Code : 506 46 Hit

خود ساختہ معیار کے سہارے قوم نوح(ع) کا ایمان نہ لانا

یہ ٹھیک ہے کہ وہ اپنی اس بات میں سچے تھے کہ کسی پیشوا کو اس کے پیروں کاروں سے پہچانا جاتا ہے لیکن ان کی سب سے بڑی غلطی یہ تھی کہ انہوں نے شخصیت کے مفہوم اور معیار کو اچھی طرح نہیں پہچانا تھا۔ان کے نزدیک شخصیت کا معیار مال و دولت،لباس و گھر و خوبصورتی اور قمیتی سواری تھا لیکن وہ لوگ طہارت، تقویٰ، حق جوئی جیسے اعلٰی انسانی صفات سے غافل تھے جو عام طور پر غریبوں میں زیادہ اور امیروں میں کم پائے جاتے ہیں۔

ولایت پورٹل: کسی بھی رہبر اور پیشوا کی حیثیت اور اس کی قدر و قیمت اس کے پیروکاروں سے پہچانی جاتی ہے اور اصطلاح کے مطابق صاحب مزار کو اس کے زائرین سے پہچانا جاتا ہے۔
اب جن لوگوں کی نگاہیں ظاہر بین ہوتی ہیں وہ ظاہری مال و متاع کو عزت کا سبب اور ملاک جانتے ہیں اور جن کے پاس مال و ثروت نہیں ہوتا انہیں وہ صاحب عزت نہیں سمجھتے کچھ ایسا ہی حال جناب نوح علیہ السلام کی قوم کا تھا۔چونکہ آپ پر سب سے پہلے ایمان لانے والے لوگ معاشرے فقیر،تنگدست اور دبے کچلے تھے لہذا آپ کی قوم کے اکثر افراد آپ کو یہی طعنہ دیا کرتے تھے کہ:جب ہم تمہارے پیروکاروں کو دیکھتے ہیں تو ہمیں چند ایک بے بضاعت، گمنام، فقیر اور غریب لوگ ہی نظر آتے ہیں جن کا سلسلہ روزگار بھی نہایت ہی معمولی ہے تو پھر ایسی صورت میں تم کیسے امید کرسکتے ہو کہ مشہور و معروف دولت مند اور نامی گرامی لوگ تمہارے سامنے سر تسلیم خم کرلیں گے ۔۔؟!!
ہم اور یہ لوگ کبھی بھی ایک ساتھ نہیں چل سکتے ہم نہ تو کبھی ایک دسترخوان پر بیٹھے ہیں اور نہ ہی ایک چھت کے نیچھے اکھٹے ہوئے ہیں تمہیں ہم سے کیسی غیر معقول توقع ہے؟۔
یہ ٹھیک ہے کہ وہ اپنی اس بات میں سچے تھے کہ کسی پیشوا کو اس کے پیروں کاروں سے پہچانا جاتا ہے لیکن ان کی سب سے بڑی غلطی یہ تھی کہ انہوں نے شخصیت کے مفہوم اور معیار کو اچھی طرح نہیں پہچانا تھا۔ان کے نزدیک شخصیت کا معیار مال و دولت،لباس و گھر و خوبصورتی اور قمیتی سواری تھا لیکن وہ لوگ طہارت، تقویٰ، حق جوئی جیسے اعلٰی انسانی صفات سے غافل تھے جو عام طور پر غریبوں میں زیادہ اور امیروں میں کم پائے جاتے ہیں۔
طبقاتی اونچ نیچ بدترین صورت میں ان کی افکار پر حکم فرما تھی۔ اسی لئے وہ غریب لوگوں کو ذلیل سمجھتے تھے۔
اور اگر وہ طبقاتی معاشرے کے قید خانے سے باہر نکل کر سوچتے اور باہر کی دنیا کو اپنی آنکھوں سے دیکھتے تو انہیں معلوم ہوجاتا کہ ایسے لوگوں کا ایمان اس پیغمبر کی حقانیت اور اس کی دعوت کی سچائی  پر بذات خود ایک دلیل ہے۔
اور یہ جو انہیں ’’بادی الرأی‘‘(ظاہر بین بے مطالعہ اور وہ شخص جو پہلی نظر میں کسی چیز کا عاشق اور خواہاں ہوتا ہے)؛کا نام دیا ہے حقیقت میں اس بنا پر ہے کہ وہ ہٹ دھرمی اور غیر مناسب تعصبات جو دوسروں میں تھے وہ ان کے یہاں نہیں تھے بلکہ زیادہ تر پاک دل نوجوان تھے جو حقیقت کی پہلی کرن کہ جو ان کے دل پر پڑتی تھی جلدی محسوس کرلیتے تھے وہ اس بیداری کے ساتھ جو کہ حق کی تلاش سے حاصل ہوتی ہے، صداقت کی نشانیاں ، انبیاء(ع) کے اقوال و افعال کا ادراک کرلیتے تھے۔(سورہ ہود:۲۷)
ان کا تیسرا اعتراض یہ تھا کہ قطع نظر اس سے کہ تو انسان ہے نہ کہ فرشتہ ، علاوہ ازیں تجھ پر ایمان لانے والے نشاندہی کرتے ہیں کہ تیری دعوت کے مشتملات صحیح نہیں ہیں’’ اور تم اصولی طور پر ہم پر کسی قسم کی برتری نہیں رکھتے کہ جس کی بناء پر ہم تمہاری پیروی کریں‘‘۔(سورہ ہود:۲۷)۔لہذا ہم گمان کرتے ہیں کہ تم جھوٹے ہو۔(سورہ ہود:۲۷)
 

0
شیئر کیجئے:
फॉलो अस
नवीनतम