Code : 1151 77 Hit

حسن انجام کے لئے 3 بہترین اعمال

امام صادق علیہ السلام نے جو اہم چیز پہلے مرحلہ میں ارشاد فرمائی وہ یہ ہے کہ اللہ تعالٰی نے ہمیں جو بھی مادی اور معنوی نعمتیں دی ہیں ہم انہیں گناہ کرنے اور اپنے عذاب کو بڑھانے کا ذریعہ قرار نہ دیں۔ مثال کے طور پر اللہ نے ہمیں آنکھ ،کان ہاتھ اور پیر دیئے ہیں لہذا ہم آنکھوں سے کسی نامحرم کے نظارہ گر نہ بنیں اور کانوں سے کسی اپنے مؤمن بھائی کی غیبت و برائی کو سننے والے نہ بنیں۔

ولایت پورٹل:  ہمارے چھٹے امام حضرت جعفر صادق علیہ السلام نے اپنے ایک صحابی کو ایک خط تحریر کیا جس میں آپ نے حسن انجام اور خاتمہ بالخیر ہونے کے نہایت  3 کار آمد چیزیں بیان فرمائیں:
۱۔ خدا کی نعمتوں کو گناہ میں استعمال نہ کرو۔
امام صادق علیہ السلام نے جو اہم چیز پہلے مرحلہ میں ارشاد فرمائی وہ یہ ہے کہ اللہ تعالٰی نے ہمیں جو بھی مادی اور معنوی نعمتیں دی ہیں ہم انہیں گناہ کرنے اور اپنے عذاب کو بڑھانے کا ذریعہ قرار نہ دیں۔ مثال کے طور پر اللہ نے ہمیں آنکھ ،کان ہاتھ اور پیر دیئے ہیں لہذا ہم آنکھوں سے کسی نامحرم کے نظارہ گر نہ بنیں اور کانوں سے کسی اپنے مؤمن بھائی کی غیبت و برائی کو سننے والے نہ بنیں۔
قارئین کرام! یہ کہہ دینا بہت آسان ہے لیکن مقام عمل میں کسی مؤمن کا ایسا ہونا کہ اس کے اعضاء و جوارح سے کوئی معصیت اور کوئی گناہ سرزد نہ ہو یہ بہت مشکل مرحلہ ہے لہذا ایک حدیث میں امام صادق علیہ السلام نے ارشاد فرمایا: کہ تین مراحل میں تمہارے نامہ اعمال ہمارے سامنے پیش ہوتے ہیں۔چنانچہ ایک جوان امام جعفر صادق علیہ السلام کی خدمت میں آیا ۔اور امام علیہ السلام جانتے تھے کہ آج یہ اپنی ماں کے ساتھ لڑ جھگڑ کر آیا ہے۔چنانچہ وہ آیا اور امام علیہ السلام جہاں پڑھا رہے تھے بیٹھ گیا ۔امام علیہ السلام اس کی طرف متوجہ ہوئے اور فرمایا۔اٹھو اور پہلے جاکر اپنی ماں کو راضی کرو پھر درس پڑھنے کے لئے آنا چونکہ ماں کو ناراض کرکے تمہیں کوئی علم بھی فائدہ نہیں پہونچا سکتا۔
چنانچہ اسی طرح کی ایک اور روایت ملتی ہے کہ ایک عرب اپنے غلام کو آواز دے رہا تھا چنانچہ اس نے نہیں سنا اس نے غصہ میں آکر کہہ دیا:حرام زادہ تو کہاں تھا؟ امام جعفر صادق علیہ السلام اپنی جگہ سے اٹھے  اور فرمایا: میں تو تجھے صاحب ایمان سمجھتا تھا ؟تونے اپنے غلام کو کیوں گالی دی ہے۔یہ سن کر اس شخص عرب نے کہا مولا! اس کی ماں تو مسلمان نہیں ہے۔امام علیہ السلام نے فرمایا: ہر قوم میں شادی بیاہ کے اپنے کچھ اصول و قوانین ہیں۔تو کیا جو بھی مسلمان نہ ہو اس کا عقد باطل ہے اور اس کی اولاد حرام کی اولاد کہلائے گی ؟ چنانچہ راوی کہتا ہے کہ پھر امام علیہ السلام نے اس مرد عرب سے اپنے تعلقات قطع کرلئے۔
آپ نے ملاحظہ کیا کہ یہ ہے نعمتوں کو ان کی صحیح جگہ استعمال نہ کرنے کا انجام چنانچہ قرآن مجید میں ایک آیت ہے جس کا مفہوم بہت عجیب ہے کہ شیطان لوگوں کے اطراف میں طواف کرتا رہتا ہے تاکہ کوئی سوراخ مل جائے ۔(یعنی ان کا کوئی ضعیف نکتہ مل جائے جس کے سبب ان پر سوار ہوکر انہیں گمراہ بنا دے) تاکہ وہ اس راستہ سے گھس جائے۔
لہذا اپنے اعضاء و جوارح،مادی اور معنوی مال و دولت کو گناہ و معصیت کے راستہ میں استعمال نہ کریں چنانچہ روایات میں ملتا ہے کہ جس کان سے وعظ و نصیحت سنی جائے یہ اس کے کانوں کی عبادت ہے اور اسی طرح اگر صحیح راستہ آنکھوں سے تلاش کیا جائے تو یہ آنکھوں کی عبادت ہے لہذا ہمیں ہر آن احتیاط کرنا چاہیئے۔
۲۔خدا کے حلم و پردہ پوشی کے سبب مغرور نہ ہوجانا۔
اللہ تعالٰی ستار و حلیم ہے۔ وہ مسلسل اپنے بندوں کے گناہوں کی پردہ پوشی کرتا ہے وہ یہ نہیں چاہتا کہ اس کے بندے دوسروں کے سامنے شرمندہ ہوں۔البتہ وہ انسان کو اپنی طرف لوٹنے کی فرصت دیتا ہے لیکن انسان اس فرصت کو مزید غلط کاموں کے کرنے میں صرف کرتا ہے اور طرح طرح کی برائیوں میں مصروف ہوجاتا ہے۔لہذا ہمیں اللہ کی دی ہوئی اس فرصت سے استفادہ کرتے ہوئے اپنی گناہوں کی معافی کے لئے اقدام کرنا چاہیئے۔
۳۔ہم سے منسوب لوگوں کا احترام کرو
تیسری اہم چیز جو انسان کی خوش نصیبی کا سبب بنتی ہے اور جس کے سبب انسان کا خاتمہ خیر پر ہوتا ہے وہ آل محمد(ص) سے منسوب افراد کا احترام کرنا ہے۔یعنی اگر کوئی سید ہے تو ہم اس کا احترام اس وجہ سے کریں کہ یہ شجرہ طیبہ سے منسوب ہے۔اگر کوئی امام حسین(ع) کا شاعر ہے یہ اس در کی خدمت کرنے والا ہے یا اس گھرانے کے علم کو نشر کرنے والا عالم ہے۔ہمیں ان کا احترام کرنا چاہیئے چونکہ یہ اہل بیت اطہار علیہم السلام سے منسوب و منسلک افراد ہیں۔



0
شیئر کیجئے:
फॉलो अस
नवीनतम