Code : 486 23 Hit

حضرت علی(ع) کی نظر میں دنیا کا حقیقی چہرا

دنیا کے بارے میں امام علی علیہ السلام نے واضح طور پر فرما دیا کہ دنیا کو بقا نہیں بلکہ اسے زوال اور فنا ہے اور یہ رکنے کی جگہ نہیں بلکہ یہاں سے منتقل ہوکر دوسری دنیا کو سدھار جانا ہے۔ اس لئے انسان کو اسی تصور کے ساتھ دنیا میں زندگی جینا ہے کہ وہ ہمیشہ یہاں نہیں رہے گا بلکہ ایک دن اسے یہاں سے جانا ہے لہذا یہ دنیا دل لگانے، اس کے عجائبات میں کھوجانے اور مانوس ہوجانے کی چیز نہیں ہے۔ اب اگر کوئی دنیا کو ہمیشہ کا گھر سمجھ لے اور ایک دن اسے خبر دی جائے کہ دنیا سے اس کے جانے کا وقت آگیا ہے تو اس وقت کیا ہوگا ؟ ظاہر ہے وہ وحشت کا شکار ہوجائے گا،وہ اداس ہوگا،مایوس ہوجائےگا کیونکہ وہ اس دنیا سے دل لگا بیٹھا ہے،دل میں اس کی محبت بسا بیٹھا ہے،اس سے اس قدر مانوس ہوچکا ہے کہ اس سے جدائی کا تصور بھی اس کے لئے مشکل ہے۔

ولایت پورٹل: انسانی خیالات ،تصورات اور عقائد کا اس کی عملی زندگی پر نہایت گہرا اثر  ہوتاہے۔ماہرین نفسیات کے مطابق  کسی بھی چیز  کے بارے میں انسان کا   جو بھی عقیدہ و ایمان اور تصور و خیال  ہوتا ہے اس کا اس کی زندگی میں ضرور اثر مرتب ہوتا ہے،اور اس کی عملی زندگی اس کے خیالات کے مطابق چلتی ہے،اگر اس کا عقیدہ اور تصور صحیح ہے تو اس کی زندگی کی گاڑی صحیح سمت  میں آگے بڑھے گی لیکن اس کا تصور ہی غلط ہے تو زندگی کا رُخ صحیح سمت میں نہیں  ہوسکتا، اس نظریہ کی بنیاد پر دنیا کے بارے میں ہمارا جو تصور ہوگا ہم دنیا سے اسی کے مطابق  توقعات بھی رکھیں گے  ،اب اگر ہمارا تصور دنیا کے بارے میں صحیح ہوگا تو دنیا   تمام مصائب و مشکلات کے باوجود ہمیں  خوبصورت لگے گی لیکن اگر دنیا کے بارے میں ہمارا تصور صحیح نہیں ہوگا تو سب کچھ ہونے کے باوجود ہمیں دنیا میں سکون فراہم نہیں ہوگا۔اس لئے دنیا کی حقیقت اور اس کے تقاضوں کو جاننا  بے حد ضروری ہے۔دنیا کی حقیقت کیسے معلوم ہوگی؟کون بتائے گا کہ دنیا کیا ہے،کیسی ہے،اس کے تقاضے کیا ہیں؟یہ وہی بتائے گا جس نے دنیا بنائی ہے یا جسے کائنات کا مکمل علم ہے۔ قرآن کریم نے بھی دنیا کا متعدد مقامات پر تذکرہ کیا اور مولائے کائنات نے بھی دنیا کی تصویر ہمارے سامنے پیش کی ہے۔
’’يَا بُنَيَّ إِنِّي قَدْ أَنْبَأْتُكَ عَنِ اَلدُّنْيَا وَ حَالِهَا وَ زَوَالِهَا وَ اِنْتِقَالِهَا وَ أَنْبَأْتُكَ عَنِ اَلْآخِرَةِ وَ مَا أُعِدَّ لِأَهْلِهَا فِيهَا وَ ضَرَبْتُ لَكَ فِيهِمَا الْأَمْثَالَ لِتَعْتَبِرَ بِهَا وَ تَحْذُوَ عَلَيْهَا‘‘۔
اے میرے بیٹے! میں نے تمہیں دنیا، اس کے حالات، تصرفات، زوال اور انتقال سب کے بارے میں باخبر کردیا ہے اور آخرت اور اس میں صاحبان ایمان کے لئے مہیا نعمتوں کا بھی پتہ بتا دیا ہے اور دونوں کے لئے مثالیں بیان کردی ہیں تاکہ تم عبرت حاصل کرسکو اور اس سے ہوشیار رہو۔
دنیا کے بارے میں امام علی علیہ السلام نے واضح طور پر فرما دیا کہ دنیا کو بقا نہیں بلکہ اسے زوال اور فنا ہے اور یہ رکنے کی جگہ نہیں بلکہ یہاں سے منتقل ہوکر دوسری دنیا کو سدھار جانا ہے۔ اس لئے انسان کو اسی تصور کے ساتھ دنیا میں زندگی جینا  ہے کہ وہ  ہمیشہ یہاں نہیں رہے گا  بلکہ ایک دن   اسے یہاں سے جانا ہے  لہذا  یہ دنیا  دل  لگانے، اس  کے عجائبات میں کھوجانے  اور مانوس ہوجانے کی چیز نہیں ہے۔ اب اگر کوئی دنیا کو ہمیشہ کا گھر سمجھ لے اور ایک دن اسے خبر دی جائے کہ دنیا سے اس کے جانے کا وقت آگیا ہے تو اس وقت کیا ہوگا  ؟ ظاہر ہے وہ وحشت کا شکار ہوجائے گا،وہ اداس ہوگا،مایوس ہوجائےگا کیونکہ وہ اس دنیا سے دل لگا بیٹھا ہے،دل میں اس کی محبت بسا بیٹھا ہے،اس سے اس قدر مانوس ہوچکا ہے کہ  اس سے جدائی کا تصور بھی  اس کے لئے مشکل ہے۔



0
شیئر کیجئے:
फॉलो अस
नवीनतम