بس آپ اپنی طاقت کے اعتبار سے کوشش کیجئے اور نتیجہ کار کو خدائے حکیم کی حکمت پر چھوڑ دیجئے۔آپ یہ مشق کیجئے کہ کیسے مثبت سوچا جاتا ہے چنانچہ آپ بد بینی اور منفی دید کے چشمے کو آنکھوں سے ہٹا دیجئے اپنے وجود میں موجود خوبیوں اور اللہ کی بیکراں نعمتوں کو دیکھئے اور ان سب کے مقابل اس کا شکر ادا کیجئے۔
تیسرا اصول:دوسروں سے روابط استوار رکھنا
اس دنیا میں انسان کے روابط 4 جہات میں خلاصہ ہوتے ہیں:
۱۔بندے کا اللہ سے رابطہ
۲۔انسان کا اپنی ذات سے رابطہ
۳۔ایک انسان کا دوسرے انسان سے رابطہ
۴۔طبیعت میں موجود اشیاء سے رابطہ
اس میں پہلا رابطہ یعنی بندے کا خدا کے ساتھ رابطہ؛ اگرچہ ابتداء میں بہت سخت لگتا ہے لیکن جب انسان مشق اور پریکٹس کے ذریعہ اس مرحلہ پر پہونچ جاتا ہے اسے خاص قسم کا سکون میسر آتا ہے کہ جس کا اندازہ صرف وہ کر سکتے ہیں جو خود اس مرحلہ میں ہوں۔
دوسری اہم بات یہ کہ اللہ سے جتنا انسان کا رابطہ قوی ہوگا وہ آپ کے اندر ایک ایسی طاقت ایجاد کردے گا کہ جس کے بعد آپ کو کسی بھی طاقت پر بھروسہ و وابستگی کی ضرورت ہی  محسوس نہیں ہوگی۔ اور آپ کی یہ کوشش اور مشق آپ کے ذہن کو اللہ کی لازوال قدرت اور اس کی غیبی امداد کی طرف متوجہ کردیگی۔
ان مذکورہ بالا روابط میں سے دوسرا رابطہ یعنی انسان کا خود اپنی ذات کے ساتھ رابطہ؛چنانچہ انسان کو اس رابطہ کو بھی خاص اہمیت دینی چاہیئے اور عزت و کرامت نفس کو کسی بھی حرام یا غیر معقول چیز کے ذریعہ ہاتھ سے جانے سے روکنا اور بچانا چاہیئے۔
آپ اپنی زندگی کو کسی اہم مقصد کے حصول کے لئے لگادیں اور اس کے لئے بھر پور کوشش سے دریغ بھی نہ کیجئے اور آپ کا سب سے اہم مقصد، اپنے رب کی رضا ہو۔
اور تیسرے رابطے یعنی دوسروں کے ساتھ روابط کے سلسلہ میں یہ چیز بہت اہم کہ آپ دوسروں کو خوشیاں دینے کی فکر کیجئے اور یہ چیز اسی وقت حاصل ہوسکتی ہے کہ جب آپ اپنی خواہشوں کے سامنے سر تسلیم خم نہ کریں اور بے جا و فضول کی باتوں میں اپنی طاقت کو خرچ نہ کریں اور مکمل اطمئنان حاصل کرنے سے پہلے کسی کے بارے میں قضاوت کرنے سے پرہیز کریں۔
اگر کوئی آپ کی بے احترامی کررہا ہو تو اسے سریس نہ لیں بس آپ اس کوشش میں رہیں کے اپنے عیوب کو دور کرسکیں اور اپنی شخصیت کی نمو کے لئے کوشش کریں اس طرح کے دیگر لوگ آپ کو خوش صفت و خوش اخلاق آدمی کے طور پر پہچانیں:’’ وَعِبَادُ الرَّحْمَنِ الَّذِینَ یَمْشُونَ عَلَى الْأَرْضِ هَوْنًا وَإِذَا خَاطَبَهُمُ الْجَاهِلُونَ قَالُوا سَلَامًا‘‘۔(فرقان:63) اور اللہ کے بندے وہی ہیں جو زمین پر آہستہ چلتے ہیں اور جب جاہل ان سے خطاب کرتے ہیں توسلامتی کا پیغام دے دیتے ہیں۔
 چونکہ عقل و منطق کی رو سے بھی بد کلامی کا جواب بدکلامی نہیں ہوتا،بے احترامی سے کا جواب بے احترامی نہیں ہوتا۔بس آپ یہ بھول جائیں کے فلاں نے آپ کے ساتھ بد کلامی کی تھی چونکہ اس کینہ و حسد کے غم و غبار سے آپ کا بوجھ ہلکہ ہونے والا نہیں ہے۔


0
شیئر کیجئے:
फॉलो अस
नवीनतम