Code : 511 24 Hit

جناب کمیل کو حضرت امیر(ع) کی نصیحتیں(1)

کمیل کی وفاداری کا اندازہ اس بات سے لگایا جاسکتا ہے کہ جب دنیا اہل بیت(ع) سے منھ موڑے ہوئے تھے کمیل تب بھی حضرت علی کے عشق کی حرارت سے سرشار تھے اور حضرت کے نورانی کلمات کا موجزن دریا اپنے قلب میں لئے نشتگان معرفت کو سیراب کررہے تھے۔ کمیل کے متعلق حضرت علی(ع) کے بعض اقوال سے اندازہ ہوتا ہے کہ کمیل آپ کے خاص اور صاحبان سر اصحاب میں سے تھے۔

ولایت پورٹل: قارئین کرام! آپ نے جناب کمیل بن زیاد نخعی کا نام تو سنا ہوگا، آپ حضرت امیرالمؤمنین(ع) کے باوفا اصحاب میں سے تھے،آپ ایک شجاع،بہادر،زاہد اور عابد تھے، جب حضرت امیر علیہ السلام ۸ ہجری میں تبلیغ دین کے لئے یمن پہونچے تو حضرت کے دست حق پرست پر ایمان لانے والوں میں یہ جوان کمیل بھی تھا۔
کمیل کی وفاداری کا اندازہ اس بات سے لگایا جاسکتا ہے کہ جب دنیا اہل بیت(ع) سے منھ موڑے ہوئے تھے کمیل تب بھی حضرت علی کے عشق کی حرارت سے سرشار تھے اور حضرت کے نورانی کلمات کا موجزن دریا اپنے قلب میں لئے نشتگان معرفت کو سیراب کررہے تھے۔ کمیل کے متعلق حضرت علی(ع) کے بعض اقوال سے اندازہ ہوتا ہے کہ کمیل آپ کے خاص اور صاحبان سر اصحاب میں سے تھے۔
قارئین کرام! «بشارة المصطفی لشیعة المرتضی» نامی کتاب میں سعد بن زید ارطاۃ سے ایک طویل روایت نقل ہوئی جس میں  خود کمیل بن زیاد نے ان نصیحتوں کا تذکرہ کیا ہے جو آپ کو حضرت علی(ع) نے  فرمائی تھیں۔
چنانچہ سعد بن زید بن ارطاۃ کہتے ہیں کہ ایک دن میری ملاقات جناب کمیل سے ہوئی تو میں نے حضرت امیر(ع) کے فضائل کے متعلق ان سے دریافت کیا،انہوں نے جواب میں کہا: کیا تم یہ چاہتے ہو کہ میں تمہیں ان نصیحتوں کے بارے میں بتاؤ جو امام المتقین(ع) نے مجھ سے فرمائی تھیں کہ جو تمہارے پاس دنیا کی ہر چیز سے بہتر ہیں۔ ارطاۃ کہتے ہیں کہ میں نے کہا: کمیل اس سے اچھی کیا بات؟
قارئین کرام! اس طویل و عریض نصیحت کو ایک ساتھ بیان کرنا شاید مناسب نہ ہو لہذا ہم اسے چند حصوں میں پیش کریں گے نیز ہم ان نصیحتوں کو «کتاب تحف العقول» کی روایت کے مطابق آپ کی خدمت میں پیش کررہے ہیں:
کمیل سے علی(ع) کی نصیحتیں!
اے کمیل! تم ہر دن خدائے واحد کا نام اپنی زبان پر جاری کرو اور کہو: لا حول و لا قوة الا باللَّه،خدا پر توکل کرو، ہمیں یاد کرو، ہمارے نام اپنی زبان سے لو اور ہم پر درود بھیجو،اور درود کو اپنے اوپر اور ہر اس چیز پر دم کرو جس کی حفاظت تمہارے لئے اہم ہو تاکہ تم ہر طرح کے شر سے محفوظ رہو۔
اے کمیل! پیغمبر اکرم(ص) کو خداوند عالم نے ادب سکھایا اور مجھے پیغمبر(ص) نے،اور میں مؤمنین کی تربیت پر مامور ہوں لہذا میں بزرگ لوگوں کو ضرور آداب سے مزین کروں گا۔
اے کمیل! کوئی علم ایسا نہیں جس کا آغاز میں نے نہ کیا ہو،اور کوئی بھی راز ایسا نہیں ہے جسے ہمارا قائم انجام تک نہ پہونچائے۔
اے کمیل! خاندان رسالت کا سلسلہ صرف ایک جڑ کی طرف پلٹتا ہے۔حضرت کا اشارہ قرآن مجید کی اس آیت کی طرف ہے جس میں حضرت ابراہیم کی پاک نسل کے سلسلہ میں بیان ہوا ہے۔
اے کمیل! علم و ادب کو ہمارے علاوہ کسی اور سے مت لو تاکہ تم ہم میں سے ہوجاؤ۔(یعنی ہر اس گمراہ کے دروازے پر مت جاؤ جس نے اپنا نام عالم رکھا ہوا ہے)۔
اے کمیل! ہر کام سے پہلے اس کے متعلق تمام معرفت حاصل کرلو۔
اے کمیل! کھانے سے پہلے اس خدا کا نام اپنی زبان پر جاری کرو، جس کے ساتھ کوئی درد اور کوئی برائی تمہیں نقصان نہیں پہونچا سکتی،وہ ہر درد سے امان دیتا ہے۔
اے کمیل! اپنے کھانے کو دوسروں کے ساتھ مل کر کھاؤ،بخل نہ کرو،چونکہ تم کسی کو رزق نہیں دیتے(یعنی مہمان اپنا رزق کھاتا ہے)۔ خداوندعالم تمہیں بہت اجر دے گا،دسترخوان پر خوش عادت بنو،اپنے پاس بیٹھنے والے کو خوش رکھو، اپنے خدمتگذار پر تہمت نہ لگاؤ۔(جبکہ ایک روایت میں آیا ہے: اپنے خدمتگذار کو کھانا کھاتے وقت اپنے پاس سے مت بھگاؤ اور اس پر مت چلاؤ۔
جاری ہے ۔۔۔۔۔۔۔۔۔ 


0
شیئر کیجئے:
फॉलो अस
नवीनतम