Code : 586 17 Hit

حضرت فاطمہ(س) فرشتوں سے بھی افضل

علامہ مجلسی علل الشرائع سے رقم کرتے ہیں جسے جناب جابر نے امام جعفر صادق علیہ السلام سے نقل کیا ہے کہ آنحضرت سے ہم نے دریافت کیا:مولا! کیوں فاطمہ زہرا(س) کو زہرا کہا جاتا ہے؟امام علیہ السلام نے فرمایا:چونکہ آپ کو اللہ تعالٰی نے اپنی عظمت کے نور سے خلق فرمایا ،پس جب وہ نور چمکا آسمان و زمین منور ہوگئے اور فرشتوں آنکھیں تعجب و حیرت کے مارے کھلی کی کھلی رہ گئیں اور پھر وہ سب سجدے میں گر گئے اور سوال کیا: بار الہا! یہ کیسا نور ہے؟ پس اللہ نے ان پر وحی نازل فرمائی کہ یہ میرے نور کا حصہ ہے کہ جسے میں نے زمین و آسمان کے درمیان اپنی عظمت سے خلق کیا ہے اور اسے اپنی ایک پیغمبر کے صلب کے ذریعہ پیدا کروں گا اور میں نے اسے تمام انبیاء پر برتری دی ہے اور اس نور سے ایسے امام پیدا ہونگے کہ جو میرے فرامین و احکام کی برپائی کی خاطر قیام کریں گے اور لوگوں کو میری طرف ہدایت کریں گے اور میں نے انہیں وحی و نبوت کے اختتام کے بعد زمین پر اپنا جانشین مقرر کیا ہے۔(

ولایت پورٹل: کبھی کبھی جب ہم اپنی محافل میں کسی شاعر سے یا مجالس میں کسی خطیب سے جناب شہزادی کونین سلام اللہ علیہا کے فضائل سنتے ہیں تو بعض لوگوں کو یہ گمان ہوتا ہے کہ کہیں یہ شہزادی کی شأن و فضیلت بیان کرنے میں مبالغہ تو نہیں کررہے ہیں؟ ظاہر ہے اس شبہ کو حل کرنے کے لئے ہمیں یہ تلاش کرنے کی ضرورت ہے کہ شہزادی کونین سلام اللہ کی عظمت و منزلت کیا ہے۔
جب اللہ نے حضرت آدم علیہ السلام کو خلق فرمانے کا ارادہ کیا تو فرشتوں نے اللہ سے سوال کیا کہ تو آدم کو کیوں اپنا خلیفہ بنا رہا ہے جبکہ ہم تیری تسبیح و تحلیل کرتے ہیں تو اللہ نے حضرت آدم و فرشتوں کا امتحان لیا آدم کامیاب ہوگئے اور فرشتے اس امتحان سے عبور نہ کرسکے۔
قارئین اس تمہید کو عرض کرنے کا مقصد یہ تھا کہ اگر بنی نوع انسان کی فرشتوں پر برتری ثابت ہو جائے تو خود بخود معصومین علیہم السلام اور خاص طور پر جناب سیدہ عالمیان(س) کی فضیلت کو ثابت کرنا کوئی دشوار امر نہیں رہ جائے گا۔
فرشتوں پر انسان کی فضیلت
رسول اکرم(ص) انسانی کرامت و شرافت کے سلسلہ سے ارشاد فرماتے ہیں:’’ اللہ تعالیٰ کے نزدیک بنی آدم سے افضل کوئی دیگر مخلوق نہیں ہے،عرض کیا گیا یا رسول اللہ(ص)! کیا فرشتے افضل نہیں ہیں؟ فرمایا:’’ اَلمَلائِكَةُ مَجبوُرونَ، بِمَنزِلَةِ الشَّمْسِ وَ القَمَرِ‘‘۔(كنزالعمّال حدیث نمبر:36621) فرشتے سورج و چاند کی مانند اپنے کاموں کو انجام دینے میں مجبور ہیں۔یعنی انہیں اپنے وقت پر نکلنا اور غروب ہونا ہے وہ ایک سوئی کی نوک کے برابر بھی اس نظام سے سرپیچی یا تصرف نہیں کرسکتے۔
اور اسی مفہوم کو امام محمد باقر علیہ السلام نے اس طرح بیان فرمایا ہے:
جب حضرت آدم(ع) کی وفات کے بعد ان کے جنازے پر نماز پڑھنے کی بات آئی تو  آپ کے بیٹے ہبۃ اللہ نے کہا: اے جبرئیل! تم آگے بڑھو اور میرے باپ کے جنازہ پر نماز پڑھاؤ۔ جناب جبرئیل نے کہا: اے ہبۃ اللہ ! ہمیں آدم(ع) کو سجدہ کرنے کے لئے پروردگار کا حکم ہوا تھا اور ہم نے بہشت میں ان کے سامنے سجدہ تعظیم ادا کرچکے ہیں لہذا اب قیامت تک ہم ان کے بیٹوں میں سے کسی کے امام بننے کے لائق نہیں ہیں۔(1)
اسی طرح ایک شخص جس کا نام علماء رجال نے عبد اللہ ابن سنان نقل کیا ہے وہ اسی مضمون کی ایک حدیث کو حضرت امیر علیہ السلام سے نقل کرتے ہیں کہ ہم نے اپنے مولا و آقا علی علیہ السلام سے دریافت کیا: مولا! فرشتے افضل ہیں یا انسان؟حضرت نے جواب دیا: اللہ تعالٰی نے فرشتوں میں صرف عقل رکھی ہے اور ان میں خواہشات نفسانی نام کی کوئی شئی نہیں پائی جاتی اور ان کے برخلاف حیوانات میں خواہشات ہی خواہشات رکھی ہیں ان میں عقل نام کی کوئی شئی نہیں پائی جاتی۔لیکن آدم علیہ السلام کی اولاد میں ان دونوں(عقل و خواہشات) کو رکھ دیا ہے۔لہذا جس انسان کی عقل اس کی خواہشات پر غالب آجائے وہ فرشتوں سے بہتر ہوجاتا ہے اور جس کی خواہشوں کا اس کی عقل پر غلبہ ہوجائے وہ حیوانات سے بھی بدتر و پست تر ہوجاتا ہے۔(2)
لہذا اگر انسان اس نظام ہست و بود میں اپنی منزلت کو پہچان لے اور اپنی انسانی کرامت و شرافت پر یقین کامل رکھتے ہوئے کوئی ایسا کام نہ کرے جو اس کی شایان شأن نہیں ہے تو  یہی چیز اس کے فرشتوں سے افضل ہونے کا سبب قرار پائے گی۔
حضرت زہرا(س) کا خاص مرتبہ
قارئین کرام! آیئے اب بات کرتے ہیں حضرت فاطمہ زہرا(س) کے مقام و منزلت کی چنانچہ بہت سی روایات اہل سنت اور شیعہ دونوں کی معتبر کتابوں میں موجود ہیں جو اللہ کے نزدیک آپ کے علو درجات پر دلالت کرتی ہیں اور یہ روایات اتنی زیادہ اور وافر مقدار میں ہیں کہ اتنا کسی دیگر معصوم کے سلسلہ سے بیان نہیں ہوئی ہیں۔
چنانچہ علامہ مجلسی علل الشرائع سے رقم کرتے ہیں جسے جناب جابر نے امام جعفر صادق علیہ السلام سے نقل کیا ہے کہ آنحضرت سے ہم نے دریافت کیا:مولا! کیوں فاطمہ زہرا(س) کو زہرا کہا جاتا ہے؟
امام علیہ السلام نے فرمایا:چونکہ آپ کو اللہ تعالٰی نے اپنی عظمت کے نور سے خلق فرمایا ،پس جب وہ نور چمکا آسمان و زمین منور ہوگئے اور  فرشتوں آنکھیں تعجب و حیرت کے مارے کھلی کی کھلی رہ گئیں اور پھر وہ سب سجدے میں گر گئے اور سوال کیا: بار الہا! یہ کیسا نور ہے؟ پس اللہ نے ان پر وحی نازل فرمائی کہ یہ میرے نور کا حصہ ہے کہ جسے میں نے زمین و آسمان کے درمیان اپنی عظمت سے خلق کیا ہے اور اسے اپنی ایک پیغمبر کے صلب کے ذریعہ پیدا کروں گا اور میں نے اسے تمام انبیاء پر برتری دی ہے اور اس نور سے ایسے امام پیدا ہونگے کہ جو میرے فرامین و احکام کی برپائی کی خاطر قیام کریں گے اور لوگوں کو میری طرف ہدایت کریں گے اور میں نے انہیں وحی و نبوت کے اختتام کے بعد زمین پر اپنا جانشین مقرر کیا ہے۔(3)
یہ روایت بڑے صریح اور واضح انداز میں اس امر پر دلالت کررہی ہے کہ حضرت زہرا(س) نہ صرف یہ کہ فرشتوں سے افضل ہیں بلکہ اپنے بابا کے علاوہ تمام انبیائے ماسبق پر بھی برتری رکھتی ہیں چونکہ بہت سی دیگر احادیث موجود ہیں جو پیغمبر اکرم(ص) کے افضل مخلوق ہونے پر دلالت کرتی ہیں۔
ایک دیگر روایت میں امام جعفر صادق علیہ السلام نے ارشاد فرمایا:اگر حضرت علی علیہ السلام نہ ہوتے تو آدم سے لیکر قیامت تک کوئی بھی شخص حضرت فاطمہ(س) کی ہمتائی کے قابل نہ ہوتا۔(4)
نیز اس روایت سے بھی یہ ثابت ہوتا ہے کہ بہ جز حضرت علی(ع) کوئی بھی حضرت فاطمہ سلام اللہ علیہا کے مقام تک نہیں پہونچ سکتا۔

۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
حوالہ جات:
1۔ شيخ صدوق، ابوجعفر محمد بن علی بن حسين بن موسی بن بابويه، كمال الدين ص214.
2۔ علامه مجلسی، محمد باقر، بحار ج60 ص299.
3۔ شيخ صدوق، ابوجعفر محمد بن علی بن حسين بن موسی بن بابويه، علل الشرايع، ص 179، باب 143، ج 1؛ بحار الانوار، ج 43، ص 12، حديث 5- کشف الغمه، ج 2، ص 464.
4۔ ناسخ التواريخ، ج 1، ص 46- علل الشرایع، ص 178، باب 143، حدیث 3- بحار الانوار، ج 43، ص 10- اصول کافی، ج 1، ص 524، حدیث 10.


0
شیئر کیجئے:
फॉलो अस
नवीनतम