Code : 519 18 Hit

حضرت زینب(س) کی جناب خدیجہ(س) سے شباہت

حضرت زینب(س) صرف شکل و صورت و شمائل میں ہی اپنی نانی کی شبیہ نہیں تھیں بلکہ اصل شباہت وجودی تھی یعنی جس طرح حضرت خدیجہ سلام اللہ علیہا عرب میں خواتین کے درمیان ایک رکن رکین کی حیثیت رکھتی تھی اسی طرح جناب زینب(س) بھی اسلام کے رکن کی حیثیت رکھتی ہیں۔ جس طرح جناب خدیجہ(س) نے بانی اسلام و خود دین اسلام کی حفاظت اور تبلیغ میں اہم کردار ادا کیا اگر ملیکۃ العرب کا سرمایہ نہ ہوتا تو شاید بے سرو سامانی کے عالم دین اس حد تک ترقی نہیں سکتا تھا اسی طرح رسول اللہ (ص) حال کے آئینہ میں مستقبل کے خد و خال دیکھ رہے تھے کہ یہی بچی وہ ہے جس کے سبب اسلام یزیدی ریزہ خوروں سے بچے گا اور یہ بچی نرغہ اعداء اور دشمنان شریعت کے گھر میں جاکر شریعت کا پرچم نصب کردے گی۔

ولایت پورٹل: ۵ جمادی الاول سن ۶ ہجری کا وہ مبارک دن تھا جب امیرالمؤمنین(ع) و فاطمہ زہرا(س) کے گلشن میں ایک نیا پھول کھلا کہ جس کا نام رکھنے میں کوئی بھی رسول خدا(ص) پر سبقت نہیں کرسکتا تھا جب اللہ کے رسول کو یہ خبر موصول ہوئی کہ فاطمہ(س) کے یہاں بڑی شہزادی تشریف لائی ہیں آپ خانہ زہرا(س) میں تشریف لائے اور حضرت سے بچی کا نام رکھنے کی گذارش کی گئی سرکار نے فرمایا کہ میں اس بچی کا نام رکھنے میں اپنے پروردگار پر سبقت نہیں کرسکتا چنانچہ لوح محفوظ سے جبرئیل(ع) جو نام لیکر آئے وہ زینب تھا۔
خوشی خوشی اس بچی کے عقیقہ کا انتظام بھی ہوا اور سرکار کے اصحاب اس دعوت میں مدعو تھے سرکار نے سب سے خطاب کیا:’’ أوصیکُم بِأن تُحبّوا زینب‘‘۔میں تم سب سے وصیت کرتا ہوں کہ زینب(س) کو دوست رکھو اور پھر کلام کا جاری رکھتے ہوئے ارشاد فرمایا:حاضرین میری اس تأکید کو غائبین تک پہونچا دینا کہ اس میری بیٹی کی تکریم کریں اور اس کے احترام کا خیال رکھیں چونکہ یہ بچی خدیجہ(س) سے سب سے زیادہ مشابہ ہے۔( مراقد اهل بیت در شام از سید احمد فهرى ، ص 68)
جناب زینب(س) کا جناب خدیجہ سے مشابہ ہونے کے سلسلہ میں کئی اور روایات بھی ملتی ہیں چنانچہ ملتا ہے کہ ایک مرتبہ اشعث بن قیس نے حضرت علی علیہ السلام حضرت زینب کا رشتہ مانگا جلال الہی کو  جلال آگیا اشعث کو مخاطب کرتے ہوئے کہا: تیری یہ جرأت کیسے ہوئی کہ تو ہم سے زینب کا رشتہ مانگنے چلا آیا؟ زینب خدیجہ کی شبیہ اور آغوش عصمت کی پروردہ ہیں اس نے عصمت کبریٰ کا دودھ پیا ہے تو اس کی ہمسری کی لیاقت نہیں رکھنا اور اس خدا کی قسم جس کے ہاتھ میں علی کی جان ہے اگر تونے دوبارہ یہ جرأت کی تو تیرا شمشیر سے جواب دیا جائے گا تو کہاں زہرا(س) کی یادگار کی ہمسری و ہمتائی کی لیاقت رکھتا ہے۔( الخصائص الزينبيه ص 260)
قارئین کرام!جیسا کہ ابھی ابھی آپ نے رسول خدا(ص) اور علی علیہ السلام کی حدیث مبارک کو ملاحظہ فرمایا جس میں آپ نے فرمایا تھا کہ زینب(س) اپنی نانی جناب خدیجہ کی شبیہ ہیں تو سب سے پہلے یہ جاننے کی ضرورت ہے کہ وہ کون سی شباہت تھی جس کی بنیاد پر رسول خدا(ص) نے اپنے اصحاب سے فرمایا کہ اس بچی کا خاص احترام کرنا۔
تو شباہت اور مساوات دو طرح سے ممکن ہے:
۱۔پہلے تو یہ کہ حضرت زینب(س) چونکہ حضرت فاطمہ زہرا(س) کی دختر نیک اختر ہیں لہذا بیٹی عام طور پر اپنی ماں، نانی، پھوپی یا دادی کی شبیہ ہوتی ہے لہذا ہوسکتا ہے رسول خدا(ص) نے اس پہلو میں نظر میں رکھا ہو۔البتہ محض صورت میں کسی افضل شخصیت کی شبیہ ہونا معیار فضیلت نہیں ہوسکتا بلکہ مکمل شباہت اسی وقت صادق آتی ہے جس صورت کے ساتھ ساتھ کردار بھی ویسا ہی ہو لہذا رسول خدا(ص) اور امیرالمؤمنین(ع) ایک ساتھ ان دونوں پہلوؤں کی طرف اشارہ کررہے ہیں۔
۲۔حضرت زینب(س) صرف شکل و صورت و شمائل میں ہی اپنی نانی کی شبیہ نہیں تھیں بلکہ اصل شباہت وجودی تھی یعنی جس طرح حضرت خدیجہ سلام اللہ علیہا عرب میں خواتین کے درمیان ایک رکن رکین کی حیثیت رکھتی تھی اسی طرح جناب زینب(س) بھی اسلام کے رکن کی حیثیت رکھتی ہیں۔ جس طرح جناب خدیجہ(س)  نے بانی اسلام و خود دین اسلام کی حفاظت اور تبلیغ میں اہم کردار ادا کیا اگر ملیکۃ العرب کا سرمایہ نہ ہوتا تو شاید بے سرو سامانی کے عالم دین اس حد تک ترقی نہیں سکتا تھا اسی طرح رسول اللہ (ص) حال کے آئینہ میں مستقبل کے خد و خال دیکھ رہے تھے کہ یہی بچی وہ ہے جس کے سبب اسلام یزیدی ریزہ خوروں سے بچے گا اور یہ بچی نرغہ اعداء اور دشمنان شریعت کے گھر میں جاکر شریعت کا پرچم نصب کردے گی۔
 


0
شیئر کیجئے:
फॉलो अस
नवीनतम