Code : 817 61 Hit

توبہ کس وقت کرنی چاہیئے؟

اللہ تعالیٰ بڑا رحمٰن اور رحیم ہے اس کے یہاں وقت کا گذرجانا معنٰی نہیں رکھتا چونکہ انسان وقت کا محتاج ہوتا ہے خالق وقت،وقت و زمانہ کا محتاج نہیں ہوتا اس کی بارگاہ میں جب آجائیے وہ ہمیں قبول کرلیتا ہے نہ اس کے یہاں توبہ کرنے کے لئے دن کی قید ہے نہ رات کی، نہ صبح کی نہ شام کی۔ اگر کسی چیز کی قید ہے تو یہ کہ اس کی بارگاہ میں پشیمانی کے ساتھ آئیں ۔اس کے یہاں خلوص دل سے آئیں اس کی بارگاہ میں یہ عزم لیکر آئیں کہ اب آئندہ گناہ نہیں کریں گے یعنی اگر توبہ کرنا ہے تو توبہ نصوح کرنا ہوگی۔ اس کی بارگاہ میں جب بھی ہم توبہ کے لئے آئیں وہ ہمیں قبول کرلیتا ہے۔

ولایت پورٹل: قارئین کرام! آپ دنیا کے کسی بھی ادارے یا شخصیت کے بنائے ہوئے قانون کی اگر خلاف ورزی کریں تو وقت ختم ہونے پر وہ آپ کی معذرت کو قبول نہیں کرتے اور کہتے ہیں کہ اس کا وقت فلاں تاریخ تک تھا لہذا اب خلاف ورزی کا ازالہ  کرنے کا وقت ختم ہوچکا۔لیکن اللہ تعالٰی ایسا نہیں ہے بلکہ وہ بڑا رحمٰن اور رحیم ہے اس کے یہاں وقت کا گذرجانا معنٰی نہیں رکھتا چونکہ انسان وقت کا محتاج ہوتا ہے خالق وقت،وقت و زمانہ کا محتاج نہیں ہوتا  اس کی بارگاہ میں جب آجائیے وہ ہمیں قبول کرلیتا ہے نہ اس کے یہاں توبہ کرنے کے لئے دن کی قید ہے نہ رات کی، نہ صبح کی نہ شام کی۔ اگر کسی چیز کی قید ہے تو یہ کہ اس کی بارگاہ میں پشیمانی کے ساتھ آئیں ۔اس کے یہاں خلوص دل سے آئیں اس کی بارگاہ میں یہ عزم لیکر آئیں کہ اب آئندہ گناہ نہیں کریں گے یعنی اگر توبہ کرنا ہے تو توبہ نصوح کرنا ہوگی۔ اس کی بارگاہ میں جب بھی ہم توبہ کے لئے آئیں وہ ہمیں قبول کرلیتا ہے۔
چنانچہ پیغمبر اکرم(ص) کا ارشاد گرامی ہے:’’جو بندہ اپنے رب کی نسبت جیسا گمان رکھتا ہے اللہ اس کے ساتھ ویسا ہی سلوک کرتا ہے‘‘۔
اب اگر انسان اس نیت کے ساتھ اللہ کی بارگاہ میں توبہ کرنے کے لئے جائے تو وہ قبول کرلے گا، تو ضرور اللہ اس کی توبہ کو قبول کرتا گا لیکن اگر خدا نخواستہ بدگمان ہوکر اور کشمکش کے عالم میں کہ معلوم نہیں میری توبہ قبول ہوگی یا نہیں اور مایوسی کے عالم میں جائے تو اس کی توبہ قبول نہیں ہوگی۔
اس حدیث شریف کے ضمن میں دوسری اہم چیز جو قابل غور ہے وہ یہ کہ اللہ کے رسول نے اس کی ابتداء میں جن کلمات کا استعمال کیا وہ یہ ہیں:’’ الله لا اله الا هو‘‘ جس کا مطلب یہ ہے کہ اللہ کے رسول نے قسم کھائی ہے اور یہ کلمہ اسم اعظم کا علاقہ ہے اور اگر بات اتنی سادہ ہوتی تو کبھی اللہ کا رسول قسم نہ کھاتا۔
یہی عمل ہمیں اہل بیت اطہار(ع) کی سیرت میں دیکھنے میں ملتا ہے کہ جب کوئی بھی ان کے یہاں معذرت کی خواہش لیکر آیا ہے ان ذوات نے اسے کبھی رد نہیں کیا بلکہ اسے معاف کردیا اور ہوتا بھی کیوں نہ؟ چونکہ یہی حضرات تو مظہر اتم صفات جلال و جمال الہی ہیں۔چنانچہ اس کے نمونوں سے تاریخ کے صفحات بھرے پڑے ہیں انہیں میں سے ایک حر بن یزید ریاحی اور دوسرا بشر حافی کے واقعات گواہ ہیں کہ اہل بیت(ع) نے ان لوگوں کی خطاؤں کو کیسے معاف کردیا۔اور جیسا کہ تاریخ میں ملتا ہے کہ جب حر بن یزید بن ریاحی اپنی غلطی و خطأ پر پشیمان ہوا اور معافی کے لئے آیا تو امام حسین(ع) نہ صرف یہ کہ اس کی خطاؤں کو معاف کردیا بلکہ اسے شہادت کی اجازت مرحمت فرما کر اپنی مکمل مرضی کا اعلان بھی کردیا۔
 


1
شیئر کیجئے:
फॉलो अस
नवीनतम