Code : 1173 4 Hit

جناب علی اکبر(ع) کی تأسی روشن مستقل کی ضمانت

جو جوان اپنی زندگی کے لئے ایک مناسب اور اعلٰی نمونہ عمل کا انتخاب کرسکتا ہو اور جو اپنے والدین سے اخلاق و کردار لے سکتا ہو وہ ہی ایسا جوان ہوگا کہ جو بدترین حالات میں بھی ایک کامیاب زندگی گذار سکتا ہے لیکن اس کی بنیادی شرط یہ ہے کہ والدین بھی ان کے لئے ہر روز اخلاق حسنہ کی نئی شاہرائیں کھولیں اور انہیں کردار کے حسین باغات کی انگلی پکڑوا کر سیر کروائیں۔

ولایت پورٹل: قارئین کرام! آج کل ہمارے معاشرے کے جوانوں کے سامنے بہت سی مشکلات ہیں اور ان کے لئے ان پر آشوب حالات میں صحیح راستے کا انتخاب دشوار تر ہوتا جارہا ہے۔ چنانچہ یہی فکر اس دور کے اکثر والدین کو بوڑھا کررہی ہے کہ وہ اپنے جوانوں کو کیسے ان کلچرل،تمدنی اور تربیتی مشکلات میں پھنسنے سے بچائیں؟ چونکہ وہ بچے کہ جو ہزار سختوں کو برداشت کرکے جوان ہوئے ہیں اور اب معاشرے میں قدم رکھنا چاہتے ہیں ان کے لئے  والدین کا فکر مند ہونا ایک طبیعی اور فطری بات ہے۔
ہم سمجھتے ہیں کہ اگر کسی جوان کو کامیاب ہونا ہے اور صراط مستقیم پر بغیر لغزش کے آگے بڑھنا ہے ان کے سامنے کربلا کے کڑیل جوان جناب علی اکبر(ع) بہترین نمونہ عمل اور آئیڈیل ہیں۔
اب ممکن ہے کسی کے ذہن میں یہ سوال گردش کرنے لگے کہ ہم کہاں اور علی اکبر(ع)؟ ہم بھلا علی اکبر(ع) جیسے کیسے بن سکتے ہیں؟ اکبر تو حسین(ع) کے بیٹے تھے؟
قارئین کرام! اتباع اور پیروی کے مسئلہ میں اہم بات یہ ہے کہ اس میں ذات سے زیادہ اخلاق ،کردار اور اعمال پر توجہ مرکوز کرنا ہوتی ہے ورنہ کیسے ہوسکتا ہے کہ ہم رسول اللہ(ص) کی پیروی کے لائق بن جائیں چونکہ عالم امکان میں آپ سے افضل تو کوئی ہے ہی نہیں جبکہ خود قرآن مجید ہمیں سرکار(ص) کی اتباع اور پیروی کی دعوت دے رہا ہے:’’ لَّقَدْ كَانَ لَكُمْ فِي رَسُولِ اللَّـهِ أُسْوَةٌ حَسَنَةٌ‘‘۔(سورہ احزاب:۲۱)۔ مسلمانو! تم میں سے اس کے لئے رسول کی زندگی میں بہترین نمونہ عمل ہے۔
بس بات تو واضح ہوگئی ہوگی کہ ہمارے جوان حضرت علی اکبر کا اتباع کرسکتے ہیں اور کرنی بھی چاہیئے۔ اور اگر ہمارے جوان جناب علی اکبر(ع) کا اتباع کرلیں تو پھر والیدن کو یہ فکر نہیں ہوگی کہ ہمارا بچہ کہیں بگڑ تو نہیں جائے گا؟ کہیں دوسرے جوانوں کی ہمنشینی اسے نقصان تو نہیں پہونچائیں گی یا اس طرح کی دوسری فکر مندیاں جن سے اکثر والدین پریشان رہتے ہیں۔
ہاں اگر ہمارے جوانوں نے علی اکبر(ع) کی پیروی کرلی اور آپ کے نقش قدم پر چل پڑے تو پھر یہ صرف والدین اور خاندان ہی کے لئے نہیں بلکہ پوری انسانیت کے لئے قابل رشک بن جائیں گے اور پھر کوئی شیطانی وسوسہ چاہے جتنا بڑا ہو انہیں زندگی کے اصلی مقصد اور صراط مستقیم سے منحرف نہیں کرسکتا۔
قارئین کرام! آپ سب نے حضرت علی اکبر(ع) کے متعلق ضرور یہ جملہ سنا ہوگا کہ:’’حضرت علی اکبر(ع) رسول خدا(ص) سے سب سے زیادہ مشابہ تھے  رفتار و گفتار اور کردار میں‘‘۔(بحار الأنوار،ج 45،ص .43) اور یہی وہ جملہ ہے کہ جو جوانوں کی تربیت کا اصلی اور حقیقی رمز ہے۔
یہ مذکورہ جملہ چہرہ کو چھوڑ کر کہ جو ایک خدادای چیز ہے۔ حضرت علی اکبر(ع) کے اخلاق و کردار کو بیان کرتا ہے اور جیسا کہ معلوم ہے کہ جناب علی اکبر(ع) امام یا معصوم منصوص من اللہ نہیں تھے لہذا ان دونوں چیزیں(اخلاق و کردار)کو رسول اللہ(ص) جیسا بنانا اکتسابی امر ہے جو ممارست اور مشق سے حاصل ہوتی ہیں اور ان کے لئے ایک نمونہ اور آئیڈیل حقیقی کی ضرورت پڑتی ہے اور اس کا مطلب صاف ہے کہ نہ تو حضرت علی اکبر علیہ السلام نے رسول اللہ(ص) کو دیکھا تھا نہ آپ(ص) کے دور میں پیدا ہوئے تھے ۔تو اب سوال یہ ہے کہ علی اکبر(ع) کا کردار و اخلاق رسول اللہ(ص) کے جیسا کیسے ہوا ؟ اس کا مطلب صاف ہے کہ  جناب علی اکبر(ص) نے رسول اللہ(ص) کے بارے میں سنا اور آپ کو اپنی زندگی کے بطور نمونہ منتخب کیا۔یعنی جناب علی اکبر(ص) نے یہ دونوں کام خود کئے کہ جب اللہ نے مجھے اپنے رسول سے مشابہ خلق کیا ہے تو مجھے آپ کے اخلاق و کردار کو بھی اپنے میں بسانا چاہیئے۔
اور دوسری چیز یہ کہ علی اکبر(ع) نے اپنے والدین کو دیکھا کہ جن کے اخلاق و کردار میں رسول اللہ(ص)  کے اخلاق و کردار کا عکس نظر آتا تھا لہذا علی اکبر(ع) نے اسے اپنایا اور وہ کامیاب ہوگئے۔ اور اتنا عظیم کارنامہ انجام دیا کہ جو حق کے متلاشی ہر جوان کے لئے مشعلے راہ بن گیا۔
جو جوان اپنی زندگی کے لئے ایک مناسب اور اعلٰی نمونہ عمل کا انتخاب کرسکتا ہو اور جو اپنے والدین سے اخلاق و کردار لے سکتا ہو وہ ہی ایسا جوان ہوگا کہ جو بدترین حالات میں بھی ایک کامیاب زندگی گذار سکتا ہے لیکن اس کی بنیادی شرط یہ ہے کہ والدین بھی ان کے لئے ہر روز اخلاق حسنہ کی نئی شاہرائیں کھولیں اور انہیں کردار کے حسین باغات کی  انگلی پکڑوا کر سیر کروائیں۔
 


0
شیئر کیجئے:
फॉलो अस
नवीनतम