Code : 743 23 Hit

جناب ام البنین(س) کی 5 اہم خصوصیات

جناب ام البنین(س) کے متعلق نقل ہوا ہے کہ جب آپ کو آپ کے چاروں بیٹوں سمیت امام حسین(ع)کی خبر شہادت موصول ہوئی تو فرمایا:’’اے کاش! میرے بیٹے اور جو کچھ زمین میں ہے سب کچھ حسین(ع) پر قربان ہوجاتا لیکن وہ زندہ بچ جاتے‘‘۔اس عشق سے لبریز جملے کو بہت سے محققین نے اہل بیت (ع) کے تئیں جناب ام البنین(س) کے عمیق عشق کا غماز قرار دیا ہے۔(۳)اور اسی طرح یہ امر بھی قابل ملاحظہ ہے کہ جناب ام البنین(س) کی خاندان عصمت و طہارت سے محبت و عشق ہمیشہ تاریخ اسلام سے آشنائی رکھنے اور تحقیق کرنے والوں کے لئے قابل رشک رہا ہے۔

ولایت پورٹل: تاریخ عالم و آدم میں ہمیشہ کچھ ایسی پاک طینت اور عالی مقام خواتین نے جنم لیا ہے کہ جن کے انداز زندگی اور طرز حیات سے متأثر ہوئے بغیر معاشرہ کا  کوئی شریف انسان نہیں رہ سکتا۔ان خواتین کا کردار ہر اعتبار سے تأسی اور پیروی کا لائق ہوتا ہے چاہے آپ ان کی اجتماعی زندگی کو لے لیجئے یا شوہر کی خدمت اور بچوں کی تربیت کو لے لیجئے۔چنانچہ ان کے چھوڑے ہوئے بے نظیر نقوش رہتی دنیا تک کے لئے مشعل راہ کی حیثیت رکھتے ہیں  ان خواتین کے درمیان ایک ایسی خاتون جناب ام البنین(س) ہیں جنہوں نے اپنے زمانے میں ایک ایسا اجتماعی اور تربیتی کردار ادا کیا کہ چار ایسے بہادر اور شجاع بیٹوں کی تربیت کی کہ جو اس مقام و منزلت پر پہونچنے جنہیں ولی خدا حجت زمان اور جانشین رسول اکرم(ص) کی معیت میں شہادت کے رفیع درجات نصیب ہوئے۔(۱)
حضرت ام البنین(س) چار شہیدوں کی ماں
جناب فاطمہ بنت حزام تاریخ کی ان عظیم المرتبت اور گرانقدر خواتین میں سے ہیں کہ جو حضرت فاطمہ زہرا(س) کی شہادت کے بعد امیرالمؤمنین(ع) کے حبالہ عقد میں آئیں اور جن کی آغوش میں چار بہادر اور جواں مردوں؛عباس،عبد اللہ ،جعفر و عثمان(ع) جیسے بچے پروان چڑھے کہ جنہوں نے آخری وقت تک حریم ولایت و امامت کی حفاظت و پاسداری میں شہید ہوگئے اور چونکہ آپ چار بیٹوں کی ماں تھیں آپ کو ام البنین(س) کہا جاتا تھا اور واقعہ عاشورا کے بعد اگرچہ ظاہری طور پر عزای حسینی(ع) کی داغ بیل جناب زینب علیا مقام(س) اور امام سجاد(ع) نے قید خانہ شام میں ڈالی لیکن وہ خاتون جس نے اس تحریک کا آغاز مدینہ میں کیا اور جب تک حیات رہیں امام حسین(ع) اور اپنے بچوں پر گریہ کرتی رہیں وہ عباس(س) کی ماں ام البنین(س) کے علاوہ کوئی اور نہیں ہیں۔
ام البنین(س) کی پانچ اہم خصوصیات و امتیاز
۱۔اہل بیت(ع) کی معرفت اور محبت
حضرت ام البنین(س) کی ایک اہم اور ممتاز خصوصیت آپ کا اہل بیت(ع) کی نسبت حقیقی عرفان اور حریم اہل بیت(ع) کی حفاظت و پاسداری تھا۔دنیا کی تمام مائیں اس امر کا بخوبی ادراک رکھتی ہیں کہ ان کی زندگی کا سب سے عزیز،گرانقدر اور خوبصورت سرمایہ ان کی اولاد ہوتی ہے۔اسی وجہ سے مائیں اپنی اولاد کی ترقی اور کمال تک پہونچانے کے سلسلہ میں کسی طرح کی کوشش اور تعاون سے دریغ نہیں کرتیں لیکن قرآن مجید کو سرمشق بنا کر اپنی اولاد کی تربیت کرنے والی مائیں حق و باطل کے درمیان رونما ہونے والے کارزار میں اس آئہ کریمہ پر عمل پیرا ہوتی ہیں:’’وَمَا كَانَ لِمُؤْمِنٍ وَلَا مُؤْمِنَةٍ إِذَا قَضَى اللَّـهُ وَرَسُولُهُ أَمْرًا أَن يَكُونَ لَهُمُ الْخِيَرَةُ مِنْ أَمْرِهِمْ‘‘۔(۲)
ترجمہ: اور کسی مؤمن مرد یا عورت کو اختیار نہیں ہے کہ جب خدا و رسول کسی امر کے بارے میں فیصلہ کردیں تو وہ بھی اپنے امر کے بارے میں صاحبِ اختیار بن جائے۔
لہذا ایسے وقت میں جب اسلام کو ضرورت تھی اور شریعت کا تقاضہ تھا ام البنین(س) نے حریم اہل بیت(ع) کی حفاظت اور تحفظ اور اللہ تعالٰی کی فرمانبرداری میں اپنے سب سے قیمتی سرمائے کو حق پر قربان کردیا۔
چنانچہ اس با عظمت خاتون اور شہداء کی ماں کے متعلق نقل ہوا ہے کہ جب آپ کو آپ کے چاروں بیٹوں سمیت امام حسین(ع)کی خبر شہادت موصول ہوئی تو فرمایا:’’اے کاش! میرے بیٹے اور جو کچھ زمین میں ہے سب کچھ حسین(ع) پر قربان ہوجاتا لیکن وہ زندہ بچ جاتے‘‘۔اس عشق سے لبریز جملے کو بہت سے محققین نے اہل بیت (ع) کے تئیں جناب ام البنین(س) کے عمیق عشق کا غماز قرار دیا ہے۔(۳)اور اسی طرح یہ امر بھی قابل ملاحظہ ہے کہ جناب ام البنین(س) کی خاندان عصمت و طہارت سے محبت و عشق ہمیشہ تاریخ اسلام سے آشنائی رکھنے اور تحقیق کرنے والوں کے لئے قابل رشک رہا ہے۔(۴)
چنانچہ علم رجال کے ماہر جناب آیت اللہ مامقانی(رح) جناب ام البنین(س) کی ولایتمداری کے سلسلہ سے نقل کرتے ہیں:’’ فَاِنّ علَقَتها بالحسین (ع) لیس اِلاّ لاِمامته‘‘۔(۵)بتحقیق! جناب ام البنین(س) کا امام حسین(ع) سے عشق اور محبت حضرت کے امام منصوص من اللہ ہونے کے سبب تھا۔
۲۔شجاعت و غیرت
یہ ولایت مدار ماں جب روئے زمین کے سب سے بے رحم اور شقی ترین انسان سے روبرو ہوئی تو یہ ثابت کردیا کہ اس نے شجاعت و غیرت کے تمام  علاقوں  کو فتح کرلیا ہے چونکہ ایسے حالات میں بہت ہی کم ایسی خواتین ہوتی ہیں جو اپنے توازن کو برقرار رکھ سکیں۔ وہ اخلاقی فضائل،غیرت و شجاعت کے منتھی الیہ پر فائز تھیں۔چونکہ آپ کا تعلق عرب کے اس خاندان سے تھا کہ جو شجاعت و دلیری میں اپنی مثال آپ تھا جیسا کہ کتب تواریخ میں نقل ہوا ہے کہ امام علی(ع) نے اپنے بھائی جناب عقیل(عرب کے مشہور نسب شناس) سے فرمایا تھا:’’ اُنْظُرْ لِى اِمْرَأَةً قَدْ وَلَدَتْها الْفُحُولَةُ مِنَ الْعَرَبِ لِاَتَزَوَّجَها فَتَلِدَ لِى غُلاماً فارِساً‘‘۔(۶)میری لئے کسی ایسی خاتون کو تلاش کرو کہ جو عربوں کے دلیر خاندان سے ہو تاکہ میں اس سے شادی کروں اور وہ بہادر اور شجاع بچوں کو جنم دے۔
۳۔بصیرت و آگاہی
ماؤں کے دلوں میں محبت و رحمت الہی کے دریا بہتے ہیں یہی وجہ ہے کہ کوئی بھی ماں اپنے بچے کے لئے چھوٹی سی مصیبت کو بھی پسند نہیں کرتی لیکن فاطمہ بنت حزام یعنی ام البنین(س) بخوبی واقف ہیں کہ ولایت و امامت کے تحفظ کی خاطر انہیں اپنے بچوں کو قربان کرنا ہوگا ،ان کے چاروں بیٹے شہید ہوجائیں انہیں یہ تو منظور ہے لیکن پیغمبر اکرم(ص) کی ذریت پر مصیبت وارد نہ ہو چنانچہ جب بشیر بن جزلم نے مدینہ آکر بی بی کو ان کے بیٹوں کی شہادت کی خبر دی تو آپ نے بشیر کو مخاطب کرتے ہوئے کہا:’’ قَطَّعْتَ نِیاطَ قَلْبِى، اَخْبِرْنِى عَنْ اَبِى عَبْدِ اللَّه‏ علیه‏السلام اَوْلادِى وَمَنْ تَحْتَ الْخَضْراءِ كُلُّهُمْ فَداءً لِاَبِى عَبْدِ اللَّهِ الْحُسَین‏ علیها السلام...‘‘۔(۷)اے بشیر! تونے اس ناگوار خبر سے میرے دل کی تمام بند توڑ دیئے۔ تو مجھے میرے آقا و مولا امام حسین(ع) کے بارے میں بتا۔میرے بچے اور ہر وہ چیز جس پر اس چرخ کہن نے سایہ کررکھا ہے وہ حسین(ع) کی خاک پا پر قربان۔بشیر نے  عرض کیا:’’اللہ تعالٰی ہمارے مولا امام حسین(ع) کی مصیبت کے سبب آپ کو صبر عطا فرمائے۔ بی بی کا یہ کلام اس امر کی نشاندہی کرتا ہے کہ آپ کس درجہ ایمان میں مستحکم اور اپنے امام کی پیروی کرنے میں سبقت رکھتی تھیں۔ اور اسی طرح آپ کا یہ فرمان:’’اگر حسین(ع) زندہ ہوں تو میرے چاروں بیٹوں کی شہادت کوئی عظمت نہیں رکھتی‘‘۔آپ کی بصیرت،علم معرفت اور حق شناسی کو آشکار کررہا ہے۔(۸)
۴۔قلعہ صبر و ضبط کی فاتح
شہداء کی ماؤں کے درمیان بہت ہی کم ایسی خواتین ہیں جن کے ایک ساتھ ایک ہی معرکہ میں ۴ بیٹے اسلام پر قربان ہوئے ہوں۔التبہ بیٹے کی جدائی ایک ایسا صدمہ ہوتا ہے کہ چار نہیں صرف کسی ایک بیٹے کی موت ہی ماں کے زمیں گیر ہونے کے لئے کافی ہوتی ہے لیکن اللہ رے ام البنین(س) کی عظمت آپ نے دین پر اپنے چار شجاع  اور بہادر بیٹے قربان کردیئے اور اپنے بیٹوں کی خبر شہادت سننے کے بعد زبان پر کوئی شکوہ نہ لانا اس ماں کی عظمت کو واضح کرنے کے لئے کافی ہے باوجود اس کے کہ بشیر نے آپ کے چار بیٹوں  کی خبر شہادت دی تھی لیکن آپ نے صبر کیا اور کچھ دریافت کیا تو صرف اپنے امام کے بارے میں۔(۹)
۵۔شہید پرور ماں
یقیناً جناب ام البنین(س) کی ایک اہم اور ممتاز خصوصیت آپ کا وہ کردار ہے جو آپ نے ایک ماں ہونے کے طور پر ادا کیا ہے چنانچہ ایسی ماں جس نے اپنے اخلاق اور تربیت سے ایسے بچوں کی تربیت کا فریضہ انجام دیا  ہو کہ جو تاریخ میں محبت اہل بیت(ع) کے بارز نمونے اور سرور شہیداں کے ہمرکاب ہوکر شہادت کے مقام پر فائز ہونے والے جواں مرد ہوں۔

۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

حوالہ جات:
1۔ اصفهانی، مقاتل الطالبیین، ۱۳۶۸ ق، ص ۸۲ -۸۴.
2۔ احزاب: 36.
3۔ حسون، اعلام النساء، ۱۴۱۱ ق، ص ۴۹۶-۴۹۷؛ محلاتی، ریاحین الشریعه، ۱۳۶۴ ش، ج ۳، ص ۲۹۳.
4۔ربانی خلخالی، ستاره درخشان مدینه حضرت ام‌البنین، ۱۳۷۸ ش، ص ۷.
5۔علامه مامقانی، تنقیح المقال، ج 3، ص 70.
6۔قمر بنی‌هاشم، عبدالرزاق المقرم، ص 15.
7۔ تنقیح المقال، شیخ عبداللَّه مامقانى، چاپ قدیم، ج‏2، ص‏128.
8۔سابق حوالہ، ص 128.
9۔ قمر بنی‌هاشم، عبد الرزّاق مقرّم، نشر حیدریه، نجف اشرف، 1369 ق، ص 19.


0
شیئر کیجئے:
फॉलो अस
नवीनतम