Code : 502 64 Hit

خروج سفیانی سے پہلے امام زمانہ(عج) سے ملاقات کرنے والوں کی حقیقت

آج کل سوشل میڈیا پر ایک گروپ بڑی تیزی سے کام کررہا ہے جس کا دعویٰ یہ ہے کہ سید یمانی 18 مہینہ پہلے بصرہ میں ظاہر ہوچکے ہیں(جس کا نام احمد حسن بصری ہے) اور اب ظہور ہونے والا ہے اور سرکار ولیعصر تشریف لانے والے ہیں۔اور ساتھ ہی موصوف(نام نہاد سید یمانی) کا دعویٰ یہ بھی ہے کہ’’ میں حضرت ولیعصر(عج) کے ساتھ رابطے میں ہوں اور اپنی تمام مشکلات کو حضرت سے حل کرواتا ہوں‘‘۔جبکہ حدیث کی روشنی میں ایسا دعویٰ کرنے والا جھوٹا اور تہمت لگانے والا ہے۔

ولایت پورٹل: قارئین کرام! حضرت صاحب العصر و الزمان(عج) کے ظہور سے پہلے جہاں بہت سے دیگر فتنے برپا ہونگے وہیں کچھ ایسے جھوٹے اور مکار لوگ بھی سامنے آئیں گے جو یہ دعوا کرتے ملیں گے کہ ہم امام زمانہ(عج) کے 313 اصحاب میں سے ہیں اور فلاں حدیث میں ہمارے متعلق تذکرہ ملتا ہے۔جبکہ خود سرکار حضرت صاحب الزمان(عج) کے با وفا اصحاب وہ نا شناختہ اور غیر معروف مؤمن ہونگے کہ جو ایک دوسرے کو بھی نہیں پہچانتے ہیں بلکہ جب وہ حضرت(عج) کے حضور میں اپنے دیگر ساتھیوں سے ملیں گے تو یہ ان کی پہلی ملاقات ہوگی۔لہذا آج جہاں بہت سے دیگر فتنوں سے آگاہ رہنے اور بچنے کی ضرورت ہے وہیں ایسے جھوٹے اور مکار لوگوں کے حربوں اور فریب کاریوں سے بھی ہوشیار رہنا ضروی ہے۔

چونکہ آج کل سوشل میڈیا پر ایک گروپ بڑی تیزی سے کام کررہا ہے جس کا دعویٰ یہ ہے کہ سید یمانی 18 مہینہ پہلے بصرہ میں ظاہر ہوچکے ہیں(جس کا نام احمد حسن بصری ہے) اور اب ظہور ہونے والا ہے اور سرکار ولیعصر تشریف لانے والے ہیں لہذا اس سے قبل کہ دیر نہ ہو سب سید یمانی کے ہاتھ پر بیعت کریں تاکہ انہیں ظہور کے وقت سرکار کی معیت میں رہنے اور جام شہادت نوش کرنے کا شرف مل سکے۔

اور ساتھ ہی موصوف(نام نہاد سید یمانی) کا دعویٰ یہ بھی ہے کہ’’ میں حضرت ولیعصر(عج) کے ساتھ رابطے میں ہوں اور اپنی تمام مشکلات کو حضرت سے حل کرواتا ہوں‘‘۔

جبکہ خود ایک توقیع میں سرکار امام زمانہ(عج) نے ارشاد فرمایا:’’وسياتي شيعتي من يدعي المشاهدة الا فمن ادعي المشاهدة قبل خروج السفياني والصيحة فهو كذاب مفتر‘‘۔(الغيبة شيخ طوسي ص395- احتجاج شيخ طبرسي ج 2 ص 297)

ہمارے شیعوں میں سے کچھ ایسے بھی ہونگے کہ جو ہم سے ملاقات کا دعویٰ کریں گے آگاہ ہوجاؤ! کہ جو شخص سفیانی کے خروج اورندائے آسمانی سے پہلے ایسا دعویٰ کرے وہ جھوٹا ہے اور ہم پر جھوٹی تہمت باندھنے والا ہے۔۔۔

لہذا مؤمنین ایسے لوگوں کے دھوکہ میں نہ آئیں۔یہ ایک فتنہ ہے جبکہ کچھ لوگ یہ بھی کہتے نظر آرہے ہیں کہ ہم لوگ  ان کے دھوکے میں نہیں آئیں گے اور ہم آخر الزمان کے فتنوں میں گمراہ نہیں ہونگے(اللہ کرے ایسا ہی ہو) لیکن درحقیقت یہ بہت سخت منزل ہے چونکہ ساتھ خیریت کے ایمان پر خاتمہ ہونا ایک مشکل امر ہے لہذا ہمیشہ یہ دعا ہر مؤمن کے ورد زبان رہنی چاہیئے:’’اللّهُمَّ اجْعَلْ عَواقِبَ امُورِنا خَیْراً‘‘۔

انسان کا نفس بڑا شری ہوتا ہے لہذا یہ دعوے بیکار ہیں کہ ہمیں کوئی چیز منحرف نہیں کرسکتی چونکہ ہمیں تاریخ بنی اسرائیل میں ملتا ہے کہ بنی اسرائیل کا ایک بہت بڑا عالم تھا جسے اپنے علم پر بہت غرور تھا اور اس کے پاس اسم اعظم کا علم تھا لیکن اس کا غرور اسے لے ڈوبا اور وہ منحرف ہوگیا۔

لہذا ایک اہم بات جو مذکورہ بیان و روایت سے  ہمیں سمجھ میں آتی وہ یہ ہے کہ امام زمانہ(عج) کے ساتھ رابطہ اور ملاقات کا ڈھونگ رچانے والے کوئی دوسرے نہیں ہونگے بلکہ وہ خود شیعہ ہونگے۔دوسرے ہمیں ایک مرتبہ پھر امام زمانہ(عج) کے باوفا اصحاب کے صفات کو سمجھنا ہوگا کہ وہ کیسے ہونگے؟ چنانچہ حضرت امیر علیہ السلام ارشاد فرماتے ہیں:’’وَ ذَلِكَ زَمَانٌ لَا يَنْجُو فِيهِ إِلَّا كُلُّ مُؤْمِنٍ نُوَمَةٍ إِنْ شَهِدَ لَمْ يُعْرَفْ وَ إِنْ غَابَ لَمْ يُفْتَقَدْ أُولَئِكَ مَصَابِيحُ الْهُدَى وَ أَعْلَامُ السُّرَى لَيْسُوا بِالْمَسَايِيحِ وَ لَا الْمَذَايِيعِ الْبُذُرِ أُولَئِكَ يَفْتَحُ اللَّهُ لَهُمْ أَبْوَابَ رَحْمَتِهِ وَ يَكْشِفُ عَنْهُمْ ضَرَّاءَ نِقْمَتِهِ- أَيُّهَا النَّاسُ سَيَأْتِي عَلَيْكُمْ زَمَانٌ يُكْفَأُ فِيهِ الْإِسْلَامُ كَمَا يُكْفَأُ الْإِنَاءُ بِمَا فِيهِ أَيُّهَا النَّاسُ إِنَّ اللَّهَ قَدْ أَعَاذَكُمْ مِنْ أَنْ يَجُورَ عَلَيْكُمْ وَ لَمْ يُعِذْكُمْ مِنْ أَنْ يَبْتَلِيَكُمْ وَ قَدْ قَالَ جَلَّ مِنْ قَائِلٍ- إِنَّ فِي ذلِكَ لَآياتٍ وَ إِنْ كُنَّا لَمُبْتَلِين‘‘۔(نہج البلاغۃ، خ 103)

اور آخرالزمان ایک ایسا زمانہ ہوگا جس میں صرف بے نام و نشان مؤمن ہی نجات پائے گا اس طرح کہ اگر وہ لوگوں کے درمیان رہے تو لوگ اسے نہ پہچانیں اور اگر وہ غائب ہوجائے تو کوئی اس کا پتہ معلوم نہ کرے ،ایسے لوگ ہدایت کے چراغ اور صداقت کے منارے ہیں نہ وہ فتنہ پھیلانے والے ہیں اور نہ اہل فساد،نہ وہ کسی کی باتیں اور ان کی برائی کو دوسروں تک پہونچانے والے ہوتے ہیں التبہ اللہ تعالٰی نے اپنی رحمت کے دروازوں کو ان کے لئے کھول رکھا ہے اور اپنے عذاب کی سختی کو ان سے اٹھا لیا ہے۔

اے لوگو! بہت جلد وہ زمانہ آنے والا ہے کہ جس میں اسلام اس برتن کی طرح خالی ہوجائے گا جسے الٹا کرکے رکھ دیا گیا ہو۔ اے لوگو! اللہ تعالٰی ہرگز تم پر ظلم نہیں کرے گا لہذا اس پہلو سے مطمئن رہو۔لیکن  تم اس پہلو سے مطمئن نہ ہونا کہ وہ تمہارا امتحان بھی نہیں لے گا چونکہ یہ اسی کا قول ہے :اور نوح کے واقعہ میں کچھ ایسی علامتیں ہیں جن سے ہم لوگوں کا امتحان لیں گے۔

امام سجاد علیہ السلام امام زمانہ(عج) کے اصحاب کے سلسلہ سے فرماتے ہیں:’’ فَيَقُومُ ثَلَاثُمِائَةٍ وَ يُنِيفُ عَلَى الثَّلَاثِمِائَةِ فَيَمْنَعُونَهُ مِنْهُ خَمْسُونَ مِنْ أَهْلِ الْكُوفَةِ وَ سَائِرُهُمْ مِنْ أَفْنَاءِ النَّاسِ لَا يَعْرِفُ بَعْضُهُمْ بَعْضاً اجْتَمَعُوا عَلَى غَيْرِ مِيعَادٍ‘‘۔(بحار الأنوار،ج52،ص 306)

پس تین سو سے کچھ تھوڑے زیادہ اصحاب اٹھیں گے کہ جو حضرت صاحب الزمان(عج) سے دفاع کریں گے، ان میں سے 50 افراد کوفہ کے رہنے والے ہونگے اور باقی سب دنیا کے مختلف حصوں کے،لیکن وہ لوگ ایک دوسرے کو نہیں پہچانتے ہونگے اور وہ ایک دوسرے سے بغیر کسی پہلے وعدہ کے ملاقات کریں گے۔



0
شیئر کیجئے:
फॉलो अस
नवीनतम