Code : 761 21 Hit

جناب سیدہ کے کردار اور عمل کے آگے حقوق نسواں کے عالمی نعرے کھوکھلے ہیں

سیرت زہرا کی روشنی میں آزادی نسواں کے تصور اور نظریے پر عمل کر کے عورت حقیقی معنوں میں ترقی کرسکتی ہے۔

ولایت پورٹل:علامہ سید ساجد علی نقوی نے دختر رسول اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم حضرت سیدہ فاطمہ زہرا سلام اللہ علیہا کے یوم ولادت پرپیغام جاری کرتے ہوئے کہا ہے کہ جو لوگ اپنے آپ کو اسلام سے وابستہ رکھے ہوئے ہیں ان کی ہدایت اور رہنمائی کا منبع قرآن کریم اور سنت رسول اکرمؐ ہے اور یہ مسلمانوں کا مسلمہ و متفقہ عقیدہ ہے کہ قرآنی احکام کے مطابق پیغمبر گرامی ؐکی ذات مبارک عالم اسلام کے لئے نمونہ عمل ہے جبکہ پیغمبر اکرمؐ کی اپنی ہدایت اور رہنمائی کے مطابق خواتین عالم کے لئے بہترین نمونہ عمل اور آئیڈیل شخصیت جناب سیدہ فاطمہ زہرا ؑ کی ذات ہے، دختر رسول اکرم حضرت فاطمہ زہرا ؑ کے یوم ولادت کی مناسبت سے اپنے پیغام میں علامہ ساجد نقوی نے کہا کہ جناب سیدہ ؑکے بارے میں فرامین پیغمبر ایسی حقیقت ہیں کہ جسے تمام مسلمان تسلیم کرتے ہیں۔ جناب سیدہؑ کا دختر رسول ہونے کے حوالے سے احترام اور عقیدت اپنی جگہ ہے لیکن ان کا یہ پہلو سب سے منفرد اور نمایاں ہے کہ وہ عالم نسواں کے لئے قیامت تک نمونہ عمل ہیں، اس کا مطلب ہے کہ انہوں نے عمل اور اخلاق کے میدان میں اپنی زندگی کے جو اصول اور نقوش چھوڑے ہیں وہ دائمی اور ابدی ہیں کسی زمانے،معاشرے یا علاقے تک مخصوص نہیں ہیں،انہوں نے مزید کہا کہ جناب سیدہؑ ؑ کی یاد اور پیغام کو زندہ رکھنے کے تین طریقے ہیں پہلا یہ کہ ان کی ذات اقدس سے عقیدت و احترام اور محبت کا اظہار کیا جائے اور ان سے مکمل وابستگی دکھائی جائے۔ دوسرا یہ کہ ان کواسلام، انسانیت اور طبقہ نسواں کی خدمت کرنے پر خراج عقیدت و تحسین پیش کیا جائے۔ تیسرا یہ کہ ان کے چھوڑے ہوئے قطعی وحتمی نقوش اور اصولوں کو تلاش کرکے ان کا مطالعہ کیا جائے اور ان کو آج کے دور میں نافذ کرنے اور ان کی تطبیق کرنے کے طریقے تلاش کئے جائیں جس سے شریعت سہلہ کا تصور اجاگر ہو اور شریعت کی پابندی بھی برقرار رہے انسان شتر بے مہار نہ بنے بلکہ اسلامی احکامات کا پابند رہے جبکہ آسان شریعت کو بھی ساتھ ملا کر چلے،علامہ ساجد نقوی نے کہا کہ آزادی نسواں کے عالمی نعروں کو اگر حضرت سیدہ فاطمہ زہراؑ کے کردار کی روشنی میں دیکھیں تو موجودہ نعرے فریب اور دھوکے کے سوا کچھ نہیں البتہ سیرت زہرا کی روشنی میں آزادی نسواں کے تصور اور نظریے پر عمل کر کے عورت حقیقی معنوں میں ترقی کرسکتی ہے۔ معاشروں کی تعمیر کرسکتی ہے نئی نسلوں کی کردار سازی کرسکتی ہے ۔ سوسائٹی کو سنوارنے میں اپنا کردار ادا کرسکتی ہے اپنے ذاتی‘ اجتماعی اور معاشرتی مسائل کا حل تلاش کرسکتی ہے۔
تسنیم


0
شیئر کیجئے:
फॉलो अस
नवीनतम